غیرملکی خط کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ اوپن سماعت کرے

سابق وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ میری کال کا انتظار کریں، جلد ان کو اسلام آباد بلائوں گا، پاکستان ہمارا ملک ہے، ہم اس میں تصادم نہیں چاہتے ہیں، غیرملکی مراسلے کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائیگی، شہباز شریف کو بنایا گیا کمیشن قبول نہیں کریں گے اور کان کھول کر سن لو اصل پارٹی اب شروع ہوئی ہے۔

مینار پاکستان لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ لاہور کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے، مجھے پتا تھا کہ آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے، میں نے کبھی اتنے بڑے جلسے سے خطاب نہیں کیا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نہ غلامی قبول کریں گے اور نہ ہی یہ امپورٹڈ حکومت قبول ہے، جب باہر سے سلیکٹ ہو کر لوگوں پر مسلط کی جاتی ہے تو وہ سلیکٹڈ حکومت ہوتی ہے، جو پیسہ لگا کر ضمیر خرید کر، سامراج کے جوتے پالش کرکے ہمارے اوپر مسلط کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ مجھ پر توشہ خانہ کے تحائف بھیجنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جوکہ میں نے آدھی قیمت پر خریدے اور ان سے حاصل ہونے والی رقم سے سڑک تعمیر کی جس سے عام لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے، روس اس لیے گیا کیونکہ وہ تیل اور گندم تیس فیصد سستی دے رہا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مغرب کو میرا اسلامو فوبیا پر بات کرنا اور جی حضوری سے انکار کرنا پسند نہیں آیا، جس کی وجہ سے میر جعفر اور میر صادق کا استعمال کیا گیا، شروع دن سے آزاد خارجہ پالیسی چاہتا تھا جوکہ پاکستانیوں کے مفاد کیلئے بنائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے حکومتیں گریں تو کرپشن پر گری، بینظیر بھٹو کی دو حکومتیں اور نواز شریف کی دو حکومتیں کرپشن کے الزامات پر گریں لیکن چیلنج کرتا ہوں کیا عمران خان نے لندن میں کوئی فلیٹ لیے یا جائیداد بنائیں, برصغیر میں سب سے کم بے روزگاری پاکستان میں تھی اور ہم نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا، پاکستان کی پوری دنیا نے مثال دی، جس نے کورونا میں بہترین انتظامات کیے، اپنی معیشت اور اپنے لوگوں کو بچایا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں 400 ڈرون حملے ہوئے، ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا لیکن میں باہر نکلا اور مذمت کی، سندھ ہاؤس میں میرے لوگوں کو خریدا جا رہا ہے اور سندھ پولیس منگوائی گئی، میں اپنے ججوں سے کہتا ہوں کہ کیا یہ آئینی خلاف ورزی نہیں ہے، ہمیں ووٹ دیں یا نہیں دینے لیکن خدا کے واسطے ان لوٹوں کو کبھی ووٹ نہ دینا، جن جن حلقوں میں یہ گئے تو معاف نہیں کرنا۔

عمران خان نے کہا کہ مجھ سے بہتر پاکستان کی سیاست میں امریکنوں کو کوئی نہیں جانتا ہے، پارلیمنٹ کا رکن تو دور کی بات ہے اپنا چپڑاسی بھی بنا دیں، یہاں اس کو ہمارا وزیراعظم بنا دیا ہے اور بیٹے کو وزیراعلیٰ بنادیا ہے جو رشوت دیتا تھا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ساڑھے 3 سال حکومت میں کوشش کرتا رہا ان کے کیسز آگے بڑھیں، آصف زرداری پر کیسز تھے، سندھ کے وزیراعلیٰ پر واضح کیس ہے لیکن کچھ ہوتا نہیں تھا، میرے نیچے نیب نہیں تھی، عدلیہ آزاد ہے، سوائے ایف آئی اے کے وہ افسران بھی ڈر ڈر کر کیسز بنا رہے تھے۔

عمران خان کے مطابق یہ جو چیف الیکش کمشنر کو مسلم لیگ (ن) میں کوئی عہدہ دو، میں کہتا ہوں مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کو بھی شرم آ جائے، اس نے سارے فیصلے ہمارے خلاف کیے، ہمیں بیرون ملک سے لوگوں نے فنڈ بھیجا جو پاکستان کو پیسے بھیجتے ہیں، یہ فارن فنڈنگ نہیں ہے۔

عمران کو نکالنے کی سازش امریکہ نے کی یا فوج نے؟

خیال رہے کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے گزشتہ روز خط میں کہا تھا ‘سیکیورٹی ایجنسیز کی جانب سے موصول ہونے والے شدید خطرات کی روشنی میں اور ضلعی اور صوبائی سطح پر کیے گئے انٹیلی جنس کے تازہ جائزے کے تحت یہ تجویز دی جاتی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو 21 اپریل 2022 کو گریٹر اقبال پارک لاہور میں خود موجود ہونے کے بجائے ویڈیو کانفرنس کے لیے ذریعے ورچوئلی اور ایل ای ڈی خطاب کرنا چاہئے۔

Back to top button