’’نیٹ فلکس‘‘ قانونی کارروائی کے شکنجے میں کیوں آ گیا؟

دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ’’نیٹ فلکس‘‘ کو اس کے پندرہ سال پرانے شو نے مشکل میں پھنسا دیا، مقبول ٹی وی شو ’’دی بگ بینگ تھیوری‘‘ میں بھارتی اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کی تضحیک پر متعلقہ قسط کو پلیٹ فارم سے ہٹانے کیلئے قانونی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
چک لوری اور بل پراڈی کا تخلیق کردہ ’’دی بگ بینگ تھیوری‘‘ اصل میں سی بی ایس پر 2007 سے 2019 کے دوران نشر کیا گیا، اگرچہ یہ شو نیٹ فلکس نے تیار نہیں کیا تھا لیکن بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں اسٹریمنگ کے لیے یہ شو اس کی لائبریری میں شامل ہے اور متھن وجے کمار چاہتے ہیں کہ اسٹریمنگ سروس اس قسط کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دے۔
22 ستمبر 2008 کو نشر ہونے والے شو کے دوسرے سیزن کی پہلی قسط میں ’دی بیڈ فش پیراڈائم‘ میں شیلڈن کوپر کا کردار ادا کرنے والے جم پارسن کو کنال نیر سے جو راج کوتھراپلی کا کردار نبھا رہے تھے، ان سے اختلاف کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
بھارتی اداکارہ ایشوریا رائے اور مادھوری ڈکشٹ کا موازنہ کرتے ہوئے شیلڈن کوپر نے ایشوریا رائے کو ’ غریب آدمی کی مادھوری ڈکشٹ’ کہا جس کا جواب دیتے ہوئے راج کوتھراپلی نے کہا کہ ’ایشوریا رائے ایک دیوی ہے جب کہ ان کے مقابلے میں مادھوری ڈکشٹ کوڑھ زدہ طوائف ہے۔
سیاسی تجزیہ کار متھن وجے کمار نے اس قسط کو جارحانہ اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس ایپی سوڈ کو اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹایا جائے، یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’یہ شو جنس پرستی اور صنفی بدتمیزی کو فروغ دیتا ہے، تجزیہ کار نے کہا کہ اگر نیٹ فلکس ان کے مطالبات کا جواب نہیں دیتا تو وہ مزید کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے ٹوئٹر پر نوٹس شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شو کے ڈائیلاگ سے بہت پریشان ہوئے اور انہیں بھارتی ثقافت اور خواتین کے خلاف انتہائی ہتک آمیز اور جارحانہ پایا۔انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ نیٹ فلکس جیسی کمپنیوں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ان کمیونٹیز کی ثقافتی اقدار اور جذبات کا احساس کریں جنہیں وہ سروسز فراہم کر رہی ہیں، مجھے یقین ہے کہ اسٹریمنگ سروس فراہم کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر پیش کردہ مواد کا احتیاط سے جائزہ لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کمپنیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ جو مواد پیش کرتے ہیں اس میں توہین آمیز، جارحانہ یا ہتک آمیز مواد شامل نہیں ہو، میں نیٹ فلکس کے ایک شو بگ بینگ تھیوری میں توہین آمیز اصطلاح کا استعمال دیکھ کر بہت پریشان تھا، یہ اصطلاح معروف اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کے حوالے سے استعمال کی گئی تھی جو نہ صرف ناگوار اور شدید تکلیف دہ تھی بلکہ ان کے شخصی وقار کے بھی خلاف تھی۔
متھن وجے کمار نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹریمنگ سروس فراہم کرنے والوں کو ایسے مسائل کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور کسی بھی قسم کے توہین آمیز یا ہتک آمیز مواد سے متعلق معاملات کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہئے، انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ اسٹریمنگ سروسز کو ایسے مواد کو اپنے پلیٹ فارمز پر نشر ہونے سے روکنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ تمام شائع شدہ مواد کے لیے واضح رہنما اصول اور سخت اسکریننگ کے ذریعے اس طرح کی شکایات سے بچا جا سکتا ہے جبکہ لاکھوں افراد اسٹریمنگ سروسز کا استعمال کرتے ہیں، مجھے امید ہے کہ یہ واقعہ تمام اسٹریمنگ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک ویک اپ کال ثابت ہوگا۔
اس معاملے پر ایشوریہ رائے بچن کی ساس اور لیجنڈ اداکارہ جیا بچن نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بندہ (کونال نیئر) پاگل ہے کیا؟ بڑی گندی زبان ہے اس کی، اسے تو پاگل خانے بھیج دینا چاہئے اور اس کی فیملی سے پوچھنا چاہئے کہ ان کے بیٹے نے جو کہا اس بارے میں ان کے کیا خیالات ہیں۔
اس کے علاوہ سینیئر اداکارہ ارمیلا نے بھی اس معاملے پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کیا؟! مجھے اس قسط کے بارے میں کچھ نہیں پتہ لہٰذا میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گی البتہ اگر یہ سچ ہے تو یہ اشتعال انگیزی سے بھی بڑھ کر ہے، یہ ان کی انتہائی گھٹیا ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، کیا واقعی وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی مذاق ہے؟
