ٹک ٹاک کونسا نیا فیچر متعارف کروانے والی ہے؟

معروف سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک نے کم عمر صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروانے کا اعلان کر دیا ہے، نئے فیچر سے کم عمر صارفین ٹک ٹاک پر زیادہ وقت نہیں گزار سکیں گے۔نئے فیچر سے کم عمر صارفین کو ٹک ٹاک پر صرف ایک گھنٹہ گزارنے کی اجازت ہوگی، جبکہ اس سے زائد وقت کے لیے ٹک ٹاک کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس وقت ٹک ٹاک سمیت دنیا کی کوئی بھی ایپلی کیشن یا ویب سائٹ ایسی نہیں ہے جو 18 سال سے کم عمر افراد کو اسکرین کم استعمال کرنے کی اجازت دینے کی پابند ہو۔

تاہم اب ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی ایپ پر ایسا بائی ڈیفالٹ فیچر پیش کیا جائے گا، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کے اکاؤنٹ کو یومیہ صرف ایک گھنٹے یعنی صرف 60 منٹ تک ایپ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

رائٹر کے مطابق ٹک ٹاک انتظامیہ نے تصدیق کی کہ فیچر جلد پیش کر دیا جائے گا، جس کے بعد دنیا بھر کے کم عمر افراد کے اکائونٹ دن میں صرف 60 منٹ تک ہی چلائے جا سکیں گے۔ رہورٹ کے مطابق ایک گھنٹے کا وقت مکمل ہونے کے بعد صارف کے پاس پاپ اپ ونڈو میں پیغام آئے گا کہ صارف کو دیا گیا وقت مکمل ہوچکا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تاہم فیچر کے تحت ابتدائی طور پر 18 سال سے کم عمر کے بچے چاہنے پر ایپلی کیشن کے استعمال کا وقت 60 منٹ سے بڑھا کر 100 منٹ تک کر سکیں گے تاہم بعد ازاں تمام 18 سال سے کم عمر صارفین کو یومیہ صرف 100 منٹ تک ہی ایپلی کیشن استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، مگر انہیں اختیار ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے ایپ کو استعمال کرنے کے وقت کا تعین کریں۔

اسی طرح ٹک ٹاک نے ایپلی کیشن پر والدین کی نگرانی کو بڑھانے کے لیے بھی چند نئے فیچر پیش کرنے کا اعلان کیا، جن کے تحت والدین اپنے بچوں کی ٹک ٹاک ایپ سے وہ مواد ہٹا سکیں گے جس سے متعلق ان کا خیال ہوگا کہ وہ ان کے بچوں کے لیے خراب ہے۔

اسی فیچر کے تحت والدین کو ایپلی کیشن کے فیچر میں بطور والدین اپنی تصدیق کرنی ہوگی، جس کے بعد ایپلی کیشن پر ان کے بتائے گئے نامناسب مواد کو بلاک کردیا جائے گا اور بچوں کے چاہنے کے باوجود بلاک کیے گئے مواد کو نہیں کھولا جائے گا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ فیچرز جلد ہی ٹک ٹاک پر پیش کر دیئے جائیں گے جب کہ فیچرز کو ماہرین صحت، والدین اور زائد العمر افراد اچھا قرار دیتے ہوئے ایپلی کیشن انتظامیہ کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

بھارتی مصنف جاوید اختر گلوکار ساحر علی بگا کے نشانے پر کیوں آگئے؟

Back to top button