سائنس دانوں نے ٹی بی کیلئےنئی ٹیسٹ ٹیکنالوجی تیار کرلی

یونیورسٹی آف کیلیوفورنیا، ڈیوس کے محققین نے تپِ دق (ٹی بی) کے لیے ایک نئی بلڈ ٹیسٹ ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔
نئی بلڈٹیسٹ ٹیکنالوجی بیماری کی فعال اور متعدی (پھیلنے والی) شکل کی درست شناخت کر سکتی ہے۔ اس پیشرفت کا مقصد نہ صرف تیز رفتار تشخیص اور بروقت علاج کو ممکن بنانا ہے بلکہ نشاندہی کے ذریعے ٹی بی کے پھیلاؤ کو بھی روکنا ہے۔
فی الحال استعمال ہونے والے ٹی بی ٹیسٹ یہ تفریق نہیں کر پاتے کہ انفیکشن فعال ہے یا پوشیدہ۔ اگرچہ ٹی بی، مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسس نامی جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے، لیکن صرف وہی افراد بیماری دوسروں تک منتقل کرتے ہیں جن میں انفیکشن فعال ہویعنی وہ کھانسنے، چھینکنے یا بات کرنے کے دوران جراثیم پھیلا سکتے ہیں۔
