کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری سے منسلک جرنیل کے خفیہ اکاؤنٹس

سوئس لیکس سکینڈل میں سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹننٹ جنرل اختر عبدالرحمن کے علاوہ جس لیفٹیننٹ جنرل کا نام آیا ہے وہ زاہد علی اکبر ہیں جو کہ ماضی میں پاکستانی ایٹمی پروگرام پر کام کرنے والی کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ زاہد اکبر ریٹائرمنٹ کے بعد نہ صرف واپڈا کے چیئرمین رہے بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی بنے۔ نیب نے سال 2000 میں انکے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے جرم میں ریفرنس دائر کیا تھا لیکن وہ بیرون ملک فرار ہو گئے۔ پھر سال 2015 میں انہوں نے نیب کے ساتھ 20 کروڑ روپوں کے عوض پلی بارگین ڈیل کر لی اور یوں انکے خلاف ریفرنس ختم کردیا گیا۔
سوئٹزرلینڈ کے معروف بینک کریڈٹ سوئیز کے ڈیٹا کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) زاہد علی اکبر نے اپنے خلاف ہونے والی نیب تحقیقات کے آغاز پر ایک کمپنی اکائونٹ کھولا اور نیب کی جانب سے اپنے خلاف کرپشن کا ریفرنس دائر کیے جانے کے ایک ماہ بعد ہی اسے بند کر دیا۔ اکائونٹ بند ہونے سے چار ماہ قبل تک اس میں تقریباً 11.8؍ ملین ڈالرز (یعنی 15.5؍ ملین سوئس فرانک) موجود تھے۔
تب نیب نے 77 ایسے فارن اکائونٹس اور جائیدادوں کا پتہ لگایا تھا جو نیب کے متعلق زاہد علی اکبر اور ان کے اہل خانہ کی ملکیت تھیں۔تب نیب تفتیش کار یہ تو بتا رہے تھے کہ ریٹائرڈ جرنیل نے تحقیقات کے دوران اپنی کچھ جائیدادیں فروخت کی تھیں جو قانوناً جرم ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے اسی دوران ایک بینک اکائونٹ کریڈٹ سوئیز میں کھول کر اس میں کروڑوں کی دولت چھپائی تھی۔
یاد رہے کہ جنرل زاہد علی اکبر آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے اور وہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری اور جی ایچ کیو کی تعمیرات کے شعبے کے سربراہ تھے۔ بعد ازاں وہ چئیرمین واپڈا اور کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔ نیب نے انہیں 1985ء اور اس کے بعد کمائی گئی مشکوک دولت پر پکڑا تھا جب ان کے نام پر درجنوں گھر، اور تجارتی اور زرعی جائیدادیں سامنے آئی تھیں۔
پہلی خریداری انہوں نے 1959ء میں 12 کنال کا گھر سرور روڈ راولپنڈی میں خرید کر کی، تب وہ فوج کی انجینئرنگ برانچ میں کیپٹن رینک کے افسر تھے۔ مجموعی طور پر نیب نے بتایا تھا کہ اُن کے پاس 26؍ کروڑ 76؍ لاکھ 9874؍ روپے کے اثاثہ جات تھے اور نیب کا کہنا تھا کہ یہ دولت ان کے آمدنی کے معلوم ذرائع میں شامل نہیں۔
بے نامی داروں کی جانب سے پٹیشن دائر کیے جانے کے بعد ان کے اثاثوں کی مالیت کم ہو کر 19؍ کروڑ 99 لاکھ 79 ہزار 273 ہو گئی۔ انہون نے کریڈٹ سوئیز بینک میں 2004ء میں اکائونٹ کھولا اور 2006ء میں بند کر دیا، اب اس بینک کا ڈیٹا سامنے رکھا جائے تو نیب کی جانب سے بتائی گئی رقم معمولی لگتی ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا کریڈٹ سوئیز میں ان کا صرف ایک ہی اکائونٹ تھا۔
بشری بی بی کا بیٹا شراب برآمدگی کے بعد جھگڑے پر گرفتار ہوا
زاہد علی اکبر کے خلاف نیب تحقیقات سال 2000 میں شروع ہوئیں اور ریفرنس جولائی 2006ء میں دائر ہوا لیکن تب تک ریٹائرڈ جرنیل ملک سے فرار ہو چکے تھے۔ احتساب عدالت نے انہیں مفرور قرار دیا اور ان کیخلاف ریڈ نوٹس جاری کیے گئے۔ 2013ء میں انہیں بوسنیا سے گرفتار کیا گیا لیکن پاکستان کے ساتھ قیدیوں کی حوالگی کا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں برطانیہ بھیج دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ زاہد کے پاس برطانوی شہریت تھی۔
بعد ازاں سال 2015ء میں انہوں نے کرپشن کے الزامات کو قبول کیا اور پلی بارگین کی درخواست دی جو 2016 میں منظور ہوئی۔ چنانچہ صرف 20؍ کروڑ روپے جمع کرانے پر انکے خلاف تمام تر الزامات ختم کیے گئے۔ لیکن اب کریڈٹ سوئیز کے لیک ہونے والے ڈیٹا سے پتا چلا ہے کہ ان کے بیرون ملک بھی لاکھوں ڈالرز کے خفیہ اکاؤنٹس موجود تھے۔
سابق کور کمانڈر راولپنڈی رہنے والے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے وابستہ تھے جو آرمی کے صدر دفتر یعنی ’جی ایچ کیو‘ راولپنڈی میں سول تعمیرات کے نگران تھے۔
بعد ازاں وہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں مامور رہے جو 1970 میں ایٹم بم کے خفیہ پروگرام کی تیاری سے متعلق تحقیق کا صف اول کا ادارہ تھا۔ صدر جنرل ضیا الحق نے انھیں میجر جنرل کے بعد لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنرل ضیا الحق کے رشتہ دار تھے اور دونوں جرنیلوں کی دوسری نسل میں شادیاں اس رشتے کا باعث بنی تھیں۔
1980 میں انھیں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انجینیئر اِن چیف کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ وہ کمانڈر 10 کور کے علاوہ چئیرمین واپڈا بھی رہے۔ 1984 سے 1989 تک اس عہدے پر وہ عارضی تبادلہ کی بنیاد مقرر ہوئے تھے۔انھوں نے ’ڈیفنس سائنس اینڈ انجینئرنگ آرگنائزیشن‘ کی سربراہی کی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی رہے۔ اُن کی سربراہی کے دور میں ہی پاکستان کی قومی ٹیم نے 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا۔
جنرل ضیا نے جنرل اکبر کو بھٹو کے قریبی حلقوں میں متعارف کروایا تھا جو اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے وزیراعظم بھٹو نے آرمی چیف جنرل ضیا سے بات کی کہ وہ ایک قابل انجینیئرنگ مینیجر تلاش کر کے دیں۔اگست 1976 میں تب بطور بریگیڈیئر کام کرنے والے زاہد علی اکبر کی شہرت پاکستان آرمی کے سول انجینیئرنگ منصوبوں کے ضمن میں تھی اور وہ اس لحاظ سے اچھی طرح جانے پہچانے جاتے تھے۔
تب کے آرمی چیف جنرل ضیا نے انھیں رازداری سے جاری ایٹم بم پروگرام کا حصہ بنانے کی منظوری دے دی اور انھیں کہا گیا کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملیں۔زاہد علی اکبر نے اس پختہ ڈھانچے کی تعمیر و تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا جس پر ڈاکٹر خان کے فراہم کردہ سینٹری فیوجز استوار ہوئے۔ سینٹری فیوجز ہی وہ چابی تھی جس کے ذریعے پاکستان کے ایٹم بم کے لیے افزودہ مواد مہیا ہوا۔
زاہد علی اکبر نے ایک کمیٹی بنائی جسے ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اس خفیہ منصوبے کی ضروریات پورا کرے گی اور مالی وسائل کی فراہمی کی نگرانی کرے تاکہ کہوٹہ میں سینٹری فیوجز سہولیات تعمیر ہو سکیں۔ 1980 میں زاہد علی اکبر کو ’تھری سٹار جنرل‘ کے عہدے پر ترقی دی گئی اور انھوں نے پاکستان آرمی کی انجینیئرنگ کور کے انجینیئر انچیف کے عہدے پر کمان سنبھال لی۔
فوج کے اندرونی حلقوں کے مطابق جنرل زاہد علی اکبر نے ملک کی انٹیلیجنس سروسز کے ساتھ قریبی اشتراک سے کام کیا۔ جنرل ضیا نے انڈین جوہری پروگرام پر خصوصی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری انھیں سونپی تھی۔ جنرل ضیا الحق نے ہی لیفٹیننٹ جنرل زاہد اکبر کو واپڈا کا چیئرمین بھی مقرر کیا تھا۔
1987 میں وہ ’فور سٹار‘ جنرل کے طور پر تقرری اور ترقی کی دوڑ میں بھی شامل تھے لیکن جنرل ضیا الحق اور وزیر اعظم جونیجو کے درمیان وائس چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کے بڑے تنازع میں ملوث ہو گئے۔ ’نائب آرمی چیف‘ پاکستان آرمی کی ’آپریشنل کمانڈ پوسٹ‘ عہدہ تصور ہوتا ہے۔ ابتدا میں ضیا نے سینیئر ترین لیفٹیننٹ جنرل مرزا اسلم بیگ پر ترجیح دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل اکبر کو ’وائس آرمی چیف‘ مقرر کیا تھا تاہم وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے اس تعیناتی کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا اور لیفٹیننٹ جنرل مرزا اسلم بیگ کی بطور وائس آرمی چیف تقرری پر اصرار کیا۔
چیئرمین واپڈا کے طور پر اُن کی تعیناتی کی توثیق کے بعد انھوں نے وزیراعظم بینظیر بھٹو کی حکومت میں بھی کام کیا تھا۔ 1989 میں لیفٹیننٹ جنرل اکبر کو ’ڈیسٹو‘ میں دوبارہ مقرر کر دیا گیا جہاں وہ ڈائریکٹر تھے۔ یہ ادارہ فوج کے خفیہ اور حساس منصوبوں سے متعلق تھا۔
