خفیہ ہاتھ گینگ وار سرغنہ عزیر بلوچ کی رہائی کے لیے کوشاں

کراچی گینگ وار کے مرکزی کردار عذیر جان بلوچ کو سزا سے بچانے کے لئے خفیہ ہاتھ اپنا کام دکھانے میں مصروف ہیں چنانچہ پراسیکیوشن اور گواہان کو دھمکایا جا رہا ہے جسکے نتیجے میں عزیر کو سنگین کیسز میں یکے بعد دیگرے عدالتوں سے بریت ملتی جا رہی ہے۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی مخالف عذیر بلوچ کی بریت کے پیچھے ایجنسیوں کا ہاتھ ہے اور وہی گواہان کو ڈرا دھمکا کر منحرف کروانے میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بلوچ کو 17 فروری 2022 کو 17ویں فوجداری مقدمے سے عدم ثبوت کی بنا پر بری کیا تھا۔ عذیر بلوچ پر الزام تھا کہ انہوں نے محمد شاہد کے ہمراہ 2012 میں نیپیئر تھانے کی حدود میں آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کیا تھا۔

تاہم جج نے فیصلہ دیا کہ کہ استغاثہ ملزم کے خلاف ثبوتوں اور گواہوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے اسے عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ عزیر بلوچ کے خلاف قتل، اقدام قتل، بھتہ، اغوا اور حالات خراب کرنے کے الزامات کی بنیاد پر اکثر مقدمات لیاری میں گینگسٹرز کے خلاف 2004 سے 2013 کے درمیان آپریشن کے دوران درج کیے گئے تھے۔

عزیر بلوچ لیاری گینگ وار کے سرغنہ ہیں اور پیپلز پارٹی سے باغی ہونے سے پہلے وہ لیاری کی پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ تھے۔ عزیر کے خلاف دہشت گردی اور قتل کے بیسیوں مقدمات درج ہیں اور اسکا شمار بدنام زمانہ گینگسٹرز میں ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ ابھی تک کسی بھی سول یا انسدادِ دہشت گردی عدالت میں اسے مجرم ثابت نہیں کیا جا سکا بلکہ حالیہ مہینوں کے دوران اسے سنگین کیسز میں دھڑا دھڑ بریت کا پروانہ ہی تھمایا گیا ہے جس کے پیچھے خفیہ والوں کی مہربانیاں کارفرما نظر آتی ہیں۔

کراچی کی سیشن عدالت سے عذیر بلوچ کے مسلسل بری ہونے کے حوالے سے پراسیکیوٹر نے حال ہی میں دلائل دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اسکے خلاف گواہان اور پراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ گزشتہ برس اسکے خلاف ایک مقدمہ قتل کے اہم گواہ اور تفتیشی افسر شہباب حیدر کو گینگ وار کے کارندوں نے قتل کردیا تھا اور اب دیگر گواہان سمیت لیاری ٹاسک فورس کے افسران اہلکاروں کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

’’حلف اٹھانا ہے تو سینیٹ میں آنا ہوگا‘‘

کراچی سینٹرل جیل جوڈیشل کمپلیکس میں سیشن عدالت کے روبرو عذیر جان بلو چ کے خلاف دھماکا خیز مواد اور اسلحہ رکھنے کے کیس کی سماعت کے دوران عذیر بلوچ کے مسلسل بری ہونے کے بارے پراسیکیوٹر نے دلائل میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ عذیر بلوچ کے گینگ وار کی جانب سے گواہوں و پراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس سے گواہان کے علاوہ عدالتی عملہ اور پراسیکیوشن کو بھی جان کا سنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ پراسیکیوٹڑ نے موقف اپنایا کہ ملزم عزیر جان بلوچ کے خلاف گواہی دینے کے لئے گواہان عدالت آنے پر آمادہ نہیں ہو رہے جس کی بنیاد پر عذیر بلوچ کو ریلیف مل رہا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ گواہوں کو تحفظ دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کا کام ہوتا ہے لہذا اگر سنگین مقدمات میں گواہی دینے والے منحرف ہو رہے ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ بھائی لوگ عذیر بلوچ کو بچانا چاہتے ہیں ورنہ گواہان کو جان کے تحفظ کی یقین دہانی کروا کر عدالت لایا جا سکتا یے۔

لیاری گینگ وار کے زیر حراست سربراہ عزیر جان بلوچ کے سنگین مقدمات میں عدم شواہد اور گواہوں کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے بری ہو جانے پر ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید اسے رہائی دلوا کر ایجنسیاں اسے پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

2016 میں سندھ رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے عزیر جان بلوچ پچھلے پانچ برس سے رینجرز کی تحویل میں ہیں اور انہیں جیل میں رکھنے کی بجائے کراچی میں آرام دہ میٹھا رام ہاسٹل میں رکھا گیا ہے جبکہ ہاسٹل کی عمارت کو سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے۔ رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کو جیل کی بجائے ایک ہاسٹل میں رکھنے کی بنیادی وجہ سیکیورٹی خدشات ہیں۔ تاہم یہ کراچی کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک خطرناک مجرم کو جیل کی بجائے جیل سے باہر آرام دہ ماحول فراہم کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2016 میں رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری سے پانچ برس پہلے ہی عزیر بلوچ نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا تھا اور لیاری کے علاقے میں بھٹوز کی داخلہ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ پیپلز پارٹی حکومت نے لیاری گینگ وار کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع کیا تھا تاکہ علاقے کے لوگوں کو امن فراہم کیا جا سکے۔

تاہم اپنی گرفتاری کے بعد ایجنسیوں کودیے گے اپنے اقبالی بیان میں اس نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ ماضی میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے ایماء پر قتل و غارت کی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ سال 2016 میں گرفتاری کے بعد عزیر بلوچ تین برس تک پاکستان آرمی کی کور 5 کی تحویل میں رہا اور پھر اسے صرف ایک مہینہ ہی سینٹرل جیل کراچی میں رکھے جانے کے بعد میٹھا رام ہاسٹل منتقل کر دیا گیا۔ عزیر جان کے خلاف مقدمات کی سماعت کراچی سینٹرل جیل میں خصوصی طور پر قائم عدالتوں میں کی جا رہی ہے۔

سینٹرل جیل کے اندر انسدادِ دہشت گردی اور سیشن کورٹ قائم ہے جہاں خطرناک ملزمان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔ تاہم حیران کن طور پر عذیر بلوچ اپنے خلاف بنائے گے درجن سے زائد سنگین مقدمات میں بری ہو چکا ہے جس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے اسے آزادی دلوانے کا فیصلہ کر رکھا ہے تاکہ مستقبل میں اسے خلاف استعمال کیا جا سکے۔

تاہم سکیورٹی ذرائع ان خدشات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عزیر کی رہائی کا امکان معدوم ہے کیونکہ اس کے خلاف دہشت گردی کے 50 مقدمات سمیت 40 سے زائد کیسز اب بھی زیر سماعت ہیں اور کسی نہ کسی کیس میں اسے سزا ضرور ہو جائے گی۔

Back to top button