اے آئی سے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا خفیہ سسٹم بے نقاب

مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگ کے دوران یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے ڈھائی سو سے زائد عسکری اور سیاسی قائدین کو جسمانی طور پر ختم کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک خفیہ نظام تیار کیا تھا جو نہایت موئثر ثابت ہوا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ہوشربا تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ سسٹم نہ صرف اہداف کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ حملوں کو غیر معمولی حد تک تیز، درست اور مؤثر بھی بناتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ میں اس کی قیادت کو جسمانی طور پر ختم کرنے کی مخصوص ذمہ داری اسرائیل کے سپرد تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت اب تک 250 سے زائد اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں اعلیٰ فوجی کمانڈر اور ریاستی اور سیاسی شخصیات شامل ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس خفیہ آپریشن کی بنیاد ایک جدید، خفیہ آلات آئی پلیٹ فارم ہے جو ایران کے اندر سے حاصل کیے گئے وسیع ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس ڈیٹا میں نگرانی کے کیمروں، موبائل کمیونیکیشن، ادائیگی کے نظام، انٹرنیٹ ٹریفک اور دیگر سرکاری و نجی ڈیٹا بیس شامل ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس سسٹم کی تیاری میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور فوج کے سائبر یونٹ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں میں اسرائیل نے ایران کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں دراندازی کی، جس کے نتیجے میں ہزاروں حساس ڈیٹا پوائنٹس تک رسائی حاصل ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کی جانب سے انٹرنیٹ کنٹرول اور سنسرشپ نے بالواسطہ طور پر اس عمل کو آسان بنایا، کیونکہ مرکزی ڈیجیٹل نیٹ ورک بننے سے بیرونی رسائی ممکن ہو گئی۔ اس طرح اے آئی سسٹم کو ایک مربوط ڈیٹا سسٹم ملا، جس سے اہداف کی شناخت میں غیر معمولی بہتری آئی۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ اے آئی پلیٹ فارم اپنے ٹارگٹس کے حوالے سے محض معلومات جمع نہیں کرتا بلکہ ان افراد کی روزمرہ حرکات، انکے سفر، ملاقاتوں اور سیکیورٹی روٹینز کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کسی بھی ہدف کی درست لوکیشن اور وقت کا تعین ممکن ہو جاتا ہے، جس کے بعد فوری کارروائی کی جاتی ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اس اے آئی ٹیکنالوجی کو بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے دیگر روایتی حربی طریقوں کے ساتھ بھی جوڑا ہے، جن میں خفیہ طور پر نصب بم، ڈرون حملے، اور سٹیلتھ طیاروں سے داغے گئے میزائل شامل ہیں۔ بعض کیسز میں اہداف کو ان کے گھروں میں سوتے ہوئے نشانہ بنایا گیا اور وہ انکھیں کھولنے سے پہلے ہی مارے گئے۔
اس آرٹیفیشل انٹیلی جینس سسٹم کی ایک اہم خصوصیت ریئل ٹائم اپ ڈیٹس ہے، جس کے ذریعے دورانِ پرواز میزائل کا رخ بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف ہدف کی درستگی بڑھتی ہے بلکہ انسانی مداخلت کا وقت بھی کم ہو جاتا ہے۔
تاہم، اس خوفناک ٹیکنالوجی کے استعمال نے سنگین خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بعض حملوں میں غلطیوں کے امکانات بھی سامنے آئے، جیسے ایک ایرانی سکول کو فوجی ہدف سمجھ کر نشانہ بنایا گیا، جس میں 250 سے زائد سکول کی بچیاں شہید ہو گئیں۔ اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی پر بڑھتا ہوا انحصار جنگ کے اخلاقی پہلوؤں کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اگرچہ یہ نظام فیصلہ سازی کو تیز کرتا ہے، لیکن غلط ڈیٹا کے باعث ٹارگٹس پر حملوں کے مہلک نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
پاکستانی ثالثی سے گھبرا کر اسرائیل نے رقیق حملے شروع کر دیے
جنگی ماہرین کے مطابق اگرچہ اسرائیل کی اس خفیہ حکمت عملی نے قلیل مدت میں ایرانی قیادت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے ایرانی رہنماؤں کی جگہ اکثر نئے اور زیادہ سخت مؤقف رکھنے والے لوگ لے رہے ہیں، جس سے تنازع اور بھی زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
