سلامتی کونسل :پاکستانی اور بھارتی سفیر کے درمیان مباحثہ ، بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کھلے مباحثے کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بھارت کے جھوٹے دعوؤں کا مؤثر انداز میں جواب دے کر ایک بار پھر اس کا اصل چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کر دیا۔

مباحثے میں بھارتی نمائندے کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے عثمان جدون نے کہا کہ بھارتی مندوب نے ایک بار پھر اس اہم بین الاقوامی فورم کو جھوٹ اور گمراہی کا ذریعہ بنایا، اور بے بنیاد الزامات عائد کرکے سلامتی کونسل کو غلط معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی دعووں کے برعکس، زمینی حقائق بالکل واضح اور ناقابل تردید ہیں۔ بھارت جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کیے ہوئے ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود بھارت ہی اس تنازع کو سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا اور اب وہ ان ہی قراردادوں پر عملدرآمد سے انکار کر رہا ہے۔

عثمان جدون نے بھارت پر پاکستان میں دہشتگردی کی منظم معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اندرون ملک اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک کر رہا ہے، جس کی گواہی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں موجود ہے۔

عمران خان کے بیٹوں کی امریکی سینیٹر رچرڈ گرینل سے ملاقات

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوشش کی، جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کا مقصد پاکستانی عوام کو دریائے سندھ کے پانی سے محروم کرنا ہے۔

پاکستانی سفیر نے انکشاف کیا کہ 7 سے 10 مئی کے درمیان بھارت نے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کی، جس کے جواب میں پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کو بروئے کار لاتے ہوئے مؤثر اور ذمہ دارانہ ردعمل دیا۔ اس دوران بھارت کے چھ جنگی طیارے تباہ کیے گئے اور اسے دیگر عسکری نقصانات بھی اٹھانے پڑے۔

عثمان جدون نے آخر میں کہا کہ بھارت کو اپنے تکبر، جارحانہ پالیسیوں اور غیرذمہ دار رویے سے باز آ کر حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسے خود احتسابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی روش تبدیل کرنا چاہیے۔

Back to top button