سلامتی کونسل : پاکستان کی ایران پر حملوں کی مذمت اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ

 

 

 

سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے امید ظاہر کی کہ خلیجی ممالک کی سرزمین پر حملے فوری طور پر بند ہوں گے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کےحقوق اور آزادیوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا،ان ممالک کو جنگ کے بدترین نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہیے تھا،پاکستان ان کی حکومتوں اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

مستقل مندوب عاصم افتخار نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پر ہونےوالے حملوں میں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جب کہ خلیجی ممالک میں مقیم کئی لاکھ پاکستانی شہری اس صورت حال سے متاثر ہورہے ہیں۔

عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان روسی فیڈریشن کی جانب سے پیش مسودہ قرارداد کو بھی مثبت نظر سےدیکھتا ہے،جو اقوام متحدہ کے منشور کے دائرۂ کار میں رہتےہوئے مرتب کی گئی ہے۔روسی قرارداد کا بنیادی مقصد فریقین پر زور دینا ہےکہ وہ فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند کریں،مزید کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں،یہ مؤقف پاکستان کے مجموعی مؤقف کے عین مطابق ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان برادر ملک ایران کی سلامتی اور خود مختاری کی حمایت کرتا ہےاور کسی بھی ملک پر غیرضروری حملے پورے خطے کو ایک بڑے تنازع کی طرف دھکیل سکتے ہیں،حالیہ کشیدگی کے باعث شدید انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہےجس کے اثرات پوری دنیا پر پڑرہے ہیں،اس کے علاوہ فضائی آپریشنز میں خلل پڑنے سے ایوی ایشن سیکٹر بھی متاثر ہوا ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے زور دیاکہ میزائل اور ڈرون حملوں سے شہری آبادی اور املاک کو نقصان پہنچ رہا ہے،جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے،اقوام متحدہ کے چارٹر سےہٹ کر طاقت کا استعمال غیرقانونی ہے اور تمام فریقین پر بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری میں ہے،اعتماد کی بحالی کےلیے تمام فریقین کو نیک نیتی کے ساتھ اقدامات کرنا ہوں گے،کسی ایک ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خطے کے دیگر ممالک کو اپنی شرائط پر چلانے کی کوشش کرے۔

Back to top button