نواز شریف مخالف 6 جی آئی ٹی آئی اراکین کی سکیورٹی ختم

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے نواز شریف کے خلاف پانامہ سکینڈل کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے 6 اراکین کو فراہم کردہ رینجرز کی سیکورٹی پانچ برس بعد واپس لے لی گئی ہے۔ جن چھ لوگوں سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہے ان میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو بریگیڈیئرز بھی شامل ہیں جن کی پاناما جی آئی ڈی میں شمولیت کا بنیادی مقصد نواز شریف کی نااہلی کو یقینی بنانا تھا۔ جے آئی ٹی اراکین سے 2017 میں فراہم کی گئی سکیورٹی واپس لیتے وقت یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ نواز شریف کی بے دخلی کے اتنے برس گزر جانے کے بعد اب ان کے خلاف رپورٹ دینے والے جے آئی ٹی اراکین کو کوئی سکیورٹی خطرات لاحق نہیں رہے۔

بتایا گیا ہے کہ ان کے افسران کے علاوہ ان کے ماتحت عملے کو بھی سکیورٹی فراہم کی جارہی تھی جس پر ماہانہ 50 لاکھ روپے تک کا خرچہ ہو رہا تھا۔ یاد رہے کہ ان 6 جے آئی ٹی ارکان کو پاکستان رینجرز اور پولیس کی جانب سے فول پروف سیکورٹی فراہم کی گئی تھی۔ دوسری جانب جے آئی ٹی ارکان نے سیکیورٹی واپس لینے کے حکومتی فیصلے کو توہین عدالت قرار دے دیا یے۔ ان کا کہنا یے کہ پانامہ پیپرز کیس میں نواز شریف کے خلاف تحقیقات کرنے والے افسران کو سپریم کورٹ کی ہدایت پر ذاتی سیکورٹی فراہم کی گئی تھی اور اسے واپس لینا توہین عدالت ہے کیونکہ سپریم کورٹ کا حکم سے ابھی تک فعال ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی سپریم کورٹ نے پانچ مئی 2017 کو تشکیل دی تھی۔ اس جے آئی ٹی کو لندن میں شریف خاندان کی جائیدادوں کی منی ٹریل کا پتہ لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر نواز شریف کو سزا سنائی تھی لیکن بعد میں کوئی ایک بھی الزام ثابت نہیں ہو پایا۔

جی آئی ٹی کے چھ اراکین میں ملٹری انٹیلیجنس کے بریگیڈیئر کامران خورشید، انٹر سروسز انٹیلی جنس کے برگیڈئر نعمان سعید، قومی احتساب بیورو کے عرفان منگی، ایف آئی اے کے واجد ضیا، سیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز، اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بلال رسول شامل ہیں۔ تاہم دو فوجی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے بریگیڈیئر حضرات کا کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کی منظوری کے بغیر ان کی سیکورٹی واپس نہیں لے سکتی۔ جے آئی ٹی ارکان میں سے ہر ایک کو رینجرز اہلکاروں کے ساتھ دو گاڑیاں اور ایک ذاتی سیکورٹی گارڈ فراہم کیا گیا تھا جو انہیں ان کے دفتر لے جاتے اور۔گھر واپس لاتے تھے۔ جے آئی ٹی ارکان کے علاوہ ان 6 افسران کے معاون عملے کو بھی صبح اور شام کی دو شفٹوں میں دو دو پولیس اہلکاروں کی سیکورٹی فراہم کی گئی تھی۔

سینئر صحافی فخر درانی کے مطابق جے آئی ٹی کے ایک رکن نے کہا ہے کہ سیکیورٹی واپس لینا توہین عدالت ہے کیونکہ حکومت نے عدالت کی منظوری کے بغیر سیکورٹی واپس لے لی ہے۔ انہوں نے حکومتی فیصلے سے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنی سیکورٹی واپس لینے کے حکومتی فیصلے پر کچھ نہیں کر سکتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی سیکورٹی واپس لینے پر حکومت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے تو انہوں کہا کہ انہیں اس بارے میں یقین نہیں۔ دوسری جانب وزارت داخلہ کا کہنا یے کہ جے آئی تحلیل ہونے کے پانچ برس بعد اب اسکے ارکان کو کسی طرح کے سیکورٹی خطرات لاحق نہیں ہیں جس کے بعد سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذمہ داروں کے ایک فون پر اپوزیشن لیٹ گئی، وزیر داخلہ

یاد رہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اپریل 2017 میں جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر پانامہ پیپرز میں عائد کردہ الزامات کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جانا تھا۔ جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد 10 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لانے کا دعوی کیا گیا تھا۔ جے آئی ٹی کی پانامہ تحقیقات میں ملٹری انٹیلی جنس اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے دو افسران نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ بعد ازاں 28 مئی 2017 کو جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے صرف پانچ سماعتوں کے بعد نواز شریف کو مجرم قرار دے دیا تھا جس کے بعد وہ بطور وزیراعظم نااہل اہل ہو گئے تھے۔

Security of 6 GITI members against Nawaz Sharif ended

Back to top button