ایم کیو ایم کے اہم رہنماؤں اور وزرا کی سکیورٹی اچانک واپس

 

 

 

ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا ، اراکین اسمبلی اور رہنماؤں کی سکیورٹی اچانک واپس لے لی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار،  انیس قائم خانی اور سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشید کی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔
ایم کیو ایم کی جانب سے سکیورٹی واپس لیے جانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کی قیادت کے مطابق سکیورٹی واپس لینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر کی گئی تنقید اس اقدام کی وجہ ہوسکتی ہے۔

ایم کیو ایم نے واضح کیا ہے کہ وہ سانحہ گل پلازہ پر سوالات اٹھاتے رہیں گے۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت سمجھتی ہے لوگ گل پلازا کی آگ بھول جائیں گے،ایم کیو ایم شہری سندھ کی سب سے بڑی جماعت ہے،ہم سے اختلاف رکھیں لیکن اس ایجنڈے پر ہمارا ساتھ دیں۔اتنا بڑا سانحہ ہوگیا لیکن اسمبلی میں ہمیں بات کرنے نہیں دی جا رہی،سانحے کی تحقیقات کےلیے جب تک جوڈیشل کمیشن نہیں بنےگا ایوان میں احتجاج کرتے رہیں گے۔

دوسری جانب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے حکومت سندھ پر سخت تنقید کرتےہوئے کہا ہےکہ اگر سیاست کرنی ہے تو وہ اس کےلیے تیار ہیں، لیکن پہلے 88 لاشوں کا جواب دیاجائے،کئی متاثرین کی لاشیں تاحال نہیں مل سکیں اور باقیات کا بھی کوئی سراغ نہیں۔

گورنر سندھ نے کہا کہ 47 سال پرانی لیز نکال لی گئی لیکن آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہوسکی،ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں بلکہ اربابِ اختیار اپنے کرتوتوں پر نظر ڈالیں۔

 

 

Back to top button