سینیٹ :عورت کو برہنہ کرنے کے الزام پر سزائے موت کی شق ختم

سینیٹ نے فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل کثرتِ رائے سے منظور کرلیا، جس کے تحت خواتین کو اغوا یا عوامی مقام پر برہنہ کرنے جیسے جرائم میں ملوث افراد کو پناہ دینے پر سزائے موت ختم کردی جائے گی۔

سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کےلیے دعائے مغفرت کی گئی، وقفہ سوالات کے دوران این ایچ اے میں ایک افسر کی 16 سال سے ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کا انکشاف ہوا۔

سینیٹ سے منظور شدہ بل کے مطابق، اگر کوئی شخص کسی خاتون پر مجرمانہ حملہ کرے یا اسے عوام کے سامنے برہنہ کرے تو اسے وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا جاسکے گا۔ یہ جرم ناقابل ضمانت اور ناقابلِ مصالحت ہوگا، جب کہ ملزم کو عمر قید، جائیداد کی ضبطی اور جرمانے کی سزائیں دی جاسکیں گی۔

بل پر بحث کے دوران سینیٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا کہ خواتین کو برہنہ کرنے پر سزائے موت برقرار رہنی چاہیے، جب کہ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہاکہ سزا میں نرمی خواتین کو کمزور بنانے کے مترادف ہے اور یہ اقدام بیرونی دباؤ کے تحت کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ سمجھنا درست نہیں کہ سخت سزا جرم کی روک تھام کا مؤثر ذریعہ ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں 100 سے زائد جرائم میں سزائے موت موجود ہے، اس کے باوجود جرائم کی شرح کم نہیں ہورہی، جب کہ یورپ میں سزائے موت کا خاتمہ ہوچکا ہے اور وہاں جرائم کم ہیں۔

وفاقی وزارتِ داخلہ کا تمام ذیلی اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کا فیصلہ

وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ معمولی تنازعات، جیسے پانی کے جھگڑوں میں بھی بعض اوقات عورت کو برہنہ کرنے کا جھوٹا الزام لگاکر سزائے موت دلوانے کی کوشش کی جاتی ہے، جب کہ شریعت کےمطابق صرف چار جرائم پر سزائے موت دی جاسکتی ہے۔

Back to top button