سینیٹ الیکشن،PTIکی اکثریت ختم، اپوزیشن اتحاد نے بازی پلٹ دی

جے یو آئی ایک بار پھر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی اتحادی بن گئی۔ خیبرپختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں نے سینیٹ انتخابات میں متحد ہو کر پاکستان تحریک انصاف کو پچھاڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے متحد ہو کر خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن لڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ جس کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی میں اکثریت ہونے کے باوجود تحریک انصاف کا سینیٹ کی مطلوبہ نشستیں جیتنے کا خواب چکنا چور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔جس سےپی ٹی آئی کو سینیٹ الیکشن میں صرف شکست نہیں، بلکہ سیاسی تحقیر کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے
ذرائع کے مطابق آزاد اراکین اسمبلی کی ایک بڑی تعداد بھی حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ صف بندی کر رہی ہےخیبرپختونخوا اسمبلی کے آزاد اراکین کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دینے کی صورت میں پی ٹی آئی کا سینیٹ الیکشن میں مکمل کباڑہ ہوتا نظر آتا ہے۔ سینیٹ الیکشن سے قبل تحریک انصاف ایسی سیاسی چالوں میں گھری نظر آتی ہے جن سے اس کی جیت تو درکنار، ساکھ بچانا بھی دشوار ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ، جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان متحد ہو کر کے پی میں سینیٹ الیکشن لڑنے سے متعلق بات چیت آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ، جے یو آئی اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے امیدواروں کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ متحد ہونے پر ن لیگ اور پی پی پی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر جے یو آئی کے امیدوار دلاور خان کو ووٹ دیں گے جبکہ جے یو آئی اور ن لیگ خواتین کی نشست پر پیپلز پارٹی کی امیدوار روبینہ خالد کو ووٹ دیں گی۔اسی طرح پیپلز پارٹی اور جے یو آئی امیر مقام کے بیٹے اشتیاق کو جنرل نشست پر سپورٹ کریں گی۔ ذرائع کے مطابق تینوں جماعتوں کا دو روز بعد اپنی حکمتِ عملی کے باضابطہ اعلان کا امکان ہے۔
دوسری جانب بعض ذرائع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین صوبہ میں ایوان بالا انتخابات پر ڈیڈلاک کے خاتمہ اور بلامقابلہ انتخاب کیلئے خفیہ ابتدائی رابطوں اور مشاورت کا عمل جاری ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بلامقابلہ انتخاب کیلئے نشستوں کی تقسیم کا فارمولا بھی پیش کردیا گیا ہے، اپوزیشن نے ایوان بالا کی11 میں سے 5 نشستیں مانگ لی ہیں تاہم بلامقابلہ انتخاب کیلئے حکومتی فارمولا کے بعد ہی معاملات آگے بڑھنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے صوبے میں سینیٹ انتخابات کی راہ ہموار کرنے ،ڈیڈلاک کے خاتمے اور بلامقابلہ انتخاب کیلئے رابطوں کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کیلئے دونوں جانب سے ابتدائی خفیہ رابطے بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف پارلیمنٹریز اور جمعیت علمائے اسلام نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہےجبکہ اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی سے بھی رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے ، ذرائع کے مطابق اپوزیشن نےسینیٹ انتخابات میں بلامقابلہ انتخابات اور اس ضمن میں حکومت کیساتھ مذاکرات اور نشستوں کی تقسیم کیلئے مشاورت کی گئی ہے، ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے 11میں سے 5نشستوں کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ انتخابات کے انعقاد کی صورت میں اس وقت اپوزیشن جماعتیں ملکر4نشستیں باآسانی جیت سکتی ہیں جبکہ چار سے پانچ آزاد ارکان کی حمایت کے حصول کی صورت میں اپوزیشن پانچ نشستوں پر بھی فتحیاب ہوسکتی ہیں۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مشاورتی اجلاسوں کے کئی ادوار ہوچکے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے اعلیٰ سطحی وفد نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کیساتھ بھی ملاقات کی ہے،اس حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ خان نے بلامقابلہ انتخاب اور نشستوں کی تقسیم کی تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین رابطہ ہوا ہے انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن نہیں بلکہ حکومت کو خطرہ ہے کیونکہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد صورت حال بالکل واضح ہوچکی ہے ہم بآسانی چار نشستیں جیت سکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے بلوچستان اور خیبرپختونخوا ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے بدنام ہیں اس لئے ہماری کوشش ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکنے اور سیاست و جمہوریت کی ساکھ بحال و مضبوط کرنے کیلئے اتفاق رائے سے بلا مقابلہ سینیٹ انتخابات کا مرحلہ مکمل کیا جائے ۔
ذرائع کے مطابق جہاں ایک طرف سینیٹ انتخابات کے حوالے سے سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے وہیں دوسری جانب سینیٹ انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں پر حلف برداری کا تنازعہ ابھی حل ہونا باقی ہےجبکہ الیکشن کمیشن نے ایک مرتبہ پھر خیبر پختونخوا سے ایوان بالا کی11خالی نشستوں پر انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کی روشنی میں 21جولائی کو صوبائی اسمبلی میں نئے سینیٹرز کے انتخاب کیلئے پولنگ ہوگی، ایوان بالا کی 11نشستوں کیلئے25امیدوار مدمقابل ہیں ،7جنرل نشستوں کیلئے16، ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی دو ،دو نشستوں کیلئے بالترتیب5اور 4امیدوار میدان میں موجود ہیں تاہم خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات ہوں گے بھی یا نہیں اس حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے کیونکہ 27جون کو سپریم کورٹ کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد الیکشن کمیشن نے خواتین اور اقلیتی ارکان سے حلف لینے کیلئے سپیکر کو خط بھی ارسال کیا ہے جبکہ نو منتخب ارکان نے حلف برداری کیلئے اسمبلی سیکرٹریٹ میں درخواست بھی جمع کرائی ہے تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے اس مقصد کیلئے تاحال اسمبلی اجلاس بلانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث ایک مرتبہ پھر سینیٹ انتخابات پر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں، گزشتہ سال بھی مخصوص نشستوں پر حلف برداری نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات ملتوی کئے تھے جس کے باعث گزشتہ تقریباً17ماہ سے ایوان بالا میں خیبر پختونخوا کی 11نشستیں خالی ہیں۔
