سینیٹ میں عمران خان کی صحت سے متعلق قراردار مسترد ہونے پر اپوزیشن سراپا احتجاج

سینیٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی کی عمران خان کی صحت سے متعلق پیش کی گئی قرارداد مسترد کر دی گئی، جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر عون عباس پی نے ایوان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق قرارداد پیش کی، لیکن حکومت کی مخالفت کے باعث یہ منظور نہیں ہو سکی۔ قرارداد مسترد ہونے پر پی ٹی آئی کے سینیٹرز چئیرمین ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور شدید نعرے بازی کی۔
سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کا 25 مرتبہ طبی معائنہ کرایا
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہتے ہیں، تو اس معاملے پر آج بات کی جا سکتی تھی، قرارداد پیش کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی رہائش اور سیکورٹی کی صورتحال واضح ہے، اور سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ وہ جیل میں مطمئن ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کا جیل کے ڈاکٹر ہر دوسرے روز معائنہ کرتے ہیں اور اب تک باہر کے ڈاکٹروں نے 25 مرتبہ چیک اپ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کی پٹیشن پر فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا اور کہا کہ اگر وہ کسی اور ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہتے ہیں تو حکومت اس پر عمل کرے گی۔
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آنکھ کی بینائی اچانک ختم نہیں ہو سکتی، اور بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے لاپرواہی برتی گئی ہے۔ ان کے مطابق جن ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا گیا وہ ماہر نہیں تھے اور وکلاء و اہلخانہ کو مطلع نہیں کیا گیا۔
راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ جیل میں صرف سیاستدان نظر آتے ہیں، کوئی جرنیل، بیوروکریٹ یا جج نہیں، اور سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق صحت کے حوالے سے غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔
