ایران کیخلاف فوج کارروائیاں روکنے کی قرارداد مسترد،امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کو فری ہینڈ دیدیا

امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف مزید فوجی کارروائیاں روکنے کی قرار داد مسترد کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فری ہینڈ دیدیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کی سینیٹ نے ایک اہم وار پاورز قرارداد کو مسترد کر دیا، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر جاری فوجی کارروائیوں روکنے اور کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید حملوں کے اختیارات محدود کرنا تھا۔
قرارداد کو 47–53 ووٹوں سے مسترد کیا گیا، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا قانونی دائرہ برقرار رہ گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ قرارداد سینیٹر ٹم کین نے پیش کی تھی اور 26 دیگر سینیٹرز نے حمایت کی، تاہم ری پبلکن ارکان نے اکثریت کے ساتھ اس کی منظوری روک دی۔
سینیٹر رینڈ پاؤل واحد ری پبلکن تھے جنہوں نے حمایت کی، جبکہ ڈیموکریٹس میں سے سینیٹر جون فیٹرمین نے مخالفت کی۔
سینیٹ سیشن کے دوران شدید بحث ہوئی، جس میں ڈیموکریٹس نے زور دیا کہ کانگریس کو جنگی فیصلوں پر کنٹرول ہونا ضروری ہے اور صدر کو ایک شخصی جنگ شروع کرنے سے روکا جانا چاہیے۔
سینیٹر ایڈم شف نے کہا کہ قرارداد صرف جنگ روکنے کے لیے نہیں بلکہ صدر کے غیر محدود اختیارات اور توازن برقرار رکھنے کے لیے ہے۔
دوسری جانب ری پبلکن ارکان نے صدر کی فوجی کارروائیوں کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
