عاصم منیر کے 2030 کے بعد بھی اقتدار میں رہنے کا امکان

 

 

 

27 ویں ترمیم کے بعد اسلام آباد میں سیاسی صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے اور شہباز حکومت کے پلڑے میں موجود رہا سہا وزن بھی واضح طور پر فوج کے پلڑے میں چلا گیا ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اب نہ صرف تینوں مسلح افواج کی سربراہی سنبھالنے جا رہے ہیں بلکہ انکی مدتِ ملازمت بھی دوبارہ سے شروع ہو چکی ہے، جسکا مطلب یہ ہے کہ وہ کم از کم 2030 تک اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مستقبل میں جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت میں دوبارہ توسیع کے امکانات بھی رد نہیں کیے جا سکتے۔ انکے نزدیک اس پیش رفت نے موجودہ حکومتی اور سیاسی ڈھانچے کے حوالے سے موجود بے یقینی کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔

 

بلال غوری کے مطابق 27ویں ترمیم کے منظور ہونے کے بعد اب ظاہر ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور "اِن ہاؤس تبدیلی” کا امکان تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ موجودہ صورت حال میں وزیراعظم شہباز شریف کے متبادل کا کوئی تصور موجود نہیں کیونکہ تمام اختیارات کا مرکز ویسے بھی آرمی چیف کی ذات بن چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2029 کے عام انتخابات بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نگرانی میں ہوں گے اور اس کے بعد اگر کوئی تبدیلی آئی تو وہ پارلیمانی قوت کے بجائے کسی "غیبی امداد” کے نتیجے میں ہی سامنے آ سکتی ہے۔

 

بلال غوری کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 28ویں آئینی ترمیم لانے پر غور کر رہی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں تبدیلی کی جائے گی، جس میں صوبوں کا موجودہ مالیاتی حصہ کم کر کے وفاق کا حصہ بڑھایا جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باعث این ایف سی سے متعلق نکات وقتی طور پر نکال دیے گئے تھے، تاہم اب طاقتور فیصلہ سازوں کے ایما پر حکومت انہیں 28ویں ترمیم میں شامل کرنے جا رہی ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق مجوزہ ترمیم میں صرف این ایف سی فارمولے کی تبدیلی ہی نہیں بلکہ تعلیم کا شعبہ صوبوں سے واپس لے کر دوبارہ وفاق کے ماتحت کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ تو ہم دیکھنا یہ ہوگا کہ نون لیگ کی حکومت پیپلز پارٹی کو اٹارویں آئینی ترمیم ریورس کرنے پر کیسے آمادہ کرتی ہے۔

 

بلال غوری کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد موجودہ "ہائبرڈ سیٹ اپ” جن خطرات سے گھرا ہوا دکھائی دیتا تھا، وہ تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے پہلے یہ دعوے کئے جا رہے تھے کہ حکومتی اتحاد 27ویں ترمیم کے معاملے پر بکھر جائے گا، یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ نومبر کا مہینہ حکومت کیلئے سیاسی طور پر بھاری ثابت ہوگا، اور اندرون ملک پائے جانے والے خطرات کسی بڑی تبدیلی کا باعث بنیں گے، تاہم بلال غوری کے بقول یہ تمام خدشات اب دم توڑ چکے ہیں۔

 

بلال غوری کہتے ہیں کہ تحریک لبیک کے حوالے سے صورتحال بھی توقع کے برخلاف پرسکون رہی۔ اس شدت پسند مذہبی تنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ٹی ایل پی کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کے عرس کے موقع پر امن و امان کی صورتحال سنگین ہو سکتی ہے، مگر لبیک والوں نے خود ہی عرس کی تقریبات منسوخ کر دیں، جس سے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو کسی قسم کی سکیورٹی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

خرابی رافیل طیاروں میں نہیں بلکہ بھارتی پائلٹس میں تھی

ادھر تحریک انصاف کی قیادت نومبر میں احتجاج اور اسلام آباد پر یلغار کا منصوبہ بنا رہی تھی، لیکن حالیہ ضمنی الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد اب اس منصوبے پر نظر ثانی کی جا رہی ہے چونکہ تحریک انصاف کو شکست فاس ہوئی ہے اور اس کی سٹریٹ پاور فارغ ہو گئی ہے۔ ایک جانب پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا تو لیکن اب اپنی اپنی شکست کے بعد اس کی جانب سے حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں حالانکہ تحریک انصاف نے تو حکومتی اتحاد کے لیے میدان خالی چھوڑ دیا تھا۔

 

علاقائی صورتحال کی بات کی جائے تو پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کے باوجود افغانستان کی جانب سے کسی مہم جوئی کا خطرہ تاحال سامنے نہیں آیا۔ مذاکرات تعطل کا شکار ضرور ہیں، لیکن سرحد پر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا جس سے بحران بڑھے۔ دوسری طرف بھارت کے بارے میں یہ خبریں تھیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی رواں ماہ مشرقی سرحد پر "اَپریشن سندور” طرز کی کارروائی کے ذریعے اپنی سیاسی حمایت بحال کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، مگر دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی فضائیہ کا فخریہ لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوا، جس کے بعد نئی دہلی کے جارحانہ عزائم بھی عملی طور پر معدوم ہو گئے اور عالمی سطح پر انہیں سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

Back to top button