پیپلزپارٹی کی حمایتی شہباز حکومت کتنا عرصہ چلے گی؟

پیپلزپارٹی نے حکومت سازی میں جہاں نون لیگ کی حمایت کا اعلان کیا ہے وہیں دوسری طرف وفاقی حکومت میں وزارتوں کی بجائے صرف آئینی عہدے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے سامنے لایا جانے والا فارمولا زیادہ دیر تک چلتا دکھائی نہیں دیتا، مستقبل قریب میں یا تو پیپلز پارٹی حکومت میں شامل ہو جائے گی ورنہ یہ کمپنی بہت کم عرصہ ہی چل پائے گی۔
سیاسی اور انتخابی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ’ابھی ابتدا ہے، ابھی حکومت سازی میں کافی دن ہیں، اس وجہ سے عہدوں کی لے دے جاری رہے گی۔‘ان کے خیال میں اہم بات تو حمایت ہی ہوتی ہے جس کا پی پی پی نے اعلان بھی کر دیا ہے اور یوں وہ اتحادی بن گئے ہیں۔ احمد بلال کے مطابق ’آگے چل کر پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ بھی بن سکتی ہے۔‘
دوسری جانب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ ’ہم اس وجہ سے حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتے کیونکہ پھر ہم عوامی مسائل پر کُھل کر اظہار خیال نہیں کر سکیں گے اور بجٹ جیسے اہم موقع پر اپنی آزادانہ تجاویز نہیں دے سکیں گے۔‘ان کے مطابق ’یہ درست ہے کہ حمایت کا اعلان ہی اہم ہوتا ہے مگر اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہماری جماعت ملک کا سوچتی ہے اور کوئی بھی ملک بغیر حکومت کے نہیں چل سکتا۔‘ان کے مطابق ہم پانچ برس تک کسی بھی سیاسی حکومت کے چلنے کے قائل ہیں۔
اب اہم سوال تو یہی ہے کہ اب پیپلز پارٹی کا حکومت سازی میں کیا کردار ہو گا اور قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہو گی یا حکومتی بینچز پر بیٹھے گی؟تاج حیدر کا کہنا ہے کہ ’وزیر اعظم کو ووٹ دینے کے بعد ہم قومی اسمبلی میں دائیں جانب والے یعنی حکومتی بینچز پر ہی بیٹھیں گے۔‘
ن لیگ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والےصحافی سلمان غنی کے مطابق ’پیپلز پارٹی کا فارمولا مجھے قابل عمل نظر نہیں آ رہا ہے۔‘ان کی رائے میں ’22 فروری کو الیکشن میں کامیاب امیدواروں کا حتمی نوٹیفکیشن ہونا ہے۔ اس سے قبل بہت کچھ بدلے گا۔ یہ طے ہے کہ ن اور پی پی پی کو ہی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا ہو گا۔‘سلمان غنی کے مطابق پی پی پی کی ابھی کی حکمت کو دیکھیں تو وہ کسی قسم کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہیں مگر چاروں صوبوں کے گورنرز سمیت اہم آئینی عہدے مانگ رہے ہیں، یوں وہ ’دودھ میں سے ملائی اتارنا چاہ رہے ہیں۔‘
تاہم دوسری جانب تاج حیدر کے مطابق ’پیپلز پارٹی نے آئینی عہدے مانگے نہیں ہیں بلکہ یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ان آئینی عہدوں پر اپنے امیدوار سامنے لائے گی۔‘ان کے مطابق ’اب یہ تو ہمارا حق ہے کہ جب سینیٹ میں ہمیں اکثریت حاصل ہو جائے گی تو پھر چیئرمین سینیٹ بھی ہمارا ہی ہو۔‘تاج حیدر کے مطابق ’جہاں تک بات صدر مملکت کی ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت آصف زرداری ہی ملک میں وہ واحد شخصیت ہیں جو ادراک رکھتے ہیں اور ملک کو اُن مسائل سے باہر نکال سکتے ہیں جن کا پاکستان فی الوقت شکار ہے۔‘ان کے مطابق اس عہدے پر ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو حمایت کا یقین دلایا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے سے متعلق تاج حیدرکا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی دیگر جماعتوں سے روابط بڑھا کر کوشش کرے گی کہ یہ عہدہ بھی پی پی پی کے پاس رہے تاکہ اختلاف رائے کو کچلا نہ جا سکے۔
ادھر سلمان غنی کے مطابق ’بلاول بھٹو کا زیادہ انحصار ن لیگ پر ہی ہو گا کیونکہ ایم کیو ایم کے خلاف انھوں نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی میں اس جماعت کو 17 نشستیں دی گئی ہیں یعنی انھوں نے جیتی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت ملک کی سیاست گھمبیر ہو چکی ہے۔‘ پیپلز پارٹی سیاسی استحکام کی بات تو کرتی ہے ’مگر جب تک تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتی تو پھر کیسے ملک میں استحکام آئے گا؟
