شاہدخاقان نےکرپشن پرآئی ایم ایف کی رپورٹ کو لمحہ فکریہ قرار دیدیا

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی آئی ایم ایف کی کرپشن پررپورٹ کو حکمرانوں کیلئےلمحہ فکریہ قرار دیدیا۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں صرف وفاقی حکومت کے معاملات شامل ہیں۔ اگر صوبائی حکومتوں کی صورتحال بھی شامل ہوتی تو کرپشن کے بہت زیادہ واقعات سامنے آتے۔

شاہدخاقان نے کہا کہ  حکومت نہ کرپشن ختم کر سکی ہے اور نہ ہی معیشت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، قانون و آئین کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ترامیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو یہ احساس ہے کہ اس کے ملک پر کیا اثرات پڑیں گے؟ اگر ان ترامیم میں ملک و عوام کا فائدہ ہے تو بتایا جائے۔

شاہد خاقان نے کہا کہ اشرافیہ پالیسیوں کو کنٹرول کرتی ہے اور انہی پالیسیوں کے ذریعے کرپشن ہوتی ہے۔ ہیومن ڈیویلپمنٹ میں پاکستان ایک سو اٹھسٹھویں نمبر پر ہے۔ اصلاحات کے بغیر ملکی گروتھ ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ  عدل و انصاف اور قانون کا نظام بہتر کیے بغیر معاشی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ رپورٹ میں عدلیہ سے متعلق بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں خام خیالی ہے کہ ملک بہت ترقی کر رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ حکومت ترقی سے متعلق جو اعداد و شمار دے رہی ہے، وہ حقیقت سے بہت دور ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 2019 کا چینی سکینڈل سامنے آنے کے باوجود حکومت نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بدقسمتی سے آج بھی وہی طرز عمل جاری ہے۔ عوام کی جیب سے روزانہ ایک ارب روپے چینی مالکان کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔ چینی کرپشن کی بڑی مثال ہے۔ کرپشن پر نظر رکھنے والے ادارے بار بار نشاندہی کر رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔

Back to top button