بھارت کو مطلوب ’شاہد بھائی‘ کو سیالکوٹ میں’ را ‘نے مروایا؟

سیالکوٹ میں نامعلوم حملہ آوروں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے پٹھان کوٹ حملے میں انڈیا کو مطلوب مبینہ عسکریت پسند مولانا شاہد لطیف المعروف ‘شاہد بھائی’ کے قتل میں انڈین خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ڈسکہ میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے عسکریت پسند تنظیم کے مبینہ رکن شاہد لطیف کے قاتلوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے انسپیکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا اس واقعہ میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے تاہم پولیس پاکستان میں موجود تمام سہولتکاروں کی گرفتاری میں کامیاب ہو گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور انٹیلی جینس ادارے متحرک ہو گئے تھے جنھوں نے فوری طور پر شواہد حاصل کیے جس میں پتا چلا کہ ملزمان لاہور کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے لاہور، سیالکوٹ، قصور اور پاک پتن کی پولیس نے ایک ساتھ چھاپے مار کر گرفتاریاں کی تھیں۔واقعے میں ملوث زیادہ تر ملزمان کی نہ صرف شناخت کر لی گئی ہے بلکہ گرفتاریاں بھی ہو چکی ہیں۔

خیال رہے کہ سیالکوٹ میں نامعلوم حملہ آوروں نے پٹھان کوٹ حملے میں انڈیا کو مطلوب مبینہ عسکریت پسند مولانا شاہد لطیف المعروف ‘شاہد بھائی’ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیاتھا۔سیالکوٹ پولیس کے مطابق قتل کا واقعہ تحصیل ڈسکہ کے گاؤں منڈیکی گورائیہ میں بدھ کی صبح فجر کی نماز کے دوران پیش آیا۔ پولیس مبینہ طور پر کالعدم تنظیم ‘جیش محمد’ کے سابق عہدے دار اور اُن کے سیکیورٹی گارڈ کے قتل کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔پولیس کے مطابق نمازِ فجر کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کے دوران مسجد میں بھگدڑ مچ گئی اور اس دوران حملہ آور بھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔شاہد لطیف کا تعلق مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم جیش محمد سے بتایا جاتا ہے۔ان کے قتل کا مقدمہ پولیس مدعیت میں تھانہ صدر ڈسکہ میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں مسجد نور میں تعینات گارڈ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ 11 اکتوبر کی صبح تین نامعلوم نوجوان جن کی عمریں 20 سے 22 سال کے درمیان تھیں، مسجد میں نماز ادا کرنے کے بہانے سے داخل ہوئے تھے۔پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے میں کہا گیا تھا کہ جیسے ہی مسجد میں موجود افراد نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تینوں ملزمان نے فائرنگ کر دی جس سے مولانا شاہد لطیف کے علاوہ مولانا عبدالاحد اور ہاشم نامی افراد زخمی ہو گئے۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ مولانا شاہد لطیف نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ باقی دو زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا تھا جہاں ہاشم نامی زخمی بھی ہلاک ہو گیا۔

خیال رہے کہ مولانا شاہد لطیف کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تھا اور کئی سال سے وہ ڈسکہ کے علاقے میں مسجد نور مدینہ کے منتظم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔مولانا شاہد لطیف کے حوالے سے حاصل معلومات کے مطابق انھوں نے سوگواروں میں بیوہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔مولانا شاہد لطیف اپنے آبائی گاؤں میں شاہد بھائی کے نام سے جانے جاتے تھے جن کے بارے میں گاؤں میں یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ وہ 13 سال قبل بھارتی جیل میں 15 سال قید کاٹ کر پاکستان آئے تھے۔مولانا شاہد لطیف کا بظاہر اور کوئی کاروبار نہیں تھا، وہ مسجد سے ملحقہ رہائش گاہ میں اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ رہتے تھے اور دوپہر اور شام کو قرآن کی کلاسیں بھی پڑھاتے تھے۔ ان کا سیکیورٹی گارڈ ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا تھا۔

کشمیر کے امور پر نظر رکھنے والے صحافی ماجد نظامی کے مطابق 50 سالہ مولانا شاہد لطیف نے انڈیا کی جیل میں طویل عرصہ گزارا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’میری معلومات کے مطابق وہ 90 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر چلے گئے تھے۔ اس وقت ان کا تعلق کالعدم تنظیم حرکت المجاہدین سے تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ مولانا شاہد لطیف کچھ عرصہ تک انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حرکت المجاہدین کے ساتھ سرگرم عمل رہے۔

ماجد نظامی کے مطابق یہ حرکت المجاہدین کے ایک مشہور زمانہ رہنما سجاد افغانی کے گروپ میں تھے۔ سجاد افغانی افسانوی شہرت کے حامل رہے ہیں۔وہ بتاتے ہیں اس دوران مولانا شاہد وہاں گرفتار ہوگئے تھے اور انھیں انڈیا میں بنارس کی جیل میں رکھا گیا تھا۔سنہ 1999 میں جب قندھار طیارہ ہائی جیکنگ کا واقعہ پیش آیا تو مذاکرات کے آغاز میں جن 40 لوگوں کی رہائی کے لیے نام دیے گئے تھے ان میں مولانا شاہد لطیف کا نام بھی شامل تھا۔تاہم وہ کبھی بھی صف اول کی قیادت میں شامل نہیں رہے تھے بلکہ ان کا شمار دوسرے درجے کی قیادت میں ہوتا تھا۔ماجد نظامی کے مطابق بعد ازاں مذاکرات کے نتیجے میں صرف پانچ لوگوں کی رہائی ممکن ہوسکی تھی۔ جس میں مولانا شاہد لطیف شامل نہیں تھے۔ماجد نظامی کے مطابق مولانا شاہد 2010 میں انڈیا کی جیل سے رہا ہو کر پاکستان آئے تھے تاہم رہائی کے بعد وہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کم ہی رہائش پذیر رہے تھے۔ اس وقت سے اب تک یہ ڈسکہ ہی میں مقیم تھے اور مسجد نور مدینہ کے منتظم بنے تھے۔

ماجد نظامی کے مطابق کافی عرصہ سے بظاہر جیش محمد یا حرکت المجاہدین کے حوالے سے ان کی سرگرمیاں سامنے نہیں آرہی تھیں۔تاہم 2016 میں انڈیا کی فضائیہ کے ایئر بیس پٹھان کوٹ پر ہونے والے جس حملے میں نو عسکریت پسند اور انڈین سکیورٹی فورسز کے چھ اہلکار مارے گئے تھے، اس سلسلے میں ان کے نام انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ جاری ہوا تھا۔17 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس حملے سے متعلق انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس کی منصوبہ بندی میں مولانا شاہد لطیف بھی ملوث تھے۔

ماجد نظامی کے مطابق انڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے اس حملے کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنے والے کچھ لوگوں کے ایک گروہ کی فون کالوں کے ذریعے سے نشان دہی کی جس میں مولانا شاید لطیف بھی شامل تھے۔ جس کے بعد ان پر انڈیا میں باقاعدہ چند مقدمے بھی درج ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا شاہد لطیف کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو ابھی بھی انڈیا کو مطلوب تھے۔ انڈیا نے انٹر پول کی مدد سے ان کا ریڈ نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ماجد نظامی نے ان کے قتل کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لگ رہا ہے یہ ٹارکٹ کلنگ ہے۔‘

تنازعات کے حوالے سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی فیض اللہ خان بھی اس حوالے سے ماجد نظامی کی رائے سے متفق ہیں۔فیض اللہ خان کا کہنا تھا کہ مولانا شاید لطیف کا قتل چند دن قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے ایک اور کشمیری رہنما ابو قاسم کے قتل سے ملتا جلتا ہے اور تقریباً اسی طرح یہ قتل بھی ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا شاہد لطیف کا نام انڈیا کے زیر

نواز شریف 4 سال بعد سیدھے لاہور آئینگے یا اسلام آباد؟

انتظام کشمیر میں ہونے والی مختلف کارروائیوں میں لیا جاتا تھا۔

Back to top button