جسٹس منصور شاہ کی وجہ سے شاہزیب کا ڈرامہ سینسر ہو گیا

 

 

 

جیو نیوز کے معروف اینکر اور پہلی بار ڈرامہ نویسی کرنے والے شاہزیب خانزادہ کا لکھا ہوا ٹی وی ڈرامہ، سپریم کورٹ سے احتجاجاً مستعفی ہونے والے جسٹس منصور علی شاہ کے ذکر کے باعث سینسرشپ کا شکار ہوگیا ہے۔

 

شاہزیب خانزادہ کا یہ پہلا ڈرامہ ہونے کے باوجود اپنے طاقتور موضوع یعنی عورتوں کو ان کے قانونی حقوق کی آگاہی دینے کی وجہ سے غیر معمولی پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ جیو انٹرٹینمنٹ کے مقبول ڈرامے ’کیس نمبر 9‘ کی حالیہ قسط کے یوٹیوب ورژن سے ایک اہم سین حذف کر دیا گیا ہے، جس میں 26ویں آئینی ترمیم اور جسٹس منصور علی شاہ کے کردار کا براہِ راست حوالہ شامل تھا۔ یہ سین بدھ کی رات ٹی وی پر نشر ہوا مگر جمعرات کی صبح تک اسکے یوٹیوب ورژن میں سے اس کا وہ حصہ غائب تھا، جس نے ناظرین میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 

شاہزیب کا ڈراما ایک ایسی عورت کی انصاف کی جدوجہد کو بیان کرتا ہے جو عدالتی نظام کے ذریعے سچ کی تلاش کرتی ہے۔ حذف شدہ سین میں آمنہ شیخ کے کردار بینش (جو صبا قمر کے کردار سحر کی وکیل ہے) عدالت میں طاقتور دلائل دیتی ہے اور جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلوں کا حوالہ دیتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اگر 26ویں ترمیم نہ کی گئی ہوتی اور وہ ان کے راستے کی رکاوٹ نہ بنتی تو آج وہ پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔

 

ڈرامے میں منصور علی شاہ کا حوالہ دینے پر مخالف وکیل مرزا غالب کا شعر پڑھ کر جواب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ پارلیمنٹ ملک کا اعلیٰ ترین قانون ساز ادارہ ہے جس نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے 26ویں ترمیم منظور کی ہے اور ساری دنیا میں ترامیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ڈرامے کا یہ سین یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا تو شاہزیب خانزادہ نے خود ٹوئیٹر پر اس حصے کا غیر حذف شدہ کلپ شیئر کر دیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ سینسرشپ منصور علی شاہ کو چیف جسٹس نہ بنانے والے فقرے کی وجہ سے عائد ہوئی۔

 

یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ عدالتی اور سیاسی حلقوں میں ایک متنازع ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں ان کے مخالفین “عمرانڈو جج’’ قرار دیتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا بطور جج تحریک انصاف اور عمران کی طرف سیاسی جھکاؤ ہونا تھا۔ انکا یہ سیاسی جھکاؤ ان کے عدالتی فیصلوں میں بھی نظر آتا تھا اور اسی وجہ سے انہیں چیف جسٹس بننے کا بھینموقع نہیں دیا گیا۔

جنگی جہاز کی تباہی پر انڈیا کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا

یاد رہے کہ حال میں پارلیمنٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت عدالتی اصلاحات پاس کیں، جنہیں منصور علی شاہ نے جوڈیشل آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے استعفیٰ دے دیا۔ ایک اور عمرانڈو جج جسٹس اطہر من اللہ نے بھی ان کا ساتھ دیا اور وہ بھی مستعفی ہو گئے جس پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے جسٹس منصور علی شاہ نے 26ویں ترمیم پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے، اس ترمیم کی وجہ سے وہ چیف جسٹس بھی نہ بن سکے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال مقرر کی گئی، ججز کے سوو موٹو اختیارات محدود کیے گے، اور وزیراعظم کو اختیار دیا گیا کہ وہ تین سینئر ججز میں سے کسی کو بھی چیف جسٹس نامزد کر سکے۔ قانونی حلقوں کا دعویٰ تھا کہ اس کا مقصد منصور علی شاہ کو چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا۔

 

Back to top button