کیا مارننگ شو ہوسٹ شائستہ لودھی حقیقت میں ڈاکٹر ہیں؟

حال ہی میں نجی ٹی وی سے آن ائیر ڈرامہ سیریل ’’سمجھوتہ‘‘ میں نرگس کے کردار سے مقبولیت حاصل کر رہی اداکارہ و میزبان ڈاکٹر شائستہ لودھی نے بتایا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ڈاکٹر نہیں نام کے ساتھ ڈاکٹر لگا لیا ہے۔
شائستہ لودھی نے’سمجھوتہ‘ میں جاوید شیخ کے مقابل کام کیا ہے، اس ڈرامہ سیریل میں اُن کے کردار نرگس کی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے پہلی شادی ختم ہو چکی ہے اور دوسری شادی وقار نامی شخص سے ہوتی ہے جو اپنی بیوی کے انتقال کے بعد تنہا رہ جاتا ہے اور بچے اُس کی دیکھ بھال نہیں کر پاتے، بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ اِن موضوعات پر بات کی جائے۔
شائشہ کہتی ہیں کہ ’والدین جب ایک مخصوص عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور اگر اُن میں سے کوئی ایک اکیلا رہ جاتا ہے تو ہمارا زاویہ یہ ہے کہ اُن کی اپنی زندگی ختم ہو گئی یا ہو جائے گی۔ اولاد ہونے کے ناطے ہم اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پا رہے لیکن ہم نے یہ نہیں سوچنا ہے کہ ابا کی شادی کیسے کریں۔ مجھے لگا کہ یہ سوسائٹی کے لیے سوچنے کی بات ہوگی۔
شائستہ جذباتی انداز میں کہنے لگیں کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بڑوں کو بتائیں کہ اس سے آگے کی زندگی ہے۔ ہم اُن پر اُن کی زندگیاں تنگ کر دیتے ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ اب تک یہ بات ہمارے کسی ڈرامہ میں نہیں کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ ٹی وی پر ہم بزرگوں اور بچوں کو بالکل نظر انداز کرتے ہی اور صرف جوانوں کو خاطر میں لاتے ہیں کیونکہ اُس سے آپ کو ریٹنگ ملتی ہے۔ ہم کیوں چاہتے ہیں کہ ہمارے ابو کھانستے رہیں اور ہم اُنھیں کھانسی کا شربت دینے کے لیے کسی ملازم کو بھیج دیں یا خود اُنھیں دے دیں۔ ہم کیوں نہیں چاہتے کہ ہمارے والد اُٹھیں اور اُس عمر میں بھی کام کریں تاکہ وہ اپنے آپ کو ہمارے سوشل سیٹ اپ کا ایک ایکٹو ممبر سمجھیں۔ انھیں جیتے جی مار دیتے ہیں۔
میرے خیال میں اس ڈرامہ میں ہر ایک وہ فارمولا موجود ہے جس میں معاشرے کے لیے ایک سبق بھی ہے۔ اداکار جاوید شیخ اور صبا فیصل کے کرداروں کے درمیان محبت پر بات کرتے ہوئِے کہا کہ جہاں لوگ اُن کے رشتے کی خوبصورتی سے متاثر ہوئے ہیں وہیں سوشل میڈیا پر تنقید بھی کی جارہی ہے، مطلب اماں ابا ایک دوسرے کےساتھ اچھے نہیں ہو سکتے، صرف یہ نوجوان جوڑے ہیں جو ایک دوسرے کو پھول دیتے ہیں۔
’ہم پتا نہیں کن لو سٹوریز کی باتیں کرتے ہیں۔ اصل سٹوریز تو ہماری نانی اور دادیوں کی ہیں جنھوں نے ہمارے دبنگ اور ایلفا میلز کے ساتھ پوری عمر گزارہ کیا۔ اُس سے زیادہ مضبوط عورت کون ہوسکتی ہے اور وہ اس چیز کا جشن منانے کی حق دار ہیں لیکن ہم یہ سوچتے ہی نہیں۔انھوں نے بتایا کہ مارننگ شوز کی طرح ڈراموں میں بھی ریٹنگ کا پریشر ہوتا ہے اور ڈرامہ آن ائیر ہونے کے بعد بھی چینل کی طرف سے کچھ سینز ڈالنے کی فرمائش آتی ہے۔
ڈرامہ سیریل سمجھوتہ پر ملنے والے فیڈبیک کے بارے شائستہ لودھی نے بتایا کہ ’میں تو ہر ہفتے لاہور کا سفر کرتی ہوں تو جہاز میں لوگوں سے ملنے والے فیڈ بیک پر مجھے بڑا مزہ آتا ہے۔ایسے ہی ہوا کہ میں جہاز میں داخل ہوئی ہوں تو مجھے آوازیں آنے لگیں کہ نرگس میرے پاس، نرگس میرے پاس آؤ۔لوگ پیار کرتے ہیں اور ڈرامے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
وہ اپنے تجربات سے متعلق مزید بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ لوگ کہتے تھے کہ ’یہ تو بس مارننگ شو میں میک اپ کر کے بیٹھ جاتی ہیں۔ ان کے پاس کیا علم ہو گا۔ ایویں شروع کر دیا بس انھوں نے۔ بغیر پڑھے بغیر لکھے بغیر کچھ جانے۔‘
انھوں نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’میں مستقل مزاج رہی اور بس پھر آج وہی لوگ ہیں جو خود میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے میرے ساتھی (ڈاکٹرز) بھی بہت مشورے کر رہے ہوتے ہیں۔
اداکارہ جلد کو صاف، دلکش اور نکھارنے کے لیے گھریلو ٹوٹکوں کے ساتھ بوٹوکس، فلرز اور اینٹی آکسیڈینٹ انجیکشنز وغیرہ کو ضروری سمجھتی ہیں۔انھوں نے تسلیم کیا کہ میڈیسن کی یہ فیلڈ ’ایلیٹ‘ ہے اور ہر کوئی اِن پروسیجرز کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتا البتہ اُن کا کہنا تھا کہ وہ کوشش کر رہی ہیں کہ اسے ہر کلائنٹ کے لیے معقول اور پہنچ کے اندر بنا دیں۔
شائستہ لودھی نے کہا کہ ’اینٹی آکسیڈنٹ انجیکشنز بہت اہم ہیں، ہمارے جسم سے روزانہ ہر سیکنڈ آکسیڈنٹس ریلیز ہو رہے ہوتے ہیں، اُس کی روک تھام کرنا ضروری ہے، وہ آپ کے بالوں اور جلد کے ساتھ ساتھ مزاج کے لیے بھی بہت اچھے ہیں۔ اِس
میں کوئی برائی تو نہیں اور فِلر اور بوٹوکس تھیراپیوٹک بھی ہوتے ہیں۔ صرف بیوٹیفیکشن کے لیے نہیں ہوتے۔
کیا ہماری قسمت میں یہی لوگ بچے ہیں؟
