کیا شکیل آفریدی کو بالآخر رہائی ملنے والی ہے؟

اسلام آباد میں افواہیں گرم ہیں کہ پاکستانی حکام نے اسامہ بن لادن کی نشاندہی میں امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کرنے کے امریکی مطالبے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا اور اسی لئے اب اسکی سزا کے خلاف اپیل کو بالآخر سننے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پشاور ہائیکورٹ نے اُسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی نشاندہی میں امریکہ کی مدد اور شدت پسند تنظیم کی مبینہ معاونت کےعائدہ کردہ الزام میں گرفتار شکیل آفریدی کی رہائی کی اپیل دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نےسابق قبائلی علاقوں کے ‘ایف سی آر’ ٹربیونل کے سنائے گئے 11 فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے ٹریبیونل دوبار تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ ان اپیلوں میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی مبینہ طور پر نشاندہی کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اپیل بھی شامل ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ 2 مارچ کو صحبت خان نامی درخواست گزار کی اپیل پر دیا ہے۔درخواست دہندہ نے سابق قبائلی علاقے کی انتظامیہ کی جانب سے انہیں فرنٹیر کرائمز ریگولیش (ایف سی آر) کے تحت دی گئی سزا کو چیلنج کیا تھا۔
البتہ ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے صحبت خان کی اپیل کے ساتھ عدالت میں دائر دیگر 106 اپیلوں اور درخواستوں پربھی نظر ثانی اور انہیں نمٹانے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے مذکورہ اپیلوں میں سے کم از کم گیارہ اپیلوں یا پٹیشنز پر نظرثانی اور انہیں نمٹانے کے لیے ایف سی آر ٹربیونل کو دوبارہ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہےجن میں شکیل آفریدی کی اپیل بھی شامل ہے۔
خیال رہے کہ شکیل آفریدی نے سابق قبائلی علاقے خیبر کے پولیٹیکل ایجنٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر اب تک خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
البتہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بھائی جمیل آفریدی نے عدالتی فیصلے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ قبائلی علاقوں کا وجودہی نہیں ہے تو ا ن کا عدالتی نظام یا ایف سی آر ٹریبیونل کس طرح تشکیل پائے گا اور کیا ان کے فیصلے قابل عمل ہو ں گے یا نہیں۔ان کے بقول، "ڈاکٹر شکیل گزشتہ 12 برس سے ناکردہ گناہ کی پاداش میں قید ہیں جنہیں جائز انسانی، قانونی اور آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
شکیل آفریدی کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے 23 مئی 2011 کو اٹک سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ایک برس کے بعد انہیں قبائلی علاقے خیبر کی تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں پیش کیا گیا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ شکیل آفریدی نے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کی معاونت کی ہے۔ اس جرم میں انہیں 33 سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
پشاور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ کہتے ہیں وفاق کے زیرِ انتظام سابق قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ایف سی آر ٹریبیونل بھی موجود نہیں مگر اب ہائی کورٹ نے ان 106 مقدمات کو نمٹانے کے لیے صوبائی حکومت کو ایف سی ٹریبیونل دوبارہ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیشتر مقدمات کے فیصلوں میں ملزمان یا متاثرین کو مبینہ طور پر صفائی یا دفاع کے حق سے محروم رکھا گیا تھا اسی بنیاد پر ہائی کورٹ کے فیصلے میں ملزمان یا متاثرین کے اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ برطانوی حکمرانوں نے 1901 میں موجودہ خیبرپختونخوا شمال مغربی سرحدی صوبہ کے قیام کے ساتھ ساتھ افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کا قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت قبائلی علاقوں کے انتظامی افسران کو وسیع تر اختیارات حاصل تھے۔ ان اختیارات کے تحت وہ بغیر کسی جرم کے صرف شک کی بنیاد پر قبائلی علاقوں کے لوگوں کو سالہا سال تک جیلوں میں قید رکھ سکتے تھے ۔
واضح رہے کہ کچب عصہ قبل اُسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی نشاندہی میں امریکہ کی مدد اور شدت پسند تنظیم کی الزام میں گرفتار شکیل آفریدی کے اہلِ خانہ نے الزام لگایا تھا کہ ان پر جیل میں تشدد کیا گیا ہے۔
شکیل آفریدی کے بھائی جمیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بھائی شکیل آفریدی پر ساہیوال جیل میں تشدد کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 27 دسمبر کی شام جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں سات وارڈنز نے سیل کے اندر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور کے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ان کے بقول تشدد کے بعد ان اہلکاروں نے ان سے کمبل، جرسی اور دیگر گرم کپڑے چھین کر انہیں سردی میں ایک چادر تک محدود کر دیا تھا جب کہ 24 گھنٹے بعد یہ اشیا ان کے حوالے کی گئیں۔دوسری طرف جیل حکام ڈاکٹر شکیل آفریدی پر مبینہ تشدد کے الزام کی تردید کی تھی۔
خیال رہے کہ شکیل آفریدی کے مقدمے کی پیروی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کر رہے تھے البتہ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کو گزشتہ ماہ پشاور ہائی کورٹ کے بار روم میں قتل کر دیا گیا تھا۔جمیل آفریدی نے بتایا کہ لطیف آفریدی سے قبل سمیع اللہ آفریدی شکیل آفریدی کے مقدمے کی پیروی کر رہے تھے البتہ انہیں بھی 2015 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی مقدمے کی پیروی اور سماعت متاثر ہوئی تھی۔واضح رہے کہ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کے قتل کے الزام میں مقتول سمیع اللہ ایڈووکیٹ کے بیٹے کو بار روم سے اسی وقت گرفتار کیا گیا تھا۔جمیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سمیع اللہ آفریدی کے بعد میں لطیف آفریدی اور قمر ندیم ایڈووکیٹ نے معاملے کو سنبھالا البتہ قمر ندیم ایڈووکیٹ امریکہ منتقل ہو گئے اور اب لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کے قتل کے بعد حالات خراب ہوگئے ہیں۔
خیال رہے کہ شکیل آفریدی کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے 23 مئی 2011 کو اٹک ضلع کی حدود سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ایک برس کے بعد انہیں قبائلی علاقے خیبر کی تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں پیش کیا گیا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ شکیل آفریدی نے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کی معاونت کی ہے۔ اس جرم میں ان کو 33 سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔شکیل آفریدی کی سزا میں پشاور کے اس وقت کے کمشنر صاحبزادہ محمد انیس نے 10 سال کی تخفیف کی تھی۔صاحبزادہ محمد انیس اکتوبر 2013 میں اسلام آباد میں آگ لگنے کے ایک پراسرار واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بظاہر ایک کالعدم شدت پسند تنظیم ’لشکر اسلام‘ سے منسلک جنگجوؤں کا علاج کرنے کے الزام میں سابقہ ایف سی آر قانون کے تحت گرفتار کرکے سزا دی گئی تھی۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکام ان پر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی نشاندہی کرنے میں امریکہ کے خفیہ ادارے سے تعاون کا الزام لگاتے ہیں اور یہ کہ اس مقصد کے لیے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کو استعمال کیا تھا۔
