مسائل مذاکرات سے ہی حل کرنے کے خواہشمند ہیں،فضل الرحمان

جے یوآئی کےامیرمولانافضل الرحمان کاکہناہے کہ سیاستدانوں کے غلط رویوں کی وجہ سے پارلیمنٹ بے معنی ہوگئی، خواہش ہے کہ مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوں۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان کا لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو جیلوں میں نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ یہ تقاضا رہا ہے کہ بھئی آپ آئین کے دائرے میں رہ کر ملک کی خدمت کریں، ملک کے نظام سے وابستہ رہیں، یہ ہمارا میثاق ملی ہے، جب اس کی خلاف ورزی ہوگی تو آئین غیر مؤثر ہوجائے گا، آئین بے معنی ہوجائے گا جس طرح آج ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ بے معنی ہوگئی ہے۔

جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان کاکہناہے کہ یہ سب چیزیں ہیں جس پر تمام ہر ادارے کو اگر انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے، کسی پارٹی نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے تو اسے اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

مولانافضل الرحمان نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ میں سیاسی آدمی ہوں اور مذاکرات کا قائل ہوں اور مذاکرات سے ہی معاملات ٹھیک ہوتے ہیں، مذاکرات کی کامیابی کے لیے وہ ماحول بھی ہونا چاہیے جس میں اس کی امید کی جا سکے۔

جے یوآئی کے امیر کا کہنا تھا کہ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر دھاندلی کی گنجائش ہے تو دھاندلی سے پاک غیر جانبدارانہ انتخابات کی گنجائش کیوں نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دیکھیں آپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اتنا کیوں دماغوں پر سوار کیا ہوا ہے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جے یوآئی کے امیر مولانافضل الرحمان کیخلاف بیان بازی سے روک دیا ہے ۔اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنماؤںسے ملاقات کے دوران عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایات جاری ہیں۔

Back to top button