شان نے عامر خان کی فلم گجنی میں کام سے انکار کیوں کیا؟

پاکستانی فلمسٹار شان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 2008 میں بننے والی سپر ہٹ انڈین فلم ’گجنی‘ میں مسٹر پرفیکشنسٹ کہلانے والے اداکار عامر خان کے مد مقابل کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عامر خان نے مجھے گجنی میں اپنے مد مقابل کام کرنے کے لئے آمادہ کرنے کی کافی کوشش کی لیکن میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں بچوں کے اعضا بیچنے والے ولن کا گندا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ شان کہتے ہیں کہ میں نے عامر خان سے کہا کہ آپ ایک اور پاکستانی اداکار نیر اعجاز سے یہ کردار کروا سکتے ہیں کیونکہ وہ اس رول میں بالکل فٹ بیٹھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ ’گجنی‘ 2008 میں انڈیا میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی سپر ہٹ فلم تھی جس نے 100 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا تھا۔ ہالی وڈ کی فلمیں دیکھنے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ ’گجنی‘ امریکا میں 2000 میں بننے والی فلم ’میمنٹو‘ کی کاپی تھی۔ اس فلم میں مرکزی کردار گائے پیرس نے ادا کیا تھا۔ اداکار شان نے ’نیو ٹی وی‘ کے ایک شو میں بتایا کہ انہیں عامر خان نے خود فلم گجنی میں منفی کردار کرنے کی پیشکش کی تھی۔ شان نے پیشکش ٹھکرانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’سادہ سی بات ہے کہ وہ ایک ایسا کردار تھا جو کوئی بھی کر سکتا تھا، اس لیے ضروری نہیں تھا کہ میں ہی وہ کردار ادا کروں۔ شان کے مطابق میں نے عامر خان سے صرف یہی سوال کیا تھا کہ آپ ایک پاکستانی کو اس منفی کردار میں کیوں لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے جواب میں کہا کیہ یہ تو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ آپ پاکستانی ہیں۔ شان کا کہنا تھا کہ گجنی میں ولن کا کردار بہت ہی برا تھا جو کہ بچوں کے اعضا بیچتا تھا۔ تین چار دن میں عامر کو سمجھاتا رہا پھر میں نے پنجابی میں اس سے کہا کہ بس آپ یہ سمجھ لیں کہ آپ انڈیا کے پہلوان ہیں میں اور میں پاکستان کا پہلوان ہوں، اور میں پیسے لے کر کشتی نہیں ہاروں گا۔ شان کا دعوی ہے کہ انہوں نے عامر خان کو کہا تھا کہ پاکستان میں اور بھی بہت اچھے اداکار ہیں جو فریم میں کھڑے ہوں گے تو ’گجنی‘ لگیں گے۔’ اس۔پر عامر نے پوچھا کہ وہ کون ہے تو میں نے جواب میں بتایا کہ نیئر اعجاز۔
خود کو لالی ووڈ کا محب وطن اداکار ثابت کرنے کے خبط میں مبتلا اداکار شان شاہد نے انکشاف کیا کہ جب نے بھارتی فلموں میں کام سے انکار کیا تو میری اپنی سر زمین پر میرے اپنوں نے ہی میرے راستے میں کانٹے بچھانے کی کوشش کی۔ شان نے کہا کہ اس ملک میں سینئر اداکاروں کے احترام کی کوئی روایت نہیں ہے، جو اداکار ہمارے ملک میں اکیڈمی کی حیثیت رکھتے ہیں، آج انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اداکار نے بتایا کہ میں آج بھی اپنے سینئر اداکاروں سے ملتا رہتا ہوں اور مصطفیٰ قریشی اور ندیم جیسے اداکاروں کے ساتھ دوستی کر رکھی ہے جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔
اداکار سلطان راہی کے پراسرار قتل کو26 برس بیت گئے
دوران پروگرام شان شاہد نے انکشاف کیا کہ وہ فلمی ایوارڈز کے معاملے پر ایک شارٹ سٹوری بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور جلد ہی اس پر کام شروع کر دیں گے، شان کا کہنا تھا وہ سینئر اداکار ندیم کے ساتھ ایوارڈز پر مختصر فلم بنائیں گے، جس میں ندیم کو ملنے والے ایوارڈز دکھائے جائیں گے اور یہ پیغام دیا جائے گا کہ ایوارڈز جیتنے والے افراد کو عزت نہیں دی جاتی۔ شان شاہد نے کہا کہ افسوس اس ملک میں ’لائف اچیومنٹ ایوارڈ‘ دیئے جانے پر بھی اداکاروں کو کوئی رقم نہیں دی جاتی، بس لکڑی کا ایک تحفہ دے کر انہیں کو چلتا کیا جاتا ہے۔ ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے شان شاہد نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انہیں ایک ٹی وی چینل نے ایوارڈز شو میں شرکت کی دعوت دی تو میں نے پیسوں کا مطالبہ کیا لیکن ان کے مطالبے پر ٹی وی والوں نے انہیں کہا کہ وہ انہیں ایوارڈ دیں گے، جس پر شان نے ٹی وی والوں کو بتایا کہ میرے پاس 15 ایوارڈز پڑے ہوئے ہیں اور اگر انہیں کوئی ایوارڈ پسند آتا ہے تو وہ اسے لے جا بھی سکتے ہیں۔
پروگرام کے دوران شان نے پاکستان میں فلم پروڈیوسرز اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی قلت کا شکوہ بھی کیا اور حکومت کو تجویز دی کہ جس طرح وہ دیگر شعبوں کے کاروباری افراد کے لیے ٹیکس چھوٹ کا اعلان کرتی ہے، اسی طرح شوبز کے لیے بھی کرے۔ شان نے تجویز دی کہ حکومت اعلان کرے کہ فلم پروڈیوسر سال میں 10 یا 15 فلمیں بنائیں تو انہیں ٹیکس معاف کیا جائے گا تو فلمیں بننا شروع ہوں گی اور کاروبار بھی ہوگا، پروگرام کے دوران شان شاہد نے بھارت میں کام نہ کرنے کے معاملے پر بھی بات کی اور بتایا کہ انہیں ماضی میں متعدد بار وہاں سے کام کی پیش کش ہوئی اور اب تک ہوتی رہتی ہے۔
