کیا دہشتگردی کے خوف سے خوشیاں ترک کر دینی چاہئیں

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ جب بھی پاکستانی قوم خوشی کے لمحات حاصل کرتی ہے، دہشت گرد عناصر انہیں سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی لیے حالیہ دنوں میں بلوچستان اور اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملے کیے گئے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ گزشتہ ہفتہ پاکستانی قوم کے لیے فکری، جذباتی اور عملی سطح پر غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا، جس کے دوران قوم کو ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑا جو محض حالات یا واقعات تک محدود نہیں تھے بلکہ اجتماعی سوچ، قومی سمت اور مستقبل کے تعین سے جڑے ہوئے تھے۔ ان سات دنوں میں واضح ہو گیا کہ قوم کہاں کھڑی ہے، ماضی نے حال کو کیسے متاثر کیا اور مستقبل کا خاکہ کن خطوط پر بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس دوران کچھ خیالات ایک دوسرے سے متصادم رہے، کئی جذبات ادھورے رہ گئے، بعض نعرے اپنی معنویت کھو بیٹھے اور متعدد اہم باتیں نظرانداز ہوتی رہیں، یوں یہ پورا ہفتہ قوم کے لیے منزل، مقصد، راستے اور راہی کے تعین میں گزر گیا۔
عمار مسعود اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ اس عرصے میں یہ بنیادی سوالات شدت سے زیرِ بحث رہے کہ آیا قوم کو خوشیاں منانے کا حق حاصل ہے یا نہیں، کیا دہشتگردی کے خوف کے باعث ہر خوشی ترک کر دینی چاہیے، کیا قوم کو مسلسل سوگ اور الم کی کیفیت میں رہنا ہوگا، اور آیا دنیا میں ایک باوقار اور ممتاز مقام حاصل کرنا اب بھی ممکن ہے یا نہیں۔ اسی طرح یہ سوال بھی سامنے آئے کہ احتجاج کی نوعیت کیا ہونی چاہیے، کیا ہر مسئلے کا حل جلاؤ گھیراؤ ہے، ذمہ داری کا تعین کس پر عائد ہوتا ہے، کس کا احتساب ہونا چاہیے اور کن مسائل کو حل کرنے کے بجائے دانستہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام سوالات کا عملی مظاہرہ تب دیکھنے میں آیا جب 25 برس بعد لاہور میں بسنت منائی گئی۔ تمام تر برے خدشات کے برعکس، بسنت کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے کنٹرول کیا گیا۔ ان کے بقول وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں اس تہوار کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے، جن میں لاکھوں موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز کی تنصیب، پتنگوں اور ڈوروں کی رجسٹریشن، پولیس کی اضافی نفری کی تعیناتی اور ریسکیو و فائر بریگیڈ کو ہائی الرٹ رکھنا شامل تھا۔ انکا کہنا تھا کہ جس محنت، توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ یہ انتظامات کیے گئے، اس کی تعریف کیے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی۔
عمار مسعود کے مطابق بسنت نے لاہور میں ایسی رونق پیدا کی جس کا تصور بھی مشکل تھا۔ ایک طویل عرصے کے بعد شہریوں نے کھلے دل سے خوشی کا اظہار کیا، ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا گیا، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیاں بحال ہوئیں، کھانے پینے کے کاروبار کو فروغ ملا اور شہر روشنیوں سے جگمگا اٹھا۔ ان کے بقول یہ جشن محض ایک تہوار نہیں تھا بلکہ ایک ایسی قوم کے لیے سانس لینے کا موقع تھا جو برسوں سے غم اور خوف کے حصار میں جکڑی ہوئی تھی۔ اس موقع نے یہ حقیقت اجاگر کی کہ ہر دور میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو مایوسی کے ماحول میں بھی امید اور خوشی کے دریچے کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی دوران اسلام آباد میں عالمی رہنماؤں کی آمد جاری تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی عالمی حیثیت میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کے مطابق اب دنیا پاکستان کو کمزور یا مفتوح ریاست کے بجائے ایک مضبوط، باوقار اور خطے میں مؤثر کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ دفاعی معاہدے، عسکری تعاون اور پاکستانی ساختہ جہازوں کے آرڈرز اس بدلتی ہوئی سوچ کا مظہر ہیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا خوشحال اور پُراعتماد اقوام کے ساتھ کھڑا ہونا پسند کرتی ہے۔
تاہم عمار مسعود نے کہا کہ جب لاہور میں خوشیوں کا سماں تھا اور پاکستان عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا تھا، عین اسی وقت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر قوم کو خوف اور اندھیرے میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ دھماکے کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد میڈیا پر جشن کے مناظر کی جگہ سوگ اور الم کے مناظر نے لے لی۔ ان کے بقول یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دشمن ہمیشہ ہماری خوشیوں کے تعاقب میں رہتا ہے اور ایسے مواقع تلاش کرتا ہے جب قوم متحد اور پُرامید نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں جشن کا ماحول ماتم میں بدل گیا، اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے بطور ذمہ دار حکمران تمام تفریحی سرگرمیاں منسوخ کر دیں۔ اس کے برعکس، سیاسی احتجاج کو برقرار رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض قوتیں قومی حالات سے بالاتر ہو کر اپنی سیاسی ترجیحات کو فوقیت دیتی ہیں۔ ان کے مطابق احتجاج کے دن عوامی سطح پر معمولاتِ زندگی جاری رہے، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ قوم مجموعی طور پر زندگی، خوشی اور استحکام کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ عمار مسعود کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کے واقعات سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ جب بھی پاکستانی قوم خوشی کے لمحات حاصل کرتی ہے، دہشتگرد عناصر ان لمحات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسند گروہ دیگر علاقوں میں حملے کر کے ردِعمل ظاہر کرتے ہیں، جبکہ یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ تمام سیاسی جماعتیں اجتماعی قومی مفاد کو یکساں طور پر ترجیح نہیں دیتیں۔ ان کے مطابق بعض حلقے ایسے مواقع پر بھی اختلافات اور احتجاج کو ہوا دیتے ہیں، جس سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچتا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ مخالف سہیل آفریدی اچانک ’گڈ بوائے‘ کیوں بن گئے؟
انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب دنیا پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ کرتی ہے تو بعض اندرونی عناصر غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ذریعے اسی وقار کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے باوجود، ان کے بقول، ایک المیوں میں گھری ہوئی قوم کے دل میں خوشیوں کی شدید خواہش آج بھی زندہ ہے اور عوام ہر ممکن موقع پر زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمار مسعود کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ قوم اور ریاست ایک اٹل فیصلہ کریں، اور وہ یہ کہ دہشتگردی کے خوف کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی قوت، اتحاد اور عزم کے ذریعے دہشتگردوں کو خوفزدہ کیا جائے، اور انہیں بزورِ بازو اس ملک سے نکال باہر کیا جائے۔
