شوبز ستارے لکس سٹائل ایوارڈ سے ناخوش کیوں ہیں؟

لکس سٹائل ایوارڈز پر اعتراضات کا اٹھایا جانا نئی بات نہیں، اس سے قبل 2019 اور 2022 میں بھی ان ایوارڈز پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے، پاکستان کا ڈراما ہو، فلم، میوزک یا فیشن گزشتہ 22 سال سے لکس سٹائل ایوارڈز ہر شعبے میں بہترین کارکردگی دکھانے والے فنکاروں کو حوصلہ افزائی کی غرض سے اعزازات سے نوازتا آیا ہے، جس کے لیے تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے تاہم لکس سٹائل ایوارڈز پر ہمیشہ سوالیہ نشان اُٹھتے رہے ہیں، جو نامزدگیوں یا اعزازات حاصل کرنے والوں سے متعلق ہوتے ہیں۔اس سال چھ اکتوبر کو ہونے والے لکس سٹائل ایوارڈز پر بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جو صرف سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ہی نہیں بلکہ ایونٹ میں موجود پاکستان کے نامور ستاروں نے بھی اعتراضات کا اظہار کیا، فرحان سعید اور سجل علی جیسے بڑے نام بھی اعتراضات کرنے والوں میں شامل ہیں، جنہوں نے شو سے متعلق مایوسی کا اظہار کرنے کیلئے انسٹا گرام کا سہارا لیا۔اداکار و گلوکار فرحان سعید نے لکس سٹائل ایوارڈز میں اپنی اہلیہ عروہ حسین کے ساتھ نہ صرف شرکت کی بلکہ مایا علی کے ساتھ خوبصورت ڈانس پرفارمنس بھی دی، لیکن تقریب کے اختتام کے بعد انسٹا پوسٹ پر اپنی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا اور شو کو ’فکسڈ‘قرار دیا، فرحان سعید کی اس پوسٹ پر کئی نامور ناموں نے بھی تائید کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔اداکارہ ارمینہ خان نے لکھا کہ یہ تمام عمل پسند ناپسند پر مبنی تھا اور اس کے پیچھے ایک دوسرے کی تعریفیں کرنا اور اپنی اہمیت کے اظہار کی سوچ کارفرما تھی۔ ’مجھے خوشی ہے کہ کسی نے ان کے منہ پر یہ بات کہی ہے، ماڈل صوفیا خان نے صرف اتنا کمنٹ کیا کہ لکس کبھی بھی فیئر نہیں رہا۔اداکارہ دانیہ انور نے کہا کہ نہ صرف نئے آنے والوں کے لیے بلکہ کیا یہ کسی کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی نہیں ہے جو کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں لیکن مہمانوں کی فہرست انسٹاگرام سٹائلسٹ اور انفلونسرز سے بھری ہوئی تھی، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ خوش قسمتی سے سوشل میڈیا کے ذریعے سے اب ہم سب جانتے ہیں کہ مقبول فاتح کون ہیں۔فرحان سعید کے بعد سجل علی بھی سوشل میڈیا کے میدان میں آئیں اور اپنی آواز اٹھاتے ہوئے انسٹا سٹوریز پوسٹ کیں، جن میں انہوں نے لکس سٹائل ایوارڈز کی انتظامیہ سے جہاں چند شکایات کے ساتھ سوالات کیے وہیں کچھ تجاویز بھی پیش کیں۔سجل علی نے لکھا کہ ایوارڈ شوز فن اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی کا ایک بہترین طریقہ ہیں، لیکن میں لکس اسٹائل ایوارڈز اور ان کی جیوری سے درخواست کرتی ہوں کہ کم از کم ان لوگوں کو نامزد کریں جنہوں نے شاندار کام کیا ہے۔ ’ایک فنکار کے طور پر یہ میرے لیے بہت مایوس کن ہے کہ لکس سٹائل معمول کے مطابق ان فنکاروں کو نظر انداز کرتا ہے جو بہت اچھا کام کر رہے ہیں، سجل علی نے اپنی پوسٹ میں کئی اداکاراؤں کے نام بھی شامل کیے جن کو بہترین کارکردگی کے بعد بھی کسی کیٹیگری کا حصہ نہیں بنایا گیا، جن میں مہوش حیات ، عشنا شاہ اور زارا نور عباس شامل ہیں۔سجل نے سوال کیا کہ آخر جیوری کے ارکان کون ہیں؟ کیا وہ ہمارے شوز بھی دیکھتے ہیں؟ یا وہ صرف یہ دیکھ کر نامزدگیاں کرتے ہیں کہ کون کتنا مقبول ہے؟ ایوارڈ نہ جیتنا ایک چیز ہے لیکن اگر آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے پھر بھی نظر انداز کر دئیے جائیں تو صرف فنکار کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے افسوسناک ہے۔انہوں نے لکس سٹائل ایوارڈز کی انتظامیہ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی ٹیموں کو بھی اعزازات سے سراہنے کی ضرورت ہے جو سخت محنت سے ہم اداکاروں اور دیکھنے والوں کے لیے جادو کا کام کرتے ہیں، ان کی تیسری درخواست یہ تھی کہ ڈرامے میں معاون اداکاراؤں کی کیٹیگری بھی شامل کی جائے ، کیونکہ وہ اتنے بہترین اداکار ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ڈرامے مزید جاندار بن جاتے ہیں۔
