ہارٹ اٹیک سے متاثر دل کے علاج میں اہم کامیابی

دل کے شدید دورے کے بعد لاکھوں خلیات، بافتیں اور پٹھے تیزی سے مردہ ہوجاتے ہیں۔ اس عمل کو جینیاتی گہرائی میں سمجھنے سے نہ صرف اس کا علاج ممکن ہوسکے گا بلکہ نئے خلیات بنانے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

یونیورسٹی آف ایڈنبرا مرکز برائے قلب کی ڈاکٹر میری برٹان اور ان کے ساتھی ایک عرصے سے ہارٹ اٹیک کے بعد جینیاتی تبدیلیوں پر غور کر رہے ہیں۔ ہارٹ اٹیک کے بعد سیکنڈوں میں لاکھوں کروڑوں خلیات مرجاتے ہیں اور دل کا بڑا حصہ بھی بے عمل ہوسکتا ہے تاہم اس کے بعد جینیاتی تبدیلیاں جاننے سے جین تھراپی ممکن ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر میری دوبارہ افزائش کرنے والے مشہور خلیات ’اینڈوتھیلیئل پروجنیٹر سیلز‘ (ای پی سی) پر غور کررہی ہے۔ اگرچہ دل اور شریانوں کی اندرونی دیواران سے ملتے جلتے اینڈوتھیلیئل خلیات سے ہی بنی ہوتی ہے۔ اب دل کے دورے اور دیگر عارضوں میں یہ خلیات برباد ہوجاتے ہیں لیکن ای پی سی سے ان کی مرمت کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر میری اس کا انکشاف 2019ء میں کرچکی ہیں۔

خون میں شکر کی مقدار کم رکھنے والا بہترین ناشتہ

انہوں نے دل کے دورے کے بعد بعض مریضوں کے دل سے خلیات جمع کرکے ان میں ایسے جین معلوم کیے جو قلبی خلیات اور خون کی رگیں متاثر ہونے کے بعد سرگرم ہوتے ہیں۔ برسوں کی عرق ریزی سے انہوں نے اس کا اٹلس بنایا ہے تاکہ خون کی شریانوں اور قلب کی مرمت کی جاسکے۔ یہ کام اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا۔

Back to top button