خاموش مجاہد کا افغان جہاد سے سوئس اکاونٹس تک کا سفر

حال ہی میں سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹینینٹ جنرل اختر عبدالرحمن اور انکی اولاد کے اربوں روپوں کے خفیہ سوئس اکاؤنٹس سامنے آنے کے بعد معروف صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے فاتح افغانستان کہلانے والے جرنیل کی اس جدوجہد کے حوالے سے ایک استعاراتی تحریر لکھی ہے جس کے نتیجے میں وہ اتنی بھاری رقوم بیرون ملک منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اپنی تازہ استعاراتی تحریر میں خاموش مجاہد کا نام لیے بغیر عمار مسعود لکھتے ہیں کہ سنگلاخ چٹانوں کے وسط میں جہاں نہ آبادی کا کوئی نشاں تھا، نہ زندگی کے کوئی آثار، گھپ اندھیرے میں تنکوں سے بنی ایک متروک سی جھونپڑی عجب نور سے جگمگا رہی تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں روشنی کسی برقی قمقمے کی نہیں تھی بلکہ جھونپڑی کا احاطہ ایمان کی روشنی سے منور تھا۔
زمستانی ہوا کسی بھی ذی روح کو برفاب کر دیتی مگر چشم فلک نے پریشاں نگاہوں سے یہ حیران نظارہ دیکھا کہ جھونپڑی میں ایک مرد مجاہد لباس کے نام پر قریبا تہمت پہنے نہایت عرق ریزی سے برادر اسلامی ملک کے نقشے پھیلائے ایک نئی جنگی حکمت عملی سوچنے میں مگن تھا۔ قریب ہی جھونپڑی کے ننگے فرش پر دو ننھے بچے سخت موسمی حالات کے باوجود ایک بوسیدہ چٹائی پر گہری نیند سو رہے تھے۔
اس مرد حر کو نہ موسم کی سختیوں کی پرواہ تھی، نہ دشوار گزار رستوں کی فکر، نہ جان کا اس کو خوف تھا نہ اولاد کی پرواہ۔ بس یہی دھن کسی طرح برادر اسلامی ملک میں ایک عظیم عالمی جہاد کو منظم کیا جائے، کفر کی قوتوں کو ناکوں چنے چبوائے جائیں، ایمانی طاقت سے سامراج کو شکست فاش دی جائے چاہے اس کے لیے امریکہ سے بوریاں بھر بھر کر ڈالر ہی کیوں نہ لینے پڑیں۔
عمار۔مسعود۔لکھتے ہیں کہ چند لوگوں پر مشتمل یہ قافلہ سفر جہاد پر روانہ تھا۔ جھونپڑی عارضی قیام گاہ تھی، سفر دور کا درپیش تھا۔ قافلے والوں کو بس یہی ترنگ تھی کی کہ کسی طرح جلد از جلد منزل پر پہنچ جائیں۔ انصار اور مہاجر کے معاملات شیر و شکر ہو جائیں۔ اہل وطن ان کے لیے دل کے دروازے کھول دیں۔ برادر اسلامی ملک ان کے لیے خندقیں کھود دے اور امریکہ ان کے لیے تجوریوں کے دروازے کھول دے۔
اس مرد آہن کو کیا خبر تھی کہ جن راستوں کو کھولنے کے لیے انھوں نے قریہ قریہ چندے کی صندوقچیاں رکھوائیں، اسلامی ممالک سے امداد اکھٹی کی، امریکہ کی امداد کو مونگ پھلی کہہ کر ٹھکرایا، انھیں راستوں پر باڑ لگانے کے لیے آنے والی نسلیں قریہ قریہ چندے کی صندوقچیاں رکھوائیں گی، اسلامی ممالک سے امداد کی طلب گار ہوں گی، امریکہ کی امداد کے لیے خواست گزار ہوں گی۔ خیر یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مرد آہن کے جذبہ جنون وجہاد سے کوئی تعلق نہیں۔
کیا کپتان پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے پہلے گھر چلا جائے گا؟
عمار مسعود بتاتے ہیں کہ قافلہ جہاد کے سفر کے دوران سنگلاخ پہاڑوں پر اب برفباری شروع ہو گئی تھی۔ لیکن موسم کی سختی سے اس مرد درویش کے عزم صمیم میں رتی بھر فرق نہیں پڑا۔ کئی مہینے کھانے کھائے بنا گزر گئے تھے۔ قافلے میں موجود مرد مجاہد کی نرینہ اولاد نے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے، سپہ سالار خود خوارک کی کمی سے سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔ مجاہدین قافلہ نے بارہا استدعا کی کہ “حضور کچھ تناول فرما لیں ۔
آپ کی زندگی ہو گی تو جہاد ہو گا”۔ جاںثاران نے سوکھی روٹی کلاشنکوف کے بٹ پر رکھ کر پیش کی مگر جیسے ہی اس دانائے راز نے سوکھی روٹی کا ٹکڑا منہ میں رکھا، اسکی آنکھیں پرنم ہو گئیں، ہچکی بندھ گئی، فرمانے لگے روٹی کا ایک ایک ٹکڑا اور گندم کا ایک خوشہ مجاہدین کا حق ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ مجاہدین اسلام اتنی بڑی قوت سے بھوکے پیاسے لڑیں اور میں یہاں جسم و جان کا ناطہ برقرار رکھنے کے لیے یہ دو ٹکڑے کھا لوں، یہ کہنا تھا کہ اس مرد درویشں نے زاد راہ کی پوٹلی کو کاندھے پر ڈالا اورعازم سفر ہوگیا۔ بھوک پیاس سے بچوں کی حالت بہت نازک ہو رہی تھی، ایک نرم خو مجاہد نے جس کی مسیں بھی ابھی نہیں بھیگی تھیں سپاہ سالار سے نظر بچا کر ایک بچے کو بچی کچھی “پیپسی” کے چند گھونٹ دیے جس سے غریب کی تن لاغر میں جان آئی۔
عمار مسعود لکھتے ہیں کہ قافلے کا سفر رکنے میں نہیں آتا تھا، سپہ سالار کے قدم تھمنے میں نہیں آ رہے تھے۔ ایک عزم ان کو رواں رکھے ہوئے تھا۔ منزل ان کی ایک نئی سرزمین تھی، جہاں اصلی جہاد ہونا تھا، فاصلہ بہت تھا، رستہ دشوار گزار اور موسم سخت ۔ مگر کسی کو اس کی پرواہ نہیں تھی، بس یہی دھن تھی کہ منزل کی ایک جھلک جلد از جلد نصیب ہوجائے۔
جذبہ ایمانی سے لبریز، نعرہ تکبیر کی صدا بلند کرتے، منزلوں پر منزلیں مارتا، قافلہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ اس مرد حر نے تو کبھی ذکر نہیں کیا مگر “خلیفہ” نے نامعلوم ذرائع سے اکثر یہ خبر دی کہ کہ سپاہ سالار نے اپنا تن من دھن سب کچھ جہاد کے لیے تیاگ دیا، لباس میں صرف دھوتی کرتا ہوتا تھا۔ جہاد کی دھن میں مگن اگر کسی نے انہیں عین لڑائی کے بیچ پھل پیش کیے تو انہوں نے پہلے گودا مجاہدین کو پیش کیا اور خود چھلکے اور بیج کھا کر جسم جاں کا رشتہ برقرار رکھا۔
کسی مجاہد نے پانی پیش کیا تو ایک گھونٹ سے ہی پہلے غسل کیا پھر وضو فرمایا اور باقی قطرے لاغر ننھے مجاہدین کے منہ میں ٹپکا دیئے، کسی نے سگریٹ پیش کیا تو اسے صندقچے میں رکھ دیا کہ یہ میرے مجاہد بھائیوں کی امانت ہے۔ عمار بتاتے ہیں کہ صندوقچوں سے جو چندہ آتا، امریکہ سے جو ڈالروں کی بوریاں آتیں یا اقوام اسلامیہ سے جو نقرئی امداد آتی اس پر خود راتوں کو جاگ جاگ کر پہرہ دیتے کہ کہیں اس فانی دولت کی چکا چوند سے کسی مجاہد کے دل میں میل نہ آجائے۔
خلیفہ نے اپنی تاریخی تحریر میں ذکر کیا کہ نہ تو اسے دنیاوی خرافات کی کوئی پرواہ تھی نہ دولت کے انبار اس کو متاثر کرتے تھے، بس ایک جذبہ جہاد تھا جو دل میں سما رکھا تھا، ہر لمحے اس کوشش میں رہتے کہ کوئی جنگی حکمت عملی ایسی ہاتھ لگے کہ خون ناحق کا خراج وصول ہو، ملت اسلامیہ کے لہو لہو جسد پر مرہم رکھا جائے، دشمن کو شکست عبرت ناک دی جائے۔
قافلہ اپنے سفرپر رواں تھا کہ اچانک مجاہدین کو دور کہیں سنہری سرزمیں نظر آئی، یہ وہ سرزمین تھی جہاں مظلوم کے خون کا حساب ہونا تھا، جہاں ظلم کی قیمت چکانی تھی، جہاں شجاعت کا عملی امتحان ہونا تھا، جہاں اصل جنگی حکمت عملی مظاہرہ ہونا تھا، گرد و غبار کے بیچ خلیفہ کو دور کہیں ایک تختی نظر آئی جس پر منزل کا پتہ لکھا تھا، مجاہدین حر کی رفتار، برق رفتار ہو گئی۔ منزل قریب تھی اور شوق بے پناہ تھا۔
تختی کے قریب پہنچ کر مجاہدین نے سپہ سلار کو آگاہ کیا کہ اس پر لکھا ہے “سوئٹرزلینڈ ۔ دو کلو میٹر” خلیفہ نے حیرت سے سپہ سالار کی جانب دیکھا اور سوال کیا۔ یا شیخ یہ کیا بوالعجی؟ مرد آہن نے خلیفہ کاہاتھ دبایا اور دائیں آنکھ کو بھینچ کر بلند آواز “مرد مومن – مرد حق” کا نعرہ بلند کر دیا۔ خلیفہ نے معاملے کی گہرائی کو سمجھ کر بظاہر تو سکوت اختیار کیا البتہ زیرلب حضرت اقبال کا یہ مصرع گنگنایا کہ “یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے”۔
