سندھ اسمبلی: نئے صوبوں کی تجاویز کے خلاف قرارداد منظور

سندھ اسمبلی نے کراچی کو سندھ کا لازمی اور جدا نہ ہونے والا حصہ قرار دیتے ہوئے نئے صوبے بنانے کی کوششوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔
یہ قرارداد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، تاہم ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے مخالفت کی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس اسمبلی کی طرف سے سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبے کے طور پر بنانے کی کسی بھی سازش کی یکسر مذمت اور مخالفت کی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ کے اس اقدام کے پس منظر میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا بار بار مطالبہ رہا ہے کہ کراچی کو وفاقی علاقہ بنایا جائے اور مرکزی حکومت مداخلت کرے۔
قرارداد میں تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا کہ وہ تقسیم کی باتیں یا ایسی کارروائیوں سے گریز کریں جو صوبائی اتحاد اور قومی یکجہتی کو خطرے میں ڈالیں۔
اس میں کہا گیا کہ سندھ کی یکجہتی، علاقائی سالمیت اور تاریخی شناخت ہمارے آباؤ اجداد کی میراث ہیں اور انہیں آئینی، جمہوری اور سیاسی طریقوں سے تحفظ دیا جائے گا۔
قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ سندھ اسمبلی تمام پارٹیوں سے بالاتر ہو کر سندھ کی سالمیت، وقار اور ناقابل تقسیم وراثت کے دفاع میں متحد ہے۔
قرارداد کی حمایت میں جماعت اسلامی کے ایم پی اے محمد فاروق اور پاکستان تحریک انصاف کے شبیر قریشی اور سجاد سومرو شامل تھے، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین نے خطاب میں کہاکہ یہ قرارداد آئین کے منافی ہے، تاہم وزیر اعلیٰ نے واضح کیاکہ قرارداد آئین کے مطابق ہے اور مخالفین سے چیلنج کیا کہ وہ ایک بھی آئینی خلاف ورزی کی نشاندہی کریں۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کی سابقہ پوزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ 2019 میں بھی سندھ اسمبلی نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی تھی اور اس وقت ایم کیو ایم نے حمایت کی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کراچی کو کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی سندھ کا لازمی حصہ ہے اور سندھ اسمبلی صوبائی اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ جو بھی شخص پاکستان پر یقین رکھتا ہے، وہ اس قرارداد کی حمایت کرے گا۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیاکہ سندھ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کسی بھی نئے صوبے کے قیام کی کوشش روکنے میں فیصلہ کن ہوگی۔
