سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کے قتل پر سندھ بار کا 4 اگست کو عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کے قتل کے واقعے پر سندھ بار کونسل نے 4 اگست بروز پیر صوبے بھر میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

سندھ بار کونسل نے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں نامزد مرکزی ملزم کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ بار کونسل نے اس المناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

پولیس کے مطابق خواجہ شمس الاسلام کو قتل کرنے والا مرکزی ملزم عمران آفریدی ہے، جس کا والد نبی گل سندھ پولیس میں اہلکار ہے اور مقتول وکیل کی سیکیورٹی پر تعینات تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمران آفریدی کے دو رشتے داروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم مرکزی ملزم تاحال مفرور ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔

واضح رہے کہ خواجہ شمس الاسلام اپنے بیٹے کے ہمراہ ڈی ایچ اے فیز 6 میں ایک جنازے میں شرکت کے لیے آئے تھے، جہاں قمیض شلوار میں ملبوس مسلح شخص نے ان پر فائرنگ کی اور موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں خواجہ شمس الاسلام کو پیٹ میں اور ان کے بیٹے کو کمر میں گولی لگی۔ دونوں کو فوری طور پر قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں خواجہ شمس الاسلام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

Back to top button