محکمہ ایکسائز سندھ کا ارمغان سے منشیات کے کاروبار کی تفتیش کا فیصلہ

محکمہ ایکسائز سندھ کے نارکوٹکس کنٹرول ونگ کی 5 رکنی کمیٹی ڈیفنس میں قتل کیے گئے نوجوان مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے منشیات کے کاروبار کی تحقیقات کرے گی۔

وزیر ایکسائز سندھ مکیش کمار چاؤلہ کا کہنا تھا کہ ایکسائز کی ٹیم ڈی ایچ اے میں ارمغان سمیت دیگر نوجوانوں کے منشیات کے کاروبار کی بھی تحقیقات کرے گی۔

صوبائی وزیر مکیش کمار چاؤلہ کاکہنا تھاکہ محکمہ ایکسائز سندھ کی ٹیم ملزم ارمغان سے منشیات کیس کے ہر پہلو پر تفتیش کرےگی، دیکھا جائےگا کہ اس گھناؤنے کاروبار کو کس طرح چلایا جا رہا تھا اور کون کون اس میں ملوث رہا، تفتیش کےنتائج کی روشنی میں ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔

یاد رہےکہ ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھاکہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔

بعد ازاں اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیاتھا۔

ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کےبعد گرفتار کیا گیا تھا،جس کےبعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کےلیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔

ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا۔

بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کےبعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔

ملزم شیراز کی نشاندہی کےبعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کر لی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلےہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کر چکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کےبعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

تفتیشی افسران کےمطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کےبعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی، گرفتار کیاگیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کےمنصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔

بنوں : خوارجی دہشتگردوں کا حملہ ناکام، تمام 16دہشت گردہلاک

کراچی پولیس کاکہنا ہےکہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے،ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات،آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔

بعد ازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کےلیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبرکشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔

Back to top button