نیب بھی بدل گیا، فرح خان کے خلاف انکوائری شروع

سابق وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر ان کے سیاسی مخالفین کا رگڑا نکالنے والے نام نہاد احتساب کے ادارے نیب نے حکومت کی تبدیلی کے بعد بالآخر عمران خان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اپنے سیاسی مخالفین کو چور اور کرپٹ قرار دینے والے عمران خان کے لیے بری خبر یہ ہے کہ نیب نے پہلی انکوائری ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن کہلانے والی فرح شہزادی عرف فرح خان کے خلاف شروع کی ہے جو زیادہ تر بنی گالہ میں ہی قیام کرتی تھیں۔ یاد رہے کہ فرح خان عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے چند روز پہلے ہی دبئی نکل گئی تھیں۔
قومی احتساب بیورو نے فرحت شہزادی عرف فرح خان کے خلاف نامعلوم ذرائع آمدن کی مدد سے اربوں کے اثاثے بنانے، منی لانڈرنگ کرنے اور مختلف ناموں سے کاروبار کے لیے کئی بینک اکاؤنٹس استعمال کرنے کے الزامات پر تحقیقات کی منظوری دی ہے۔
اس انکوائری کی ذمہ داری ڈی جی نیب لاہور کو سونپی گئی ہے۔ فرح خان کے بیرون ملک فرار کے بعد نہ صرف اپوزیشن جماعتوں کی قیادت بلکہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر چودھری سرور اور سابق سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے بھی ان پر کرپشن کے الزامات عائد کیے ہیں اور انہیں بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن قرار دیا ہے۔
فرح خان، فرح گجر، فرح گوگی اور فرحت شہزادی، یہ تمام نام ایک ہی خاتون کے ہیں جو بدعنوانی کے الزامات کے بعد پہلے سوشل میڈیا اور پھر سیاسی جلسوں میں موضوع بحث ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستانی ذرائع ابلاغ میں کئی ایسی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں جن میں فرح خان پر مبینہ مالی بدعنوانی اور تعلقات کا ناجائز فائدہ اٹھانے جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، تاہم ان الزامات پر فرح خان کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ نیب کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فرح خان کے اکاؤنٹ میں گذشتہ تین برسوں کے دوران 84 کروڑ 70 لاکھ روپے جمع کرائے گئے جو کہ ان کے آمدن کے معلوم شدہ ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اعلامیے کے مطابق ’یہ رقم ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی اور اسے جمع کرائے جانے کے بعد فوراً نکال لیا گیا۔’ نیب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ‘میڈیا کی کئی رپورٹس میں بتایا گیا فرحت شہزادی مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے رکھتی ہیں۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ ان کے اثاثے نامعلوم وجوہات کی بنا پر سال 2018 کے بعد سے بہت زیادہ بڑھے ہیں۔’
نیب کے مطابق فرح خان نے اس عرصے کے دوران کئی بیرونی دورے کیے ہیں۔ وہ نو مرتبہ امریکہ اور چھ بار متحدہ عرب امارات جا چکی ہیں۔ 2018 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد فرح خان کا نام پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا تھا۔ یاد رہے کہ عمران خان اور بشری ٰکی شادی بھی فرح خان کی ڈیفنس لاہور والی رہائش گاہ پر ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ خاتول اول بشریٰ بی بی کے ہمراہ بیشتر مرتبہ دکھائی دیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ مہینے میں تین ہفتے بشریٰ بی بی کے ساتھ بنی گالہ میں ہی قیام کرتی تھی۔ فرح خان دراصل بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور مانیکا کے بہترین دوست احسن جمیل گجر کی دوسری اہلیہ ہیں۔ فرح اکثر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی اپنی اور بشریٰ بی بی کی تصاویر لگاتی تھیں جو کہ بنی گالا میں بنائی گئی ہوتی تھیں اور ان میں اکثر کپتان کے کتے بھی نظر آتے تھے۔
عمران خان کے دور حکومت میں بھی کئی حلقوں کی جانب سے اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا تھا کہ آخر یہ فرح خان ہیں کون؟ اس سوال کے جواب میں اکثر سرگوشیاں کی جاتی تھیں لیکن دو روز قبل پی ٹی آئی کے ناراض رکن اور سابق صوبائی وزیر علیم خان نے فرح خان کا نام لیتے ہوئے ان پر کافی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں اور بقول علیم خان عمران خان اس بارے میں سب جانتے تھے۔ علیم خان کے اس الزام سے قبل سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی اسی نوعیت کے الزامات عائد کر چکے ہیں جبکہ گذشتہ روز مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نےبھی حکومت میں فرح خان کی سرکاری معاملات میں مبینہ مداخلت کی بات کی۔ فرح خان کی جانب سے آٹھ اپریل کو ٹوئٹر اکائونٹ کے ذریعے خود پر لگے الزامات کا جواب دیا گیا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ میں خود پر عائد تمام الزامات کی تردید کرتی ہوں۔
اپنے بیان میں فرح خان نے کہا کہ ’میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کبھی سرکاری کام کے معاملات میں مداخلت کی۔ میرے بزنس کے بارے میں میرے شوہر پہلے ہی وضاحت دے چکے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے کردار کے اوپر کیچڑ اچھالنے والوں کی اپنی بھی بہن بیٹیاں ہیں۔ میری فیملی ان الزامات کو سن کر سکتے اور صدمے کی کیفیت میں ہے۔‘
فرح خان کا کہنا تھا کہ ’ان کو اور ان کے خاندان کو سنی سنائی باتوں پر بدنام نہ کیا جائے۔‘ انھوں نے لکھا کہ ’جن لوگوں کو میرے ساتھ منصوب کیا گیا وہ بھی اس کی تردید کر چکے ہیں۔‘ واضح رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’علیم خان ،چوہدری سرور اور دیگر اپوزیشن ارکان کے من گھڑت الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں اور بلا ثبوت الزام تراشی کی مذمت کرتا ہوں۔ پنجاب میں تقرر و تبادلے میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہوتے ہیں۔‘
اگرچہ فرح خان کی جانب سے تو اب تک کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا لیکن یکم اپریل کو وزیر اعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن کو میرے خلاف کوئی بات نہیں مل رہی تو وہ میری بیوی کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور ان کی دوست فرح کی کردار کشی کی مہم چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب فرح کے پاس کوئی حکومتی عہدہ ہی نہیں تھا تو انھوں نے کرپشن کیسے کرنا تھی۔ اس دوران ایسی اطلاعات بھی آئیں کہ عمران خان نے شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے تحفہ کی گھڑی توشہ خانہ سے سستے داموں خریدنے کے بعد فرح خان کے ذریعے دبئی میں 8 کروڑ روپوں میں بکوائی تھی۔
فرح خان کے خاندانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ اس وقت دبئی میں ہیں جبکہ اُن کے شوہر احسن جمیل گجر امریکہ میں ہیں۔ واضح رہے کہ احسن جمیل گجر کا نام 2018 میں تب بھی منظر عام پر آیا تھا جب پنجاب کے شہر پاکپتن میں وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کی بیٹی کے ساتھ پولیس کے مبینہ ناروا سلوک پر ڈسٹرکٹ پولیس افسر کا تبادلہ ہوا۔
اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا جس کے دوران پولیس انکوائری رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے قریبی دوست سمجھے جانے والے احسن جمیل گجر نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بلا کر بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے کو کہا تھا۔
فرح خان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ احسن جمیل گجر اکثر امریکہ آتے جاتے رہتے ہیں کیونکہ اُن کے جگر کا ٹرانسپلانٹ ہوا تھا جس کے بعد وہ کچھ عرصے کے بعد امریکہ اپنا چیک اپ کروانے جاتے ہیں۔ فرح خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کے سسرالی رشتہ دار کا کہنا تھا کہ فرح کی شادی نوے کی دہائی میں احسن گجر سے ہوئی جو پہلے سے ہی شادی شدہ تھے۔ احسن جمیل گجر مسلم لیگ نون سے الیکشن لڑنے والے ایم پی اے چوہدری اقبال گجر کے بیٹے ہیں۔ فیملی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’احسن نے فرح کو لاہور ڈی ایچ اے میں گھر لے کر دے رکھا تھا اور اسی گھر میں عمران خان اور بشری ٰبی بی کا نکاح بھی ہوا تھا۔‘ شادی کی جو تصویر جاری کی گئی اس میں جہانگیر ترین گروپ کے رکن عون چوہدری، زلفی بخاری کے علاوہ فرح خان کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو ان کی بشریٰ بی بی سی قربت کو ظاہر کرتا ہے۔
فرح خان کے قریبی ذرائع کے مطابق شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی فرح نے لاہور میں مختلف جگہوں پر نوکریاں کیں اور اسی دوران ان کی احسن جمیل گجر سے ملاقات ہوئی اور بعدازاں انھوں نے نوکری چھوڑ دی۔ پھر ہمیں معلوم ہوا کہ فرح نے احسن گجر سے شادی کر لی ہے۔ ایک اور خاندانی ذریعے نے بتایا کہ فرح اور بشریٰ بی بی ایک دوسرے کے قریب ’پیری فقیری‘ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ہوئیں اور لاہور کے سوشل سرکلز میں بھی ان دونوں کو اکثر ایک ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ اس معاملے پر بشریٰ بی بی کے بیٹے کا بیان بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارے خاندان کا فرح کے کسی معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ تو اب دیکھنا یہ ہے کہ نیب فرح خان کے خلاف انکوائری شروع کرنے کے بعد انہیں دبئی سے واپس لانے کی کوشش کرتا ہے یا نہیں؟
