بجلی مہنگی کر کے عوام سے 58 ارب روپے بٹورنے کا فیصلہ

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد شدید سیاسی مشکلات کا شکار وزیر اعظم خان عمران خان نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں کوئی ریلیف دینے کی بجائے بجلی کی قیمتوں میں 5 روپے 94 پیسے فی یونٹ مذید اضافے کا فیصلہ کر دیا یے جس کے نتیجے میں مہنگائی کے مارے عوام سے مارچ 2022 میں 58 ارب روپے اضافی بٹورے جائیں گے۔
حکومت سے اجازت ملنے کے بعد نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے جنوری میں استعمال ہوئے ایندھن کی لاگت کی مد میں ایک ماہ کے لیے بجلی 5 روپے 94 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
نیپرا اعلامیے کی مطابق فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافی رقم صارفین سے مارچ کے بجلی کے بلوں میں چارج کی جائے گی۔ بجلی کی قیمت میں مذید اضافے سے صارفین پر 58 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا تاہم اس کا اطلاق کراچی الیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہوگا- یاد رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے جنوری 2022 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 6 روپے 10 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی تھی۔
نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ جنوری میں ایل این جی کی کمی کی وجہ سے 7 ارب 74 کروڑ روپے کی اضافی لاگت آئی جس سے صارفین پر 92 پیسے فی یونٹ کا اضافی بوجھ پڑا- نیپرا حکام نے کہا کہ اگر شمسی توانائی اور پن چکی والے لائسنس یافتہ پلانٹس چلتے تو مزید ایک روپے کی کمی ہوتی، عالمی سطح پر کوئلے اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اگر ایندھن کی قیمتیں نہ بڑھتیں تو بجلی کی قیمت میں کمی ہوتی-
چنانچہ بجلی 5 روپے 94 پیسے فی یونٹ مذید مہنگی کرنے کی منظوری دے دی گئی جس سے صارفین پر 50 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، تاہم جنرل سیلز ٹیکس شامل کرنے کے بعد یہ اضافہ 58 ارب روپے سے زیادہ بنے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بجلی صارفین سے جنوری 2022 میں دسمبر 2021 کی مد میں 3 روپے 10 پیسے بطعر فیول ایڈجسٹمنٹ چارج وصول کیے گے تھے، جنوری کا فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز دسمبر کی نسبت 2 روپے 85 پیسے زیادہ ہے جو مارچ میں چارج کیا جائے گا اور اس کا اطلاق بھی ایک ماہ کے لیے ہوگا۔
بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے صارفین کا کہنا ہے کہ ایک تو وہ ہر پندرہ روز بعد پٹرول کی قیمت بڑھنے پر پریشان ہیں لیکن دوسری جانب رہی سہی کسر بجلی کے بلوں میں شامل کیے جانے والے غیرقانون فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج سے پوری کی جا رہی ہے۔ ہر مہینے پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی صارفین کو بلوں میں ہزاروں روپے کا ٹیکا لگایا جا رہا ہے جو مجموعی طور پر کئی ارب روپے بن جاتے ہیں۔
بجلی کی قیمت میں 5 روپے 94 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری
عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا نوٹس لیتے ہوئے حال ہی میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگی رکن اختیار ولی نے ’فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘ کے خلاف ایک قرارداد پیش کی تھی جسے ایوان میں پی ٹی آئی کی اکثریت ہونے کے باوجود متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں موقف اپنایا گیا کہ وفاقی حکومت بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارچ طویل عرصے سے وصول کر رہی ہے جو عوام کے ساتھ ظلم ہے۔
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ بجلی کی پیدوار خیبر پختونخوا میں ہونے کے باوجود یہاں کے عوام سے بھی سرچارج لیا جا رہا ہے اور بجلی کی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسمنٹ 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی بھی ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر نالاں عوام کو شکایت ہے کہ کہ بجلی کا اصل بل کم اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج زیادہ ہے، ذیادتی پر مذید ذیادتی یہ ہے کہ وہ گھریلو صارفین جن کا ماہانہ بل ایک ہزار روپے سے کم ہوتا ہے، یہ سرچارج ان سے بھی لیا جاتا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج’ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن، اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک ایکٹ 1997‘ کے تحت لیا جاتا ہے، اس قانون کی شق نمبر 31، ذیلی شق چار کے مطابق تمام بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کے مطابق ہر ماہ کے سات دن تک بلوں میں قیمتیں ایڈجسٹ کریں، اسی شق کے مطابق تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیاں وفاقی حکومت کو سرچارج ادا کریں گی۔
صارفین سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سرچارج یونٹ کے حساب سے لیا جاتا ہے، مثال کے طور پر بجلی صارف نے فروری میں 100 یونٹس استعمال کیے اور بل ایک ہزار روپے آیا لیکن اسی مہینے میں ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا تو ڈسٹری بیوشن کمنپی اسی اضافے کے مطابق فی یونٹ کے حساب سے اس تبدیلی کو ایڈجسٹ کرے گی اور اضافی رقم صارفین سے مارچ کے مہینے میں وصول کرے گی۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اعلان اسی دن کیا گیا جب وزیر دفاع پرویز خٹک نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان آج قوم سے خطاب میں پٹرول 10 روپے سستا کرنے کا اعلان کریں گے۔
