افغانستان اور پاکستان میں کشیدگی کیوں بڑھنے لگی؟

افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی روکنے میں ناکامی پرپاکستان کے غیر قانونی مہاجرین کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت پر الزامات اور افغان طالبان کے سخت ردِعمل کے بعد ماہرین دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید سرد مہری کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔بعض ماہرین کہتے ہیں کہ فریقین کے بیانات پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان تناؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے بدھ کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ دہشت گرد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں اور اس حوالے سے معلومات بھی طالبان حکومت کو فراہم کی گئی ہیں۔ امید ہے افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ افغانستان نے پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ پاکستان میں بد امنی پھیلانے والوں میں غیر قانونی تارکینِ وطن ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک چھوڑنے کے لیے یکم نومبر تک کی مہلت دی تھی۔ یہ فیصلہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں پاکستان کے سول و فوجی حکام پر مشتمل اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا تھا جس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی شریک تھے۔حکام کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں افغان شہری ملوث ہیں، لہذٰا غیر قانونی تارکینِ وطن کو یکم نومبر کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔طالبان حکومت نے پاکستان کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے فیصلے پر تنقید کی تھی جب کہ افغان شہریوں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات کو بھی مسترد کیا تھا۔

نگراں وزیرِ اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں درجنوں سیکیورٹی اہل کار جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی وزیرِ اعظم کے بیان پر ردِعمل میں کہا ہے کہ پاکستان میں امن کی ذمے داری افغانستان پر عائد نہیں ہوتی۔ پاکستان اپنی ناکامیوں کی ذمے داری افغانستان پر نہ ڈالے۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔

دفاعی اُمور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سعد محمد کہتے ہیں کہ پاکستانی حکام کا خیال تھا کہ طالبان، افغانستان میں اقتدار میں آکر اس کے ہر حکم پر عمل کریں گے اور صرف پاکستان کے ساتھ ہی دوستی رکھیں گے۔دو سال گزرنے کے بعد جو حالات ہیں، اس میں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان شدید مایوس ہے اور بظاہر یہ پاکستان کی افغان پالیسی کی ناکامی ہے۔بریگیڈیئر (ر) سعد محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی توقعات کے باوجود افغان طالبان ٹی ٹی پی کے مبینہ خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں تحفظات دور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کی بے دخلی کے ذریعے افغان طالبان کو سخت پیغام دینے کے باوجود ایسا نہیں لگتا کہ ٹی ٹی پی سے متعلق اُن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئے گی۔بریگیڈیئر (ر) سعد محمد کے بقول پاکستان کو عسکریت پسندی کے خلاف جنگ ملک کے اندر خود ہی لڑنی ہو گی۔

افغان اُمور کے تجزیہ کار طاہر خان کہتے ہیں کہ افغان طالبان کے لیے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنا شاید ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ دونوں گروپ نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی اور پاکستان کے درمیان مصالحت کی بھی کوشش کی تھی۔ لیکن یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔طاہر خان کہتے ہیں کہ طالبان حکومت نے اپنے طور پر کوشش کی کہ ٹی ٹی پی اور پاکستان کے معاملات طے پا جائیں، لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکے۔اُن کا کہنا تھا کہ اب صورتِ حال یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہو رہے ہیں اور نوبت ایک دوسرے پر الزام تراشیوں تک پہنچ گئی ہے جس سے لامحالہ بداعتمادی بھی بڑھ رہی ہے۔طاہر خان کے بقول ایک جانب پاکستان عالمی برادری پر افغان طالبان کے ساتھ مراسم رکھنے پر زور دیتا رہا ہے، لیکن خود اس کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی پر طالبان حکومت کے شدید تحفظات ہیں جن کا وہ حکومتِ پاکستان سے برملا اظہار بھی کر رہے ہیں۔طاہر خان کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر مستقبل قریب میں کسی بات چیت کا امکان ہے۔

دوسری جانب سلامتی امور کے ماہر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفٰی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان نے حالیہ برسوں میں کچھ بڑی غلطیاں کی ہیں۔کچھ عرصے پہلے جب کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی بات ہوئی، تو ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں اور ان کے خاندان والوں کو بڑے پیمانے پر واپس پاکستان میں آباد کرنے کی پالیسی اپنائی گئی اور ان میں سے کئی کو پاکستان لایا بھی گیا۔‘‘جنرل غلام مصطفٰی کے مطابق یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی ”کیونکہ حکام نے ان کی کوئی جانچ پڑتال نہیں کی اور نہ ہی اس پر نگاہ رکھی کہ وہ کن علاقوں میں گئے ہیں۔ اس پالیسی کی وجہ سے دہشت گردی نے ایک بار پھر سر اٹھایا اور پاکستان کو اب اس دہشت گردی کا سامنا ہے۔‘‘

اکثر مبصرین نگراں وزیر اعظم کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی کے دہشت گرد پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور یہ کہ افغان طالبان انہیں روک نہیں رہے۔ معروف پختون دانشور ڈاکٹر فرحت تاج کا کہنا ہے کہ دوحا معاہدے میں یہ بات واضح تھی کہ افغان طالبان کسی بھی دہشت گرد گروپ کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک یا امریکی اتحادی کے خلاف استعمال کرنے نہیں دیں گے لیکن ٹی ٹی پی پاکستان پر حملے کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا، ” ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان پہ حملے کر رہی ہے۔ ٹی ٹی پی کی ان ہتھیاروں تک رسائی بھی ہے جو امریکی چھوڑ کر گئے ہیں۔‘‘

Back to top button