پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کا انعقاد ممکن کیوں نہیں؟

سینئر صحافی انصار عباسی کہتے ہیں منگل کو سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14مئی کو الیکشن کرانے کا فیصلہ سنایا ہے لیکن سوال بدستور وہی ہے کہ آیا انتخابات اعلانیہ تاریخ پر ہوں گے؟ فیصلہ سنانے والے تین رکنی بینچ کی تشکیل پر شدید تنازع کے دوران فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے تین اہم اسٹیک ہولڈرز حکمران پی ڈی ایم اتحاد، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے ججز کو ناراض کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن آئینی اور عدالت کی مثل ایک ادارہ ہے۔ 22؍ مارچ کو کیے گئے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے پنجاب اور کے پی میں الیکشن 8؍ اکتوبر 2023ء تک کیلئے ملتوی کر دیے تھے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اسے غیر آئینی، قانون اور اختیار سے بالاتر قرار دیا اور اسے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا کوئی قانونی اثر نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کو آئین اور نہ ہی قانون اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ الیکشن کیلئے آئین کے آرٹیکل (2) 224 میں وضع کردہ 90؍ دن کی شرط سے زیادہ کی تاریخ دے۔
رابطہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ کمیشن فیصلہ کرے گا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اس کے پاس کیا آپشنز ہیں۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ کمیشن چاہے تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرے یا اپنے فیصلے کو سپریم کورٹ کی جانب سے غیر آئینی قرار دینے پر اس کیخلاف نظرثانی پٹیشن دائر کرے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ آئین کے تحت سپریم کورٹ کس طرح پنجاب میں الیکشن کی 14 مئی کی تاریخ اور انتخابی شیڈول کا اعلان کر سکتی ہے کیونکہ یہ کام آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ پنجاب کیلئے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ کے پی کا معاملہ چھوڑ دیا گیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں الیکشن میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ سیکورٹی اہلکاروں کی مطلوبہ تعداد دستیاب نہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے کمیشن کو بتایا تھا کہ اس کے پاس ساڑھے تین لاکھ اہلکاروں کی کمی ہے اور موجودہ حالات میں وہ ایک پولنگ اسٹیشن پر بمشکل ایک پولیس والا ہی تعینات کر سکتی ہے۔ اس طرح کے حالات میں کمیشن پولنگ اسٹیشن کی حفاظت کیسے کر سکتا ہے؟ فوج کو الیکشن ڈیوٹی پر لگانے کے حوالے سے کمیشن کو دفاعی حکام نے بتایا تھا کہ وہ اپنی حساس بنیادی ذمہ داریوں پر سمجھوتا نہیں کر سکتے اور ملک و قوم کے دفاع اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے فوجیوں کو الیکشن ڈیوٹیز پر نہیں لگا سکتے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع نے سوال کیا کہ کیا اب دفاعی حکام فوجیوں کو الیکشن ڈیوٹیز پر لگانے کیلئے آمادہ ہو جائیں گے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد اتحادی حکومت نے کابینہ کا اجلاس منعقد کیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔
حکومت اگرچہ سیاسی سطح پر یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے لیکن آئینی طور پر اس کا فرض ہے کہ وہ فیصلے پر عمل کرے یا نظرثانی پٹیشن دائر کرے۔ آپشنز پر غور کے حوالے سے کابینہ نے مبینہ طور پر قانونی ماہرین سے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال کے پیش نظر کیا آئینی اور قانونی راستے دستیاب ہیں تاکہ پنجاب میں 14؍ مئی الیکشن سے گریز کیا جا سکے۔
حکمران اتحاد میں بھی مستقبل کی سیاسی اور قانونی حکمت عملی بارے مشاورت جاری ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے میں سپریم کورٹ کے اپنے اندر جاری خلیج کو بھی دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اختلافی ججز کے اختیار کردہ موقف کو مسترد کیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’’ہماری توجہ کچھ ایسے معاملات کی جانب مبذول ہوئی ہے جو اس عدالت سے متعلق ہیں ۔بالخصوص، ہماری توجہ اقلیتی دو فاضل ججز کی جانب سے پیش کردہ مفصل وجوہات کی جانب گئی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مذکورہ معاملات کا فیصلہ 4:3 کی اکثریت سے ہو چکا۔ مودبانہ انداز سے، ہم یہ کہتے ہیں کہ اقلیت میں فاضل جج صاحبان نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ غلط ہے اور قانون کی رو سے پائیدار نہیں۔ تاہم اب وقت ہی بتائے گا کہ سپریم کورٹ کے ’’اختلاف رکھنے والے‘‘ ججز سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر کس رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔
دوسری طرف ماہر قانون صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ انتخابات سے متعلق سوموٹو کیس نے پہلے دن سے کنفیوژن پیدا کر رکھی ہے۔ اگر پہلے دن ہی فل کورٹ بن جاتا تو یہ ساری قانونی پیچیدگیاں پیدا ہی نہ ہوتیں۔ جس طریقے سے یہ آرڈر آیا ہے اس پر عمل درآمد کروانا سپریم کورٹ کے لئے خاصا مشکل ہو گا۔
سپریم کورٹ رپورٹر حسن ایوب خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ چیف جسٹس کے ساتھی ججز کو بھی قبول نہیں ہے۔ سمجھ نہیں آئی اس بنچ کو کس بات کی جلدی تھی کہ وہ پنجاب میں تو ہر صورت میں الیکشن کروانا چاہ رہے ہیں جبکہ کے پی والا معاملہ وہیں کا وہیں چھوڑ دیا۔ چیف جسٹس سمیت سب کو علم ہے کہ 14 مئی کو الیکشن نہیں ہو سکتے تو پھر کیوں فیصلہ دیا گیا تو اس سے یہی بات سمجھ آتی ہے کہ عمران خان کو ایک بیانیہ ملے گا، چیف جسٹس نے عمران خان کو ایک بیانیہ دے دیا ہے۔ الیکشن ہوں یا نہ ہوں، عمران خان کے لئے ون ون سچویشن بن چکی ہے۔
عدالتی فیصلے بارے سینیئر صحافی مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دینا اور شیڈول جاری کرنا اگر سپریم کورٹ نے اپنے ذمے لے لیا ہے تو الیکشن کمیشن کو ختم کر دینا چاہئیے۔
