کیا واقعی آصف زرداری کااسٹیبلشمنٹ سے مک مکا ہو چکا ہے؟

سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی گیم ہمیشہ آن رہتی ہے اور وہ ڈیل میکر ہیں۔ اب بھی سابق صدر کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہو چکی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ پیپلزپارٹی کے ساتھ تھوڑا بہت مک مکاکررہی ہے،کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ن لیگ عام انتخابات میں سو فیصد سیٹیں لے جائے۔
سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ موجودہ نگران حکومت کا وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے اور اسٹیبلشمنٹ اس وقت سابق صدرآصف علی زرداری کیساتھ تھوڑا بہت مک مکاکررہی ہے.کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ن لیگ عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت لے جائے۔
پنجاب میں آزاد امیدواروں کو پیپلز پارٹی کی جانب سے فنڈنگ ملنے کے حوالے سے کیے گئے سوال پر نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کی گیم ہمیشہ آن رہتی ہے۔ وہ کبھی اپنے سارے پتے نہیں پھینکتے۔ آخری وقت تک وہ کھیلتے ہیں اور اپنے پتے پھینکتے رہتے ہیں۔انہیں کبھی پیسے خرچ کرنے کی فکرنہیں رہتی۔ وہ لمبے پیسے لگاکرڈیلزکرتے ہیں،وہ ایک ڈیل میکر ہیں۔ آصف زرداری کیساتھ لوگ خوشی سےڈیل کرتےہیں۔ ان کی نسبت باقی سیاستدانوں کی ڈیلز اورہوتی ہیں کیونکہ وہ پیچھے ہٹ جاتےہیں۔لیکن آصف زرداری پیسہ بھی رکھتے ہیں اور ڈیل بھی کرتے ہیں اور ان کی ڈیلز ہمیشہ پکی ہوتی ہیں۔ ڈیل کرنے والوں کو بھی ان پر پورا اعتماد ہوتا ہے جو کہ ان کے لیے ایک مضبوط پوائنٹ ہے۔
نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ سیاست میں یہ سب ہوتا رہتا ہے۔یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ پیسے کہاں سے آئے؟ کہاں گئے؟ یہ تو چلتا رہتا ہے۔نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس بارآصف زرداری نے پنجاب میں پیسے لگانے کا سوچا ہے۔ انہیں سندھ میں پیسے لگانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب ان کی حکومت آتی ہے تو پیسے تو آہی جاتے ہیں۔اپنے لوگوں کو ہر طرح سے سہولت دیتے رہتے ہیں۔ پنجاب میں فنڈز نہ ہونے کی وجہ سےانہیں جیب سے پیسےخرچ کرنے پڑتےہیں۔اس دفعہ جس طرح سے پیپلزپارٹی پنجاب میں پیسے لوٹا رہی ہے میں نے کبھی پہلے ایسا نہیں دیکھا۔ سندھ میں ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہاں ان کی پکی سیٹیں ہیں۔ تو پنجاب میں بلاول بھٹو زرداری اور ان کی انتخابی مہم پر پیپلز پارٹی بہت پیسے لگا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آصف زرداری کا خیال تھاکہ ۔ پی ڈی ایم میں بھی ن لیگ کا مرکزی کردار تھا۔ پیپلز پارٹی پیچھے ہو کے بیٹھی تھی اور برا بھلا ن لیگ کو کہا جارہا تھا۔ حالانکہ تھے ایک ساتھ ہی لیکن خاموشی کے ساتھ ملک کے خارجہ پالیسی اور امور پر کام کر رہے تھے اور ملکی معاشی مسائل کی وجہ سے ن لیگ، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے ساتھ گالم گلوچ ہو رہی تھی۔ن لیگ سے لوگ کافی بیزارہیں تو ان کےلوگوں کو کھینچنےکی کوشش کی جائے۔ انہیں ن لیگ سے توڑا جائے۔لیکن آصف زرداری نےدیکھاکہ عمران خان کے خلاف جو پورا محازبنا ہوا ہےاس میں فائدہ تو ن لیگ کا ہورہا ہے۔اس میں یہ بھی ایک تاثر ہےکہ اسٹیبلشمنٹ ن لیگ کے ساتھ کھڑی ہے۔توشاید پیپلزپارٹی ن لیگ کے ووٹ توڑنےمیں کامیاب نہ ہوسکے۔کیونکہ ن لیگ کاووٹ 30 سال میں بنا ہے،ان کی بہت گہری جڑیں ہیں۔ اور ویسے بھی پنجاب میں ن لیگ نے بھی تو پیسہ لگایا ہوا ہے۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ پھر پیپلز پارٹی قیادت نے سوچا کہ اب وہاں رہ کیا گیا ہے؟ تو اب پیپلزپارٹی کا نشانہ پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار ہیں، کہ ان کو توڑا جائے۔ تاکہ ووٹنگ گراونڈ میں ان سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ابھی پیپلز پارٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کے ان امیدواروں سے رابطے جاری ہیں جن کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ انہیں کچھ کھلا پلا کر اپنی پارٹی کی میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ شامل نہ بھی ہوں تو کم از کم ان کے حامی اور اتحادی بن جائیں۔ تو آصف زرداری کا فوکس اس وقت پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی طرف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کٹی پتنگ لوٹنے میں آصف زرداری سب سے ماہر ہیں۔ بلوچستان میں انہوں نے بڑے ماہرانہ انداز میں سب گھیر لیا ہے۔ اور اب پنجاب میں بھی کم از کم 4 سے 5 سیٹیں تو اسی طرح سے گھیر لیں گے۔ ان کی اپنی بھی 4 سے 5 سیٹیں ہو گی۔ تو اگر وہ 8 یا 10 سیٹیں پنجاب
سے لے گئے تو ان کے لیے زبردست ہو جائے گا۔
