ثاقب نثار نے عمران خان کو نامکمل صادق اور امین کیوں کہا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ جو سچ زندگی کا سامنا نہ کر سکے ، جیتے جی اُس کی موت کا منظر کیسا ہو گا؟ جسٹس ثاقب نثار کہہ رہے ہیں کہ اُنھوں نے عمران خان کو مکمل صادق اور امین نہیں کہا اور ہو سکتا ہے کہ چند فیصلے اُن سے غلط ہوئے ہوں مگر وہ اپنے حصے کا سچ کتاب کی صورت مرنے کے بعد چھوڑ جائیں گے۔ ثاقب نثار ہوں یا جنرل باجوہ کم از کم اپنے حصے کا اعتراف کر کے کسی حد تک اُس پچھتاوے کو کم کر سکتے ہیں جو اُن کے بعد اُن کی نسلوں تک رہے گا کہ کس طرح ملک کی بنیادوں میں نفرت اور تقسیم کا بارود نصب کیا گیا تھا۔ اپنے کالم میں عاصمہ شیرازی لکھتی ہیں کہ کیا جو کچھ ہو رہا ہے ایسا ہی ہونا تھا، اس ہونے سے پہلے بھی تو کچھ ہوا ہو گا؟ اور اس ہونے کے بعد نہ جانے اور کیا کچھ ہونا ہو گا؟ ہم ریل کے پلیٹ فارم پر کھڑا وہ ہجوم ہیں جن کو منزل کا پتا نہیں اور سفر ہے کہ کٹتا نہیں۔خود کلامی کی عادت سی ہو گئی ہے، خود سے سوال اور خود سے جواب، خود ہی سے لڑائی اور خود ہی سے اُکتاہٹ بھی۔ کبھی یہ خیال کہ خیال کیوں اور کبھی یہ سوال کہ سوال کیوں؟ بقول مصطفیٰ زیدی
لُٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ
اب جو کہنا ہے تو جیسے کوئی نوحہ کہئے
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ چیزیں اتنی پھیل گئی ہیں کہ سمجھ نہیں آ رہا سمیٹنا شروع بھی کریں تو کہاں سے، آوازیں اتنی کہ کوئی آواز سمجھ میں نہیں آ رہی اور ٹوٹ پھوٹ کا یہ عالم کے تعمیر کا نشان ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔روز روز کا یہ نوحہ کسی انجام کو ہی نہیں پہنچ رہا کہ کس طرح ایک ایک کر کے اداروں کے نیچے لگائے چھوٹے چھوٹے ڈائنا مائٹ پھٹ رہے ہیں لیکن اس دور میں سب بُرا بھی نہیں ہو رہا، کچھ اچھا بھی ہو رہا ہے۔کل تک ہم ملک کے ساتھ کیے جانے والے نئے تجربے کی سچائی تلاش نے کی بات کر رہے تھے آج بغیر کسی کمیشن کے سچائی اُبل اُبل کے سامنے آ رہی ہے۔
کہیں جنرل ریٹائرڈ باجوہ کھُل کھُل کر نظام سے کیے گئے تجربے بیان کر رہے ہیں تو کہیں اُسی نظام کے خالقوں میں سے جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار ’نامکمل صادق اور امین‘ کی کتھا سُنا رہے ہیں۔ مقتدرہ کے ہاتھوں عدالتوں کی کہانیاں اور عدل کے ہاتھوں میں اقتدار کی خفیہ ڈوریاں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ کھیل ہی کھیل میں جو تخریب کاری نظام کے ساتھ ہوئی اور جو خمیازہ مملکت نے بھُگتا ہے اُس کا تخمینہ لگانے والی کوئی مشین ایجاد نہیں ہوئی۔آخر میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ نہ ہم بدلے ہیں اور نہ ہی حالات بدلے ہیں۔ وہی عدالتیں، وہی فوجی و سول بیوروکریسی، وہی اشرافیہ اور وہی مقتدرہ۔ تبدیلی آئی ہے تو بس یہ کہ مقتدرہ نے نئے رنگ کا چولا سلوا لیا ہے اور ہائبرڈ کا سیاسی ماسک مستقل چہرے پر سجا لیا ہے۔
