بندیالی گروپ کو شکست، جسٹس قاضی فائز عیسٰی جیت گئے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے فُل کورٹ بینچ نے چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق ’پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ‘ کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔اس فیصلے سے جہاں سپریم کورٹ میں بندیالی گروپ کو شکست فاش ہوئی ہے بلکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اپنی اکثریت ثابت کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں پریکٹس اینڈ پروسیجر بل بارے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے فیصلے سے جہاں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے عدالت عظمی میں اکثریت ثابت ہو چکی ہے وہیں سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو بھی تسلیم کر لیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائر عیسی نے اپنے اختیارات محدود کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھی دو سینئر ججز میں تقسیم کر کے ایک تاریخ رقم کی ہے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ملکی سیاسی اور عدالتی تاریخ پر دوررس اثرات مرتب ہونگے۔

خیال رہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس بنیادی طور پر چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات کو محدود کرنے کے قانون سے متعلق تھا۔ اتحادی حکومت نے سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کر کے بنچز کی تشکیل کے چیف جسٹس تک محدود اختیار کا دائرہ بڑھاتے ہوئے 2 سینیئر ججز کو بھی شامل کر لیا تھا یوں اس اختیار کو چیف جسٹس اور 2 سینیئر ترین ججز کی 3 رکنی کمیٹی کو سپرد کر دیا تھا۔اس قانون کی دوسری شق 184 سیکشن 3 یعنی مفاد عامہ کے کیسز پر از خود نوٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دینے سے متعلق تھی، جبکہ تیسرا اہم نقطہ اپیل کا حق دینے کے قانون کا اطلاق ماضی کے کیسز پر بھی لاگو کرنا تھا۔اس قانون پر سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی بنچ نے حکم امتناعی جاری کیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ کے نئے آنے والے چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اس مقدمے کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جس نے 5 طویل سماعتیں کیں۔ بدھ کو سنائے گئے اس فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے اس قانون کی دوشقوں کو منظور کر لیا گیا جبکہ ایک کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد سابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی جانب سے دیا گیا حکم امتناع ختم ہوگیا ہے اور قانون لاگو ہو گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے بینچز کی تشکیل کے لیے 3 رکنی کمیٹی بنانے کے قانون کو درست قرار دیا گیا ہے یعنی اب بینچز کی تشکیل صرف چیف جسٹس نہیں بلکہ 2 سینیئر ترین ججز کی مشاورت سے کی جائے گی۔10 ججز نے بل ہی اس شق کی حمایت کی جبکہ 5 ججز جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے وحید، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اختلاف کیا۔

اس قانون کی دوسری اہم شق یعنی عوامی مفاد عامہ کے از خود نوٹسز کے صیصلوں میں اپیل کا حق دینے کے قانون کو بھی درست قرار دیا اور 9 ججز نے اس کی حمایت جبکہ 6 ججز نے مخالفت کی۔جسٹس یحییٰ آفریدی مذکورہ بالا اختلاف کرنے والے 5 ججز میں اس شق کی حد تک شامل ہوئے۔اس قانون کی تیسری شق کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے کالعدم قرار دیتے ہوئے خلاف آئین قرار دیا ۔ جس کے مطابق اپیل کا حق ماضی کے تمام کیسز پر لاگو کیا جانا تھا۔اس شق کی حد تک 7 ججز نے اختلاف کیا اور مذکورہ بالا 2 شقوں کو درست قرار دینے والے اکثریتی ججز اس شق کی حد تک اقلیتی قرار پائے۔اس شق میں جسٹس یحییٰ آفریدی کے علاوہ جسٹس حسن علی رضوی اور جسٹس محمد علی مظہر نے چیف جسٹس کے رائے سے اختلاف کیا اور یوں چیف جسٹس کی رائےسے متفق ججز کی تعداد اقلیت میں تبدیل ہوئی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت اب آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تمام مقدمات کے لیے بینچ چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے دیگر دو سینیئر ترین ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیا کرے گی۔اس حوالے سے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ ’شفاف ٹرائل شہریوں کا بنیادی حق ہے۔‘’جس مقدمے میں اپیل کا حق ہی نہ ہو وہ شفاف کیسے ہوسکتا ہے۔ اوپر سے بینچ بھی مرضی کے ججوں پر مشتمل ہو۔ اس لیے پارلیمنٹ نے دُرست قانون سازی کی تھی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ماضی میں چیف جسٹس کو ماسٹر آف روسٹر کہہ کر مطلق العنان آمر بنا دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی اکثریت نے اس اصطلاح کو مسترد کر دیا ہے۔‘ ’کہا جاتا ہے کہ ایک ٹیم کے دو کپتان نہیں ہوتے۔ یہ ٹیم کپتان کی بات نہیں بلکہ یہ تو سلیکشن کا معاملہ ہے کہ کون سا جج کون سا کیس سنے گا۔‘ان کے مطابق ’سلیکشن کمیٹی ایک فرد پر مشتمل تو نہیں ہوتی۔ ویسے بھی یہ کرکٹ ٹیم نہیں بلکہ انصاف کا معاملہ ہے جسے شفاف بنانا ضروری تھا۔‘

دوسری طرف ماہر قانون حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ ’جب 184(3) کے اختیار کو سیاسی معاملات کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو سپریم کورٹ پر سخت تنقید ہوئی۔‘پارلیمنٹ نے قانون سازی کرکے صورت حال کا حل نکالا جس سے عدلیہ کی آزادی متاثر نہیں ہوئی۔‘’چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اپنے اختیارات تقسیم کرنا گوارا کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا اور اس کے قانون سازی کے حق کی توثیق کی ہے۔‘ ان کے مطابق ’ماضی کے فیصلوں پر اپیل کے حق کے لیے نظرثانی کی اپیل کی جا سکتی ہے۔‘

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے مطابق ’سپریم کورٹ نے ایکٹ کے تحت ماضی سے اطلاق کی شق 7-8 سے مسترد کردی جس کے بعد اپیل کا حق ماضی کے فیصلوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ کےفیصلے کے تحت ازخود نوٹس کے اختیار کے تحت ماضی میں کیے گئے فیصلوں پر اپیل نہیں کی جا سکتی لیکن یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ نواز شریف یا کوئی بھی متاثرہ فریق سپریم کورٹ کے فیصلے کےخلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر سکتا ہے۔ نظرثانی کی اپیل بھی فل کورٹ بینچ ہی سنے گا۔

عمران شفیق ایڈووکیٹ کے مطابق ’اس فیصلے سے سپریم کورٹ اپنے ہی چیف جسٹس کی آمریت سے آزاد ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس اپنے ساتھی ججوں کی مشاورت سے کام کرے گا جبکہ سپریم کورٹ ایک ادارے کے طور پر کام کرے گی۔‘’امید ہے کہ اب چیف جسٹس کو بلیک میل کر کے یا اسے ہمنوا بنا کر پوری سپریم کورٹ کو یرغمال بنانے کا دور ختم ہو جائے گا۔‘عمران شفیق ایڈووکیٹ کے مطابق ’اب ازخود نوٹس لیتے وقت چیف جسٹس یہ سوچے گا کہ پہلے تین ججوں کا بینچ بنانا ہے، اور پھر بعد میں اس سے بڑا بینچ اپیل بھی سنے گا۔‘انہوں نے کہا کہ ’اب سپریم کورٹ کسی فائل کو سالہا سال تک دبا کر نہیں بیٹھے گی بلکہ دو

جنوبی افریقہ کا آسٹریلیا کو فتح کیلئے 312 رنز کا ہدف

ہفتوں میں کیس کی ابتدائی سماعت ہو سکے گی۔‘

Back to top button