چیف جسٹس بندیال نے سپریم کورٹ کو کیسے تقسیم کیا؟

سپریم کورٹ میں ججز میں تقسیم کھل کر سامنے آ چکی ہے، عدالت عظمیٰ واضح طور پر دو گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ عدلیہ میں موجودہ تقسیم کی بنیادی وجوہات میں جمہوری اصولوں کی عدم موجودگی، مشاورت کے فقدان اور عدالتی تقرریوں میں سینیارٹی کے اصول کو نظرانداز کردینے جیسے عوامل شامل ہیں۔تمام اہم معاملات پر سینیئر ججوں سے مشورے کی روایت سے ہٹ جانے کی وجہ سے ججز معترض ہیں، درحقیقت اہم آئینی اور سیاسی مقدمات کی سماعت کے لیے بنائے گئے بینچوں سے باہر رکھا جانا ہی سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے درمیان تنازع کی جڑ ہے۔
ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ چند روز کے دوران سپریم کورٹ میں تقسیم اور 1997 میں پیدا ہونے والے اس بحران کے درمیان کئی مماثلتیں دکھائی دیتی ہیں جوکہ جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ اور نواز شریف حکومت کے درمیان تصادم کے بعد پیدا ہوا تھا۔دونوں واقعات میں حیرت انگیز مماثلتوں کے پیش نظر مبصرین اور قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اہم قومی اداروں کے سربراہان کی جانب سے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ملک میں سیاسی پولرائزیشن کی موجودہ صورت حال کے سبب یہ بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور 2007 کی وکلا تحریک کی اہم شخصیات میں سے ایک منیر اے ملک نے بتایا کہ ’اگرچہ ججز کی صفوں میں اختلاف رائے کافی عرصے سے موجود تھا لیکن سیاسی پولرائزیشن کی موجودہ صورتحال کے سبب یہ مسئلہ بڑھ گیا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پنجاب میں انتخابات بارے فیصلہ سنا دیا ہے تاہم منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ ’اس حکم پر عمل درآمد ایک مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ حکومت اس موجودہ بینچ کے حکم کی پاسداری کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ 1997 اور موجودہ دونوں عدالتی بحرانوں میں ایک بڑی مماثلت یہ ہے کہ شریف خاندان اور ان سے جڑی قانونی چارہ جوئی دونوں تنازعات کا مرکز تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم عدالتی حکم کی تعمیل کرنے سے انکار کرتا ہے تو عدالت عظمیٰ وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے، مثلاً سابق صدر آصف علی زرداری کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے حکم سے انکار پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کے مرتکب قرار پائے۔
منیر اے ملک نے تجویز دی کہ چیف جسٹس ججوں کے درمیان ہم آہنگی بحال کرنے اور ادارے کو اندرونی تقسیم سے بچانے کے لیے فل کورٹ میٹنگز کریں اور ان اختلافات کا سبب بننے والی بنیادی وجوہات سے مزید سختی سے نمٹیں۔موجودہ اور 1997 کے واقعات میں ایک اور مماثلت فیصلوں کے ذریعے اختلافات کا اظہار کرنا اور انتظامی سرکلر کے ذریعے عدالتی احکامات کو کالعدم قرار دینا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے تازہ خط کے تناظر میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ہٹائے جانے سے معاملات مزید کشیدہ اور پیچیدہ ہوں گے۔
سابق صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن صلاح الدین احمد نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی خدمات اچانک واپس لینا چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو ناگوار گزر سکتا ہے اور وہ اس کا نوٹس بھی لے سکتے ہیں۔صلاح الدین احمد نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط میں کوئی غیر قانونی بات دکھائی نہیں دیتی، تاہم ان کی بھی یہی رائے ہے کہ عدلیہ کے اندر پیدا ہونے والا حالیہ تنازع تیزی سے 1997 جیسی صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے۔صلاح الدین احمد کا خیال ہے کہ ججوں کے درمیان اختلافات کے عوامل بیرونی نہیں اندرونی ہیں، ان عوامل میں بینچوں کی تشکیل میں غیر شفافیت، از خود نوٹس کے اختیارات کا بےتحاشہ استعمال اور غیر منظم عدالتی تعیناتیاں اور ترقیاں شامل ہیں۔
لیکن دوسری جانب اسلام آباد میں مقیم ایڈووکیٹ عمر گیلانی کا خیال ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور سے یکے بعد دیگرے تمام چیف جسٹس اپنے ہم خیال ججوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کی مدد سے ماورائے آئین قوتوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دی گئی قربانیوں کی وجہ سے ججوں کی ایک بڑی تعداد نے اب کھلے عام اس سب کے خلاف بغاوت کر دی ہے، ان سب کا کوئی سیاسی مفاد نہیں ہے بلکہ وہ طاقت کے کھیل میں عدلیہ کی غیر جانبداری کو بحال کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں‘۔ایڈووکیٹ عمر گیلانی نے مزید کہا کہ ’اس تناظر میں دیکھا جائے تو ججوں کے درمیان موجودہ تقسیم 1997 کے واقعات سے بالکل مختلف نظر آتی ہے جب بینچ کو تقسیم کرنے کے لیے سیاسی دباؤ کا استعمال کیا گیا تھا‘۔
دونوں ادوار میں مماثلت کا مشاہدہ کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اسامہ خاور نے کہا کہ اس بار ایک سینیئر جج کے خلاف ناقص بنیادوں پر چلنے والے مقدمے نے سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان پیدا ہونے والی تقسیم مزید گہری کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس سجاد علی شاہ کو کوئی سیاسی حمایت حاصل نہیں تھی جبکہ آج ایک مقبول سیاسی جماعت پی ٹی آئی، پی ڈی ایم حکومت سے دشمنی کی وجہ سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے پیچھے کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس اتنے تنہا نہیں ہیں جتنے سجاد علی شاہ تھے کیونکہ جسٹس عمر عطا بندیال کو کم از کم 2 مستقبل کے چیف جسٹسز کی حمایت حاصل ہے۔
تاہم دراڑیں پیدا ہونے کے باوجود ججز نے سپریم کورٹ کو ابھی تک 1997 کی طرح واضح طور پر 2 متوازی گروپوں میں تقسیم نہیں کیا ہے جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ کی جانب سے 5 رکنی بینچ اور جسٹس سعید الزماں صدیقی کی جانب سے 10 رکنی بینچ پر مشتمل 2 علیحدہ علیحدہ کاز لسٹیں جاری کی گئی تھیں اور دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کے فیصلوں کے خلاف عدالتی اور انتظامی احکامات بھی جاری کیے تھے۔ایڈووکیٹ اسامہ خاور نے کہا کہ کہ پارلیمنٹ کو بحران پر قابو پانے کے لیے قانون کو پامال کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور عدلیہ کو پارلیمنٹ کی حکمت کا احترام کرنا چاہیے۔
