کیا حکومت کے پاس واقعی انتخابات کیلئے پیسےنہیں ہیں؟

الیکشن کمیشن نے ملک میں سیکیورٹی اور معاشی صورتحال کو بنیاد بنا کر پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں الیکن اکتوبر تک ملتوی کرنے کے بعد کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  الیکشن کے لیے ٹوٹل کتنا بجٹ درکار ہوتا ہے اور کیا حکومت کے پاس واقعی الیکشن کیلئے فنڈز موجود نہیں ہیں؟ فنڈز کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے جہاں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے سیلری کٹ لگا کر فنڈز پورے کرنے کی تجویز دی ہے وہیں تحریک انصاف الیکشن کے انعقاد کیلئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کمپین کرنے کو تیار ہے جبکہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ الیکشن کے انعقاد کیلئے فنڈز کی دستیابی کا کوئی مسئلہ نہیں لیکن عمران کی اناء کی تسکین اور خواہش کی تکمیل کیلئے صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کیلئے الگ الگ فنڈز فراہم نہیں کئے جا سکتے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے مطابق حکومت نے 2023 جنرل الیکشنز کے لیے تقریباً 47 ارب روپے بجٹ کا تخمینہ لگایا تھا۔ تحریک انصاف کے قومی اسمبلی سے استعفوں کے بعد ان حلقوں میں دوبارہ الیکشنز کروانے کے لیے مزید 14 ارب روپے مانگے گئے۔ یوں ٹوٹل بجٹ 61 ارب روپے ہو گیا۔پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشنز کروانے کے لیے 25 ارب روپے مانگے گئے، جس میں سے پانچ ارب الیکشن کمیشن کے پاس موجود ہیں۔ یعنی کہ مزید 20 ارب روپے مل جائیں تو الیکشنز کروائے جا سکتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کیلئے طلب کردہ رقم ملک کے سالانہ بجٹ کا صرف 0.18 فیصد بنتی ہے۔ جس ملک کا جی ڈی پی 353 ارب ڈالرز سے زیادہ ہو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے پاس الیکشنز کروانے کے لیے صرف 20 ارب روپے نہ ہوں؟‘ان کے مطابق: ’ایک طرف سرکار نوجوانوں کے لیے 150 ارب روپے کا ڈویلپمنٹ بجٹ منظور کر رہی ہے اور دوسری طرف یہ عذر پیش کیا جا رہا ہے کہ الیکشنز کروانے کے لیے 20 ارب روپے نہیں ہیں۔‘

دوسری جانب سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلیمان شاہ نے بتایا کہ ’مفتاح اسماعیل نے جو بجٹ پاس کیا تھا اس میں وفاق اور صوبوں کے اخراجات تقریباً 12 ہزار ارب سے زیادہ ہیں۔ جب وہ تمام اخراجات ہو رہے ہیں تو ان میں سے صرف 20 ارب روپے کیسے نہیں نکالے جا سکتے؟ جو لوگ فنڈز نہ ہونے کا راگ الاپ رہے ہیں وہ سفید جھوٹ بول رہے ہیں اور میرے مطابق ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’جتنا الیکشنز کا بجٹ ہے اس سے زیادہ خرچ اور نقصان تو عمران خان کی گرفتاری، کارکنان کی پکڑ دھکڑ، آنسو گیس، جلاؤ گھیراو اور عدالتی کیسز پر ہو چکا ہو گا۔‘

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بتایا کہ ’ماضی میں فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے الیکشنز نہ ہونے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگر ایسا ہوا تو پہلی مرتبہ ہو گا۔ لیکن اس وقت پاکستان ترقی کی جانب گامزن تھا۔ فنڈز کی قلت نہیں تھی۔ جو معاشی بحران آج ہے وہ ماضی میں نہیں تھا۔ پہلے حلقے بھی کم تھے، اب تین گنا بڑھ چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ترجمان کو اس حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دینی چاہیے۔‘

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے بتایا کہ ’حکومت کا یہ دعوی پاکستان کا عالمی سطح پر مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اس دعوے پر یقین کرنا نان سینس ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ میں اگر الیکشنز کا کیس درست سمت میں چلے اور سرکار سے پورا حساب کتاب منگوایا جائے تو سچ ایک دن میں عوام کے سامنے آ جائے گا۔ سپریم کورٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ الیکشنز کروانے کے لیے ہماری تنخواہوں پر پانچ فیصد کٹوتی کر لی جائے۔ اس سے آگے تو کچھ نہیں ہے۔ حکومت کو شرم کرنی چاہیے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عجیب بات ہے کہ حکومت نے کویتی کمپنی کو ڈیزل کی ادائیگی کرنے کے لیے 27 ارب روپوں کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن الیکشنز کے لیے 20 ارب روپے نہیں ہیں۔ ان حقائق کے بعد کون حکومت پر یقین کرے گا۔‘

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جزل سیکریٹری ظفر پراچہ صاحب نےبتایا کہ ’چند روز قبل مجھے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس میں بلایا گیا جہاں یہ انکشاف ہوا کہ خیبرپختونخوا کے چھ وزیروں کے پاس 65 گاڑیاں ہیں۔ اسی طرح اجلاسوں اور کمیٹیوں کے انعقاد کے نام پر روزانہ اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت اجلاس آن لائن منعقد کرنا شروع کر دے، بیوروکریٹس کی مراعات کم کرے اور سیاستدانوں کو گاڑیاں اور فیول دینا بند کرے تو 20 دن میں 20 ارب کی بچت ہو جائے گی اور اس سے الیکشنز کروائے جا سکیں گے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریٹنگ کم ہونے کی وجہ سے حکومت نے دو ارب ڈالرز کے بانڈز جاری نہیں کیے۔ اس طرح کے بیانات سے ریٹنگ مزید کم ہو گی اور ملک میں ڈالرز بھی نہیں آ ئیں گے۔‘

ماہرِ معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے بتایا کہ ’اطلاعات ہیں کہ سرکار نے ایم این ایز کو 110 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لیے جاری کیے ہیں۔ میڈیا پر اربوں روپوں کی اشتہاری مہم چلائی جا رہی ہے۔ مبینہ طور پر حکومتی مشینری اور فنڈز استعمال کر کے سیاسی جلسے کیے جا رہے ہیں۔ لہٰذا الیکشن کروانے کا بجٹ نہ ہونے کا دعویٰ غلط ہے۔’ایتھیوپیا، گھانا جیسے ملکوں میں بھی ایسی مثال نہیں ملتی۔ اگر ایٹمی ملک کہے کہ ایک قومی اور آئینی فریضہ انجام دینے کے لیے صرف 20 ارب نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ملک دیوالیہ ہو چکا ہے۔‘

کیا خان صاحب کے ”سنگی ساتھی“ تھکنے لگے ہیں؟

Back to top button