کیا عام انتخابات کا فروری میں انعقاد بھی مشکوک ھے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے کہا ھے آئین کےمطابق 90 روز میں الیکشن کروانا نگران حکومت کیلئے کوئی مشکل نہ تھا،مرضی کے مطلوبہ نتائج بھی حاصل ہو جانے تھے۔ شہباز حکومت نے وسیع تر قومی مفاد اور ناگزیر وجوہات پرجو اقدامات کیے وہ انتخابات کو فروری تک ملتوی کرنے کی گنجائش دے گئے ۔ اگر موافق حالات کے باوجود اس وقت ا لیکشن نہیں ہوسکے تو یہ بات طے کہ فروری میں بھی الیکشن کے انعقاد کی حوصلہ شکنی رہنی ھے ۔ ڈر ہے کہ آئین سے جو انحراف’’ نظریہِ ضرورت‘‘ کے تحت ہوچُکا ۔ ایسے نظریے کی ضرورت من و عن فروری میں بھی موجود رہنی ہے ۔ خدشہ ہے کہ انتخابات کے مزید التوا پریقیناً آئین ساقط ہونے کو ہے ‘‘ ۔

اپنے ایک کالم میں حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ 21 اکتوبر کو میاں محمد نواز شریف وطن میں قدم رنجا فرمانے کو ھیں وہ انگلستان چھوڑ چُکے ہیں اور سفر کا آغاز ہوچُکا ۔ کم و بیش ایک ماہ قبل انہوں نے ارادہِ سفر باندھا تو جوشِ خطابت یا وفورِ جذبات میں’’چند قومی مجرموں ‘‘ کا نام لیکر مطالبہ کر ڈالا کہ’’اُنکے خلاف مقدمات چلانے ہونگے‘‘۔ بس نام لینے کی دیر تھی کہ ، مملکت کے طاقتور حلقوں میں بھونچال آگیا۔ ن لیگی رہنماؤں میں کھلبلی مچ گئی۔ تب سے آج تک رہنماؤں کی طرف سے دو درجن وضاحتی بیان آ چُکے ہیں ۔تازہ بہ تازہ بیان ، سیاسی فہم و فراست سے عاری ہمارے دوست اسحاق ڈار کا اعلان کا یہ اعلان ھے کہ ، ’’معیشت کی بحالی نواز شریف کا بہترین انتقام ہوگا ‘‘۔ نہیں معلوم کہ’’اگر‘‘الیکشن ہو بھی گیا ’’اگر‘‘ نواز شریف اقتدار میں آ بھی گئے اور’’اگر‘‘معیشت بحال بھی ہو گئی تو بدلہ کس مد میں چُکتا ہوگا۔ معیشت کی بحالی پر جنرل باجوہ ، جنرل فیض ، ثاقب نثار ، آصف کھوسہ یا عمران خان ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان سب سے حساب بیباک ہو پائے گا

حفیظ اللّہ خان نیازی کا کہنا ھے کہ موجودہ حالات اورمعروضی حقائق میں معیشت کی بحالی کے عزم اور معاشی بحران بارے اسحاق ڈار کی کم علمی یاغیر سنجیدگی پر حیرت ھوئی ھے ۔ سیاسی عدم استحکام ہی تو موجودہ معاشی بحران کی وجہ بنا ہے ۔ 2014ء سے’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ ، جیسے ڈھکوسلے پراستوارغیر آئینی اور غیر قانونی ہتھکنڈوں نے مملکت کو ایک عرصہ سے متزلزل کر رکھا ۔ یکے بعد دیگر ذمہ داری سنبھالنے والوں نے بھی کسی بُخل کا مظاہرہ نہ کیا اسکو کمال فن بنایا ۔ آج مملکت سیاسی عدمِ استحکام کی دلدل میں گردن تک دھنس چُکی۔ خاطر جمع رکھیں ، جب تک اپریل 2014ءسے اپریل 2022ءتک مملکت کو اس حال تک پہنچانے والوں کاتعین نہیں ہو گا ۔ جب تک ’’ طاقتور ‘‘آئین اور قانون کے زیرِ دست نہیں ہونگے، ان کی دھجیاں اُڑانے والوں کو سزائیں نہیں ملیں گی، مملکت کا سیاسی مستقبل مخدوش ہی رہنا ہے ۔ جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہدوں کو دوام بخشنے کی خاطر جو’’شر‘‘ تخلیق کیا، آج عفریت بن کر سامنے ہے ۔ دونوں کا مقصدایک ہی کہ تاحیات آرمی چیف رہنا ہے ۔ جنرل باجوہ جو اپنے ادارے پر بھی رحم نہ آیا۔ اپنے عزائم کو ادارے کیخلاف استعمال کر ڈالا ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ادارے کی وجہ شہرت ’’اتحاد اور تنظیم ‘‘بذریعہ اپنے سربراہ تختہِ مشق بنی ۔

حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ ملک کا پہلا المیہ یہ ھے کہ طاقت کا سر چشمہ کبھی منتخب حکومت نہ بن پائی ۔ بگاڑ کی ساری ذمہ داری ہمیشہ سیاسی حکومت پر جبکہ اختیارات و احکامات ہمیشہ طاقت کے زیرِ اثر رہے ۔ دوسرا المیہ یہ ھے کہ ہر 8/10سال بعد مملکت زیرو پوائنٹ سے اپنے سیاسی استحکام کی بازیابی کے نئے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ اس لحاظ سے 70سال کے مختصر سفر میں ہم انواع واقسام کے نظام آزما چُکے۔ تیسرا المیہ یہ ھے کہ خواجہ ناظم الدین کی معزولی سے لیکر نگران وزیراعظم کاکڑ تک ، لمبی فہرست میں ایک وزیراعظم بھی ایسا نہیں جسکو اقتدار میں لانےکیلئے اسٹیبلشمنٹ کا کردار نہ رھا ہو یا کسی کو ضرورت پڑنے پر گھر بھیجنے میں اس نے کبھی کنجوسی نہ دکھائی ہو؟ ایسی اُکھاڑ پچھاڑ میں مملکت کا باجا بجتا رہا ۔ پردہِ سیمیں کے پیچھے کاریگر فراخدلی سے اپنے آپکو مسیحا، اور مجدد گردانتے رہے ۔ 6سال میں جنرل باجوہ اور عمران خان دلجمعی سے حالات کو جہاں دھکیل گئے ہیں، اُسکا منطقی انجام آج کی صورتحال ہی تھی ۔ یہ دونوں موجودہ آرمی چیف کیلئے کانٹے بو گئے ۔

حفیظ اللّہ خان نیازی کے مطابق آج کی تاریخ تک تو حکومت سے حکمران’’ کمبل‘‘بن کر بغل گیر رہے ہیں ۔ ملکی تاریخ میں پہلا موقع کہ حکومت’’کمبل‘‘بن کر حکمرانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چُکی ہے ۔ بظاہر موجودہ حکومت کا اس کمبل سے جان چھڑانا ناممکن نظر آتا ہے ۔ نواز شریف آ بھی گئے تو بلا شبہ بہت پُر تپاک استقبال متوقع ہے ۔ اگرچہ مینار پاکستان پر بہت بڑا شو ہوگا۔ مگر الیکشن ہی نہ ھوئے تو ان کے بیانیے کا تاثر چند ماہ میں زائل ہو جائے گا ۔ یوں اسحاق ڈار ایسی صورتحال میں انتقام کی زحمت سے بھی محفوظ رہینگے اور معیشت کی بحالی بھی وعدہ فردا ہی رہنی ہے ۔ ایک ناقابل حل معمہ یہ ھے کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کو سیاسی عدمِ استحکام کی دلدل میں دھکیلنے پر معاف کیونکر کیا جائے؟ یقیناً ماضی میں ایسا کام شجر ممنوعہ رہا ۔ مگر ادارے کیخلاف گھناؤنی سازش پر تو اُنکو گرفت میں نہ لانا ادارے کے اپنے لیے مضر ہے۔ نواز شریف نے قومی مجرموں کا نام لے ہی لیا تو ایسا شور شرابا کیوں؟ کہ بے چارے نواز شریف کو شرمندگی اُٹھانا پڑی ۔

Back to top button