ارشد شریف کے قتل کے اصل ذمہ دار کون ہیں؟

کینیا میں پراسرار حالات میں مارے جانے والے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل بارے کینیا کی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں کینین حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی صحافی ارشد شریف کا قتل غلط شناخت کا معاملہ تھا اور اس میں قتل کی کوئی منصوبہ بندی شامل نہیں تھی اور قتل سے قبل ارشد شریف کو کسی قسم کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کینیا کے ایک معتبر سرکاری ذرائع کے مطابق کینیا کی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ارشد شریف کو پیرا ملٹری جنرل سروس یونٹ جی ایس یو کے چار ارکان نےبلا صوابدید گولی مار کر ہلاک کیا کیونکہ ان کی گاڑی کا ڈرائیور خرم احمد پولیس کی طرف سے روڈ بلاک پر نہیں رکا تھا ۔کینیا کی رپورٹ پولیس کے ابتدائی بیان پر مبنی ہے کہ چار گارڈز بھاگتی ہوئی گاڑی کی تلاش میں تھے اور ارشد شریف کی گاڑی پر اس وقت گولیاں برسائیں جب خرم احمد نے پولیس کی جانب سے لگائے گئے روڈ بلاکس کوعبور کرلیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معتبر ذرائع کے مطابق ارشد شریف کی گاڑی پر گولیاں چلانے والے جی ایس یو کے چار افسران ڈیوٹی کے دوران نشے میں نہیں تھے۔پولیس نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ چاروں اہلکاروں نے حد سے زیادہ شراب نوشی کی تھی کیونکہ یہ ویک اینڈ کی رات تھی رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کو وقار احمد کے پہاڑی اور دور دراز ایمو ڈمپ شوٹنگ رینج سے سینٹرل نیروبی کی طرف وقار احمد کے پینٹ ہاؤس جاتے ہوئے مارا گیا جہاں وہ خفیہ طور پر رہ رہے تھے۔تاہم تفصیلی سرکاری رپورٹ میں پولیس کے اصل موقف کو مسترد کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر جی ایس یو افسران کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ ارشد کی لینڈ کروزر کے اندر سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی اور پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں تازہ تفصیلات موجود ہیں اور اسے ابھی منظر عام پر لانا باقی ہے کہ ارشد شریف کی گاڑی کے اندر سے کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ چار پولیس افسروں میں سے ایک کے ہاتھ میں واقعی چوٹ لگی تھی لیکن وہ ایک ساتھی پولیس افسر کی طرف سے چلائی گئی گولی کی زد میں آ گیا تھا جو 23 اکتوبر 2022 کوگاڑی کی طرف جا رہا تھا جس میں ارشد سوارتھا۔
سرکاری رپورٹ میں استغاثہ کو سفارش کی گئی ہے کہ جی ایس یو کے چار افسران میں سے دو لاپرواہی سے فائرنگ کرکے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال میں ملوث تھے اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔کینیا کے پینل کوڈ کے مطابق طاقت کے زیادہ استعمال میں ملوث کسی افسر کو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق سفارشات کینیا کی پراسیکیوشن سروس کو بھیج دی گئی ہیں لیکن ابھی تک استغاثہ اور الزامات پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔سرکاری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارشد شریف پر قتل سے پہلے یا بعد میں تشدد نہیں کیا گیا۔ارشد شریف کا ڈرائیور اور ساتھی وقار احمد کے بھائی خرم احمد تھے جنہیں حملے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔خرم احمدکا کہنا ہے کہ اس نے ارشد شریف کو شوٹنگ کی جگہ سے تقریباً 25 کلو میٹر دور اپنے بھائی کے آرگینک فارم ہاؤس تک پہنچایا، جن کی خون بہنے کی وجہ سے حالت تشویشناک تھی۔
واضح رہے کہ ارشد شریف کو تقریباً پانچ ماہ قبل کینیا کے جی ایس یو یونٹ نے نیروبی کے مضافات میں ایک کچی سڑک پر قتل کر دیا تھا۔ ارشد شریف کے قتل کے فوراً بعد، کینیا کی حکومت نے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور چند دنوں میں اس کے نتائج کو عام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کینیا کی انڈیپنڈنٹ پولیسنگ اوور سائیٹ اتھارٹی آئی پی او اے کی چیئرپرسن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کینیا کی پولیس کے ہاتھوں ارشد شریف کے قتل کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ شوٹنگ سے متعلق حقائق سامنے آ سکیں اور 23 اکتوبر کی رات کینیا کے جی ایس یو افسران کی طرف سے ارشد شریف کو ماری گئی گولی سے متعلق حالات کا تعین کرنے کے لیے مکمل اورتفصیلی تحقیقات کی جائیں گی ۔تاہم نہ تو کینیا کی حکومت اور نہ ہی آئی پی او اے نے پانچ ماہ میں اپنی تحقیقات کے نتائج جاری کیے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ کینیا کی حکومت نے دو ماہ قبل اپنی تحقیقات مکمل کر لی تھی لیکن رپورٹ کو عام نہیں کیا جا رہا ہے۔اس رپورٹ کو کینیا کی حکومت کے چند سینئر عہدیداروں نے دیکھا ہے۔ کینیا کی خفیہ سرکاری رپورٹ واقعہ کے اصل پولیس ورژن سے تقریباً لفظی طور پر اتفاق کرتی ہے جس نے شروع سے ہی غلط شناخت کی پوزیشن پر انحصار کرتے ہوئے کسی بھی قتل کی منصوبہ بندی یا قتل کی سازش کا حصہ ہونے سے انکار کیا تھا -پولیس کے مطابق، ارشد شریف کو غلط شناخت پر گولی مار کر ہلاک موت کے گھاٹ اتارا تھا۔
خیال رہے کہ دھمکیاں ملنے کے بعد ارشد شریف نے خیبر پختونخواحکومت کی مدد سے پشاور ایئرپورٹ سے دبئی کا سفر کیا تھا جہاں انھوں نے دس دن قیام کیا۔ ارشد شریف 20 اگست کو دبئی سے نکلے تو اُن کے پاس کینیا کا آن ارائیول ویزہ تھا۔ یہ ویزا انھیں نیروبی میں مقیم پاکستانی بزنس مین وقار احمد کے دعوت نامے کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ وقار احمد کے پاکستان اور کینیا کے تفتیشی اہلکاروں کو دیے گئے بیانات کے مطابق انھوں نے اس دعوت نامے کی وجہ اے آر وائے کے سینئر عہدیدار اور چینل کے مالک سلمان اقبال کے کزن مرزا وصی کو بتاتے ہیں جو اُن کے مطابق اُن کے قریبی اور پرانے دوست تھے اور مرزا وصی نے ہی ارشد شریف کے لیے دعوت نامہ بھیجنے کی درخواست کی تھی۔یاد رہے کہ ارشد شریف 23 اکتوبر 2022 کی رات کینیا کے علاقے مگاڈی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اُن کی موت کو تقریباً دو ماہ ہونے کو ہیں مگر پاکستان اور کینیا میں جاری اس ’ٹارگٹڈ قتل‘ کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والی معلومات بظاہر اس کیس کو مزید پیچیدہ اور گھمبیر بنا رہی ہیں۔ ۔
