کیا عمران نئے چیف کو بھی آنکھیں دکھانے والے ہیں؟

ماضی قریب میں آرمی چیف کو میر جعفر اور میر صادق کے القابات دینے والے سابق وزیر اعظم عمران خان نے موجودہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی آنکھیں دکھانی شروع کر دی ہیں۔ عمران خان نے لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں نے میری حفاظت کرنی ہے مجھے ان سے ہی خطرہ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے میری کوئی لڑائی نہیں، لیکن ایسے لگتا ہے آرمی چیف مجھے اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں۔

عمران خان کی حالیہ گفتگو بارے تبصرہ کرتے ہوئےسینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گفتگو کا مقصد اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرنا اور پریشرائز کرنا ہے اور انہیں یہ پیغام دینا ہے کہ میرے ساتھ آکر بات چیت کرو۔عمران خان کی سینئر صحافیوں کے ساتھ کی جانے والی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا ایسا لگتا ہے عمران خان کو اب بھی لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر ان کی کوئی حمایت موجود ہے اور وہ خود بھی کہتے ہیں کہ میرا لوگوں سے رابطہ ہے۔

حامد میر کا کہنا تھا جس طریقے سے سپریم کورٹ سے عمران خان کو ریلیف ملا ہے ٹھیک ہے وہ آئین اور قانون کے مطابق ہے لیکن جب عمران خان اپوزیشن میں تھے اور نواز شریف وزیراعظم تھے تو اس وقت جو سپریم کورٹ کے فیصلے ہوتے تھے ان کا آج کل کے فیصلوں سے موازنہ کریں تو آپ کو زمین اور آسمان کا فرق نظر آئے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سمجھ رہے ہیں کہ ابھی ان کی پوزیشن بڑی مضبوط ہے اور وہ بارگیننگ کرنے کی پوزیشن میں ہیں، انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کی سیاسی مقبولیت بڑھ گئی ہے اس لیے وہ اسٹیبلشمنٹ کو ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا جس طرح سے صدر عارف علوی نےپنجاب میں الیکشن کیلئے 30 اپریل کی تاریخ دے دی ہے، آج کل عارف علوی کو جو عمران خان کہتے ہیں وہ وہی کر رہے ہیں، پہلے وہ معاملات کو تھوڑا سا تاخیر کا شکار کر دیا کرتے تھے۔

حامد میر کا کہنا تھا عمران خان کی سینئر صحافیوں سے کی گئی گفتگو کا مقصد اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرنا، انہیں پریشرائز کرنا اور یہ پیغام دینا ہے کہ میرے ساتھ آکر بات چیت کرو ورنہ میں تمھارے ساتھ وہی کروں گا جو تھوڑے دن پہلے میں نے ایک افسر کا نام لیکر اس پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ان کا کہنا تھا عمران خان کی بلیک میلنگ کی اسٹریٹجی پہلے بھی کام کرتی رہی ہے اور شاید ان کا خیال ہے کہ اب بھی کام کرے گی،حالانکہ ان کی یہ بات بالکل غلط ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں ہیں، وہ بار بار اسٹیبلشمنٹ کا نام لیتے ہیں، کچھ حاضر سروس فوجی افسران کے نام پکار کر انہیں تنقید کرتے ہیں اس لیے میں عمران خان کی بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ ان کی کوئی لڑائی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ 3مارچ کو زمان پارک لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے میری کوئی لڑائی نہیں، لیکن ایسے لگتا ہے آرمی چیف مجھے اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہوں اب کوئی مجھ سے بات کرنے کو تیار نہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں لیکن کوئی یہ سمجھتا ہے کہ گھٹنے ٹیک دوں تو یہ نہیں ہو سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تو میں کیا کروں لیکن ملک کی بہتری کے لیے آرمی چیف سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔عمران خان نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ مجھ پر اور میری اہلیہ پر کرپشن کا ایک کیس ثابت کر دیں، آرمی چیف ہی میرے خلاف کوئی کرپشن کا کیس نکال لیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آرمی چیف مجھے اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ نہیں ہے کہ سیاست کیا ہوتی ہے، جنہوں نے میری حفاظت کرنی ہے مجھے ان سے ہی خطرہ ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے سابق آرمی چیف پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے میری کمر میں چاقو مارا۔انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) قمرجاوید باجوہ نے روس کی مخالفت میں تقریر کی، اس تقریر پر جنرل باجوہ کا کورٹ مارشل ہونا چاہئے۔

سی ٹی ڈی کی لاہور، سرگودھا میں کارروائیاں، 8 دہشتگرد گرفتار

Back to top button