عمران اور قریشی نے پاک امریکہ تعلقات کیسے برباد کئے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی انٹرا کورٹ اپیل منظور کرتے ہوئے 29 اگست کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیدیا ہے۔اس کے علاوہ عدالت نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کے تقرری کو درست قرار دے دیا ہے۔مختصر فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ سائفر مقدمے کے جیل ٹرائل کو اوپن کورٹ ٹرائل قرار نہیں دیا جا سکتا اس لیے اِس کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی ایسا قانون موجود نہیں جس کے تحت کسی مجسٹریٹ کو کسی خاص کمرے میں عدالتی کارروائی کے لیے پابند کیا گیا ہو لیکن غیر معمولی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جیل ٹرائل ممکن ہے بشرطیکہ اس کو اوپن کورٹ ٹرائل کی طرز پر کیا جائے۔ ان کیمرا ٹرائل بھی ممکن ہے لیکن اس میں قانون کو مدنظر رکھا جائے گا۔ دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سفارت خانے کی جانب سے 28؍ مارچ 2022ء کو وزارت خارجہ کو بتا دیا گیا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کا عوامی ریلی میں سائفر کے حوالے سے بیان کو ’’امریکا میں اچھا نہیں سمجھا جا رہا۔‘‘ امریکا کا یہ رد عمل عمران خان کے بیان کے فوراً بعد یعنی اگلے ہی دن سامنے آ چکا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ناظم الامور نے سائفر پر عمران خان کے بیان کے اگلے ہی دن وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار کو بھیجے گئے واٹس ایپ پیغام میں یہ درخواست بھی کی کہ وزیر خارجہ اور سیکریٹری خارجہ وہ دستاویز ہمارے ساتھ شیئر کریں جو لہراتے ہوئے پاکستانی سیاست میں امریکی مداخلت کے متعلق بات کہی گئی۔ فارن آفس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کا 27؍ مارچ 2022ء کو اسلام آباد میں عوامی ریلی میں دیے گئے بیان کو امریکی دارالحکومت میں اچھا نہیں سمجھا جا رہا۔ اسی دن یعنی 28؍ مارچ کو جب وزارت خارجہ سے امریکا کے سینئر سفارت کار نے رابطہ کیا تو وزیر خارجہ اور سیکریٹری خارجہ کو امریکی سفارت خانے کی جانب سے کیے گئے رابطے اور ان کی درخواست سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کسی کے ساتھ کوئی دستاویز شیئر نہ کی جائے۔ انصار عباسی کے مطابق اس وقت کے سیکریٹری خارجہ کو 8؍ مارچ 2022ء کو واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر نے امریکا کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور کے ساتھ 7؍ مارچ کو ہونے والی ملاقات سے آگاہ کیا۔ سفیر نے سیکریٹری خارجہ کو معاملے کی حساسیت سے آگاہ کیا اور کہا کہ انہوں نے سائفر ٹیلی گرام کی صورت میں ایک دستاویز وزارت کو بھجوائی ہے۔ اسی دن سیکریٹری خارجہ نے سائفر ٹیلی گرام کی نقول تمام متعلقہ حکام بشمول اس وقت کے سیکریٹری برائے وزیراعظم کو بھی ارسال کیں۔ سائفر کیس کی تحقیقات کے دوران ایف آئی اے کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے اپنے بیان میں سیکرٹری خارجہ نے کہا تھا کہ ’’27؍ مارچ 2022ء کو الیکٹرانک میڈیا پر یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی عوام سے خطاب کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی و ذاتی فائدے کیلئے موصول ہونے والے خط کا حوالہ دے رہے ہیں اور یہ تک خیال نہ کیا گیا کہ ریاست کا پورا سائفر سیکیورٹی سسٹم اور بیرون ملک پاکستانی مشن کا خفیہ مواصلاتی طریقہ داؤ پر لگ گیا۔ مزید یہ کہ عمران خان نے سائفر ٹیلی گرام کو عوام میں لہرایا اور اپنے خطاب میں سائفر ٹیلی گرام کے حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس کا نتیجہ بعد میں بیرونی ریاستوں کو فائدہ پہنچا۔ 28؍ مارچ 2022ء کو 2022 کو مجھے ایڈیشنل سیکرٹری (امریکا) کی طرف سے امریکی ناظم الامور کے ان کے ساتھ رابطے کے بارے میں ایک انٹرنل نوٹ موصول ہوا جس میں انہوں نے 27؍ مارچ کو عوامی جلسے میں عمران خان کے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس نوٹ کو وزیر خارجہ کو بھیجتے وقت میں نے مشورہ دیا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا اور عوامی ناراضگی سے بچنا سمجھداری کی بات ہے۔ اس مشورے کا مقصد ایک اہم ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو محفوظ بنانا اور خفیہ اور مراعات یافتہ مواصلات پر سیاست اور عوامی بحث کو روکنا تھا۔‘‘ تاہم اس مشورے پر عمل نہ کیا گیا
پنکی اور عمران کی سٹوری،میرے پاس تم ہو کا پارٹ ٹو قرار
۔
