ظل شاہ کے والد سے غیر انسانی سلوک پر عمران تنقید کا شکار

سابق وزیر اعظم کی بے حسی اور کم ظرفی اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب مرحوم علی بلال کے والد لیاقت علی نے نجی ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بیٹے ظل شاہ کے انتقال کے بعد انھیں بیٹے کی ڈیڈ باڈی حوالے کرنے کے بہانے زمان پارک لے جایا گیا اورپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے مرحوم کارکن ظلِ شاہ کی موت کے بعد انھیں گھر بلا کر ڈھائی گھنٹے انتظار کرایا اور پھر ان سے ملاقات کی۔عمران خان کی اس غیر انسانی حرکت کی ظل شاہ کے والد کی جانب سےانکشاف کے بعد سوشل میڈیا صارفین چیئرمین پی ٹی آئی کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا صارفین عمران خان کو مردار خور گدھ قرار دے رہے ہیں۔
اس بات کا دعویٰ ظلِ شاہ کے والد لیاقت علی نے ایک نجی ٹی وی کے انٹرویو میں کیا۔ظلِ شاہ کے والد لیاقت علی نے بتایا کہ بیٹے کے جاں بحق ہونے کی خبر ملنے کے 10منٹ بعد پی ٹی آئی کے لوگ ان کے پاس آ گئے تھے، پی ٹی آئی کارکنوں نے ان سے کہا کہ آؤ سروسز اسپتال چلیں، مگر وہ مجھے عمران خان کے گھر لے گئے۔لیاقت علی نے بتایا کہ وہاں پہنچ کر عمران خان نے ڈھائی گھنٹے انتظار کے بعد مجھے ملاقات کے لیے بلایا۔ظلِ شاہ کے والد لیاقت علی نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم انہیں تھانہ ریس کورس لے گئی جہاں انہوں نے ہی درخواست لکھی اور اس درخواست میں خود ہی نگران وزیراعلیٰ، آئی جی، ڈی آئی جی اور رانا ثنااللہ کو نامزد کر دیا، جب وہ نارمل ہوئے تو انہیں اندازہ ہوا کہ یہ کام تو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ 8 مارچ کو علی بلال عرف ظلِ شاہ کی موت واقع ہوئی تھی، پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ علی بلال پولیس تشدد سے جاں بحق ہوا۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں علی بلال کی موت کی وجہ تشدد سامنے آئی ہے جبکہ پولیس نے اسپتال چھوڑ جانے والے افراد کی تصاویر بھی جاری کی تھیں۔بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ظلِ شاہ کو اسپتال چھوڑ کر جانے والے دونوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے علی بلال کو لانے والی گاڑی کوبھی قبضے میں لے لیا اور حراست میں لیےگئے ملزمان میں عمر اورجہانزیب شامل ہیں۔لاہور میں پولیس نے ظلِ شاہ کی موت کو ٹریفک حادثہ قرار دے کر حقائق اور ثبوت چھپانے پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فعال کارکن علی بلال عرف ظل شاہ کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کی گتھی تحریک انصاف کی جانب سے اختیار کی گئی غیر سنجیدہ حکمت عملی کی وجہ سے پیچیدگیوں میں الجھتی دکھائی دے رہی ہے۔
عمومی تاثر یہ ہے کہ تحریک انصاف کسی قیمت پر علی بلال کی ہلاکت کو حادثہ تسلیم نہیں کرے گی اور روشن دن کو بھی اندھیری رات قرار دینے کی "سیاسی ضد” پر اڑی رہے گی۔ایسے حالات میں جب حالات موافقت میں نہ ہوں تحریک انصاف تحقیقاتی ادارے یا جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کو بھی قبول نہیں کرے گی اور پولیس کے خلاف حکومت کے زیر انتظام کسی بھی ادارے کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے اسی موقف پر قائم رہے گی کہ علی بلال کی ہلاکت پولیس تشدد سے ہوئی لیکن اس سوال کا جواب اس کے پاس موجود نہیں کہ تشدد کا یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا؟تحریک انصاف پولیس کے اس مؤقف کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکی جس میں سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے کی علی بلال کی ہلاکت تحریک انصاف کے ایک صوبائی لیڈر راجہ شکیل کی ڈبل کیبن کی ٹکر سے ہوئی اور اسی گاڑی میں اسے تاخیر سے ہسپتال پہنچایا گیا۔
دوسری جانب پولیس حکام کے مطابق پولیس نے بلال کو تحریک انصاف کے چند کارکنوں کے ہمراہ حراست میں لے کر پولیس کے ڈالے میں سوار کیا تھاتاہم علی بلال سمیت حراست میں لئے گئے افراد راستے میں ہی موقع پاکر ایک ایک کرکے فرار ہوگئے تھے۔ حادثے کے بعد پولیس نے فرار ہونے والوں میں سے دو کو گرفتار کرلیا تھا جنہوں نے یہ گواہی دی ہے کہ فرار کے بعد بلال بالکل ٹھیک تھا۔ بلال کے والد نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے بیٹے نے ٹیلیفون پر اپنی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔ بلال کے والد لیاقت علی نے منصور علی خان کے پروگرام میں بتایا "4:35 بجے شام کسی نمبر سے بلال کا فون آیا جو میرے بڑے بیٹے نے سنا۔ بلال نے بتایا کہ وہ گرفتار ہو گیا ہے، جلد آجائے گا لیکن امی ابو کو نہیں بتانا۔اس کے بعد 7:31بجے رات فون آیا کہ آپ کا بیٹا شہید ہوگیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ شہادت کیسے ہوئی۔”
دوسری طرف پولیس نے راجہ شکیل اور جہانزیب سمیت بیشتر افراد کو حقائق چھپانے اور زخمی کو تاخیر سے ہسپتال پہنچانے کی وجہ سےاس کی موت کا سبب بننے کے الزامات میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزموں نے اعتراف جرم کر لیا ہے اور یہ بھی تسلیم کر لیا ہے علی بلال کی موت ان کی گاڑی کی ٹکر سے واقع ہوئی ہے۔توقع ظاہر کی جا رہی ہے یاسمین راشد کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔
اس کے لئے تھانہ سرور روڈ میں ایک علیحدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔سیاسی مخالفین تحریک انصاف کی جانب سے رچائے گئے اس ڈرامے کو "نابالغ سیاست کی ایک مثال” گردانتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پارٹی ایسے غیرنظریاتی گروپوں کا ملغوبہ ہے جو صرف اقتدار حاصل کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھے ہوئے ہیں۔یہ بات عمران خان کی گرفتاری کے بعد چوہدری پرویز الہٰی، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کے درمیان ہونے والی رسہ کشی کی صورت میں واضع ہو گی۔ اس رسہ کشی میں پرویز خٹک،فواد چوہدری، اعظم سواتی اور مراد سعید بھی شامل ہیں۔
