عمران خان اپنی گرفتاری سےخوفزدہ کیوں ہے؟

5 مارچ کو جھوٹ اور بہانے بازی سے عمران خان کو گرفتاری سے بچانے والی تحریک انصاف کی قیادت کو اس وقت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخی کی درخواست خارج کر دی۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان اپنی گرفتاری سے گریزاں کیوں ہیں۔ ناقدین سوال کر رہے ہیں کہ عمران خان کے قول و فعل میں تضاد کیوں ہے؟ایک طرف عمران خان جیل بھرو تحریک کا اعلان کرتے ہیں کارکنان اور پارٹی قیادت کو گرفتاریوں کی ترغیب دیتے ہیں تاہم اسی وقت وہ گرفتاری سے بچنے کیلئے عدالتوں میں دربدر بھٹکتے نظر آتے ہیں۔  قانون کی عملداری کے دعوے کرتے ہیں اور خود کسی قانون اور آئین کو ماننے کو تیار نہیں۔

5مارچ کو توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیلئے اسلام آباد پولیس کی آمد پر عمرانڈوز کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو ہراساں کرنے اور قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے پر بھی عمران خان سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین عمران خان کی ممکنہ گرفتاری پر تبصرے کر رہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’شیر بے گناہ بھی ہو تو بیٹی کا ہاتھ تھام کر لندن سے پاکستان آ کر گرفتار دیتا ہے اور گیدڑ چور ہو تو گرفتاری سے ڈر کر دوسروں کی بیٹیوں کو ڈھال بناکر چھپ جاتا ہے۔‘

بروکن نیوز نامی مزاحیہ اکاؤنٹ نے عمران خان سے منسوب کرکے لکھا ’میں کسی سے نہیں ڈرتا، بس پولیس کو دیکھ کر تھوڑا شرما جاتا ہوں۔شہزاد غیاث شیخ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’جن لوگوں نے تاریخ نہیں پڑھی وہ کہتے ہیں کہ عمران خان عدالتوں میں جتھے اس لیے لاتے ہیں کیونکہ وہ واحد لیڈر ہیں جو لا سکتے ہیں۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’یقین کیجیے بھٹو اور شریف اگر جتھوں کو عدالت لانے چاہتے تو عمران خان کے مقابلے میں 10 گُنا بڑے لا سکتے تھے۔محسن حجازی نے لکھا ’خان صاحب فی الحال گرفتاری دے دیں، بعد میں چاہے رپورٹیں بنواکر چلے جائیں۔ اس میں کیا ہے؟

عمران خان کا زمان پارک میں خطاب کے دوران یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد جانے سے اس لیے بھی گریزاں ہیں کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سید حسین نے سوال کیا ’سر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن مہم زمان پارک سے چلائیں گے؟

عمران خان کی گرفتاری کے لیے پولیس کے ان کی رہائشگاہ پہنچنے کی خبریں سامنے آنا شروع ہوئیں تو ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے اس پر بحث شروع کر دی۔ ایک جانب پی ٹی آئی کے فینز نے عمران خان کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا تو دوسری جانب بہت سے صارفین نے عمران خان کو قانون پر عمل کر کے سرخرو ہونے کے مشورے دینا شروع کر دیئے۔

اسلام آباد پولیس نے عمران خان کی گرفتاری سے گریزاں ہونے سے متعلق ٹویٹ کی اور لکھا کہ ’ایس پی صاحب کمرے میں گئے ہیں مگر وہاں عمران خان موجود نہیں۔‘اسلام آباد پولیس کی جانب سے کی جانے والی اس ٹویٹ کو صارفین نے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔

ثوبیہ نامی ٹوئٹر صارف نے جواباً اس صورتحال کو نازک قرار دیا اور لکھا کہ ’جنھوں نے بھیجا وہ ٹوئٹر پر بھڑکیں مارتے ہیں کہ گرفتار کرنے گئے ہیں اور جو آئے ہیں وہ عوام کا سمندر دیکھ کر دھیمی سی آواز میں کہتے ہیں ہم تو صرف نوٹس دینے آئے ہیں۔ شاہ خالد خان ہمدانی نامی ایک صارف نے اسلام آباد پولیس کی اس ٹویٹ کے بعد صورتحال کو ایک مصرعے میں کچھ یوں بیان کیا کہ ’ہم گئے صنم سے ملنے، صنم نہ ملا۔

بعض صارفین نے اسلام آباد پولیس کے حکام کی محدود تعداد کو ان کی نا مکمل تیاری کہا اور یہ بھی لکھا کہ ان کے خیال میں یہ محض سمن دینے اور ان کی سات مارچ کو عدالت میں پیشی کو یقینی بنانا ہے۔فرحان احمد خان نامی صارف نے اس صورتحال پر لکھا کہ عمران خان کی گرفتاری ہونے کی صورت میں ممکنہ طور پر تحریک انصاف کے کارکنوں کا رد عمل کیا ہو گا۔ اس کے لیے انھوں نے تین آپشنز بھی سامنے رکھ دیں۔

عمران خان کی گرفتاری ہونے یا ہونے سے متعلق بحث میں کچھ صارف ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کی تعمیل میں عمران حان کی گرفتاری اگر ضروری بھی ہے تو یہ عمل کیمروں کے سامنے نہ کیا جانا مناسب ہے تاکہ افراتفری نہ پھیلے۔

عمران خان کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پر جہاں مسلسل ملی جلی بحث جاری ہے وہیں اس دوران کئی صارفین ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی جیسے سنجیدہ مسائل موجود ہیں اور اس وقت ملک کو اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ہر طبقہ بد ترین مہنگائی سے پریشان ہے تاہم ہر روز کوئی نہ کوئی ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔

حج پالیسی 2023 کا اعلان، ایک لاکھ 79 ہزار عازمین فریضہ ادا کرینگے

Back to top button