عمران کی گرفتاری اور پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دینے کا امکان

ماضی قریب میں مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے کو باعث شرم قرار دینے والے عمران خان نے خود کو سیاسی یتیمی سے بچانے کیلئے سیاسی ڈائیلاگ سے ملکی معاملات آگے بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بیٹھنے والا ٹائم عمران خان گزار چکے ہیں، اب حکومت اور عمران خان کے مابین سیدھی سیدھی لڑائی شروع ہو چکی ہے، اس تصادم کا سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوگا اور اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔اب عمران خان کو گرفتاری اور تحریک انصاف کو پابندی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ میں پی ڈی ایم جماعتوں سے مذاکرات کرنے اور سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہوں اور اپنے اوپر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو بھی ملک کی خاطر معاف کرنے کے لیے تیار ہوں۔ سول سوسائٹی نمائندوں کی جانب سے مجوزہ کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے والے سول سوسائٹی کے نمائندے امتیاز عالم نے بتایا کہ عمران خان حریف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ سول سوائٹی کے وفد نے عمران خان کو بتایا کہ انتخابی عمل کے وہ اکیلے اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے مابین اعتماد سازی کے لیے سول سوسائٹی صرف ’سیاسی مذاکرات کے لیے ایک ثالث‘ ہے اور سیاسی جماعتوں کو اس طرح کے اختلافات دور کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف عمران خان کی مفاہمت پر مبنی پالسی بارے سینئر صحافی حسن ایوب کا کہنا ہے کہ اب عمران خان کی مفاہمت پسندی کا کوئی فائدہ نہیں۔ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بیٹھنے والا ٹائم عمران خان تکبر میں ضائع کر چکے ہیں، اب حکومت اور عمران خان کے مابین بہت خطرناک لڑائی ہونے جا رہی ہے۔ اس تصادم کا سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوگا اور اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ریاست کو اپنے متشدد اور شرپسندانہ رویے سے چیلنج کرنے والے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کوکو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ انہوں نے خود دی ہے۔ کوئی معجزہ ہی انہیں اس سے بچا سکتا ہے۔ نیا دور ٹی وی کے ٹاک شو ‘خبر سے آگے’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے طرز عمل میں آج کافی بہتری نظر آئی ہے۔ وہ لاؤ لشکر کے ساتھ عدالت نہیں آئے اور وقت سے پہلے پہنچ گئے تھے۔ کیونکہ عمران کے ماضی کے طرز عمل سے عوام کے سامنے یہی میسج جا رہا تھا کہ ججوں کا عمران خان کے متعلق اور رویہ ہے اور باقی عوام سے متعلق اور۔

دوسری طرف سینیئر صحافی ناصر بیگ چغتائی نے کہا کہ وقت پر انتخابات ہونے والے حالات نظر نہیں آ رہے۔ الیکشن وقت پر نہیں ہوتے تو آرٹیکل 254 اس بارے میں بھی رہنمائی کرتا ہے کہ جو چیز وقت پر نہ ہو سکے ضروری نہیں وہ کبھی بھی نہ ہو، اسے جب بھی کر لیا جائے وہ درست ہے۔ جو کچھ زمان پارک میں ہوا وہ منی سول وار جیسا تھا۔ حیرت ہے جو آدمی عوام سے بار بار کہہ رہا ہے خوف کے بت کو توڑیں اسے اب اپنی سکیورٹی کم ہونے کا خوف لاحق ہے۔

دانش خان نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ سالوں میں جب بھی الیکشن ہوئے ہیں تمام پارٹیوں کو ان میں حصہ لینے کا مساوی موقع نہیں ملا۔ موجودہ انتخابات میں لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو روکا جائے گا۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ ملٹی پارٹی ڈیموکریسی نہیں ہونی چاہئیے بلکہ ایک ہی مضبوط لیڈر ہونا چاہئیے جس کے ہاتھ میں طاقت ہو۔ اگر عمران خان جیت جاتے ہیں تو وہ اسی طرح کا نظام لانا چاہیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ اشرافیہ کے اندر جنگ چل رہی ہے کہ کون اقتدار میں رہے گا اور عوام کو نظریے کے نام پر بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ عمران خان ابھی بھی صرف ذاتی مفادات کی بات کر رہے ہیں سویلین سپریمیسی کی بات نہیں کر رہے۔بیرسٹر اویس بابر نے کہا کہ نیب قوانین میں جو حالیہ ترامیم ہوئی ہیں ان کے سب سے بڑے بینیفشری عمران خان خود ہیں۔ اس سے قبل نیب کسی کو ضمانت نہیں دیتا تھا اب دیتا ہے اور اب نیب کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت کے لئے عمران خان عدالت میں جیسے رجوع کر رہے ہیں وہ نیب ترامیم کا ثمر ہے۔مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ پاکستان کے عوام پی ٹی آئی جیسی فاشسٹ جماعت کو اقتدار میں واپس لائیں گے تو نتیجہ بھی انہی کو بھگتنا پڑے گا۔

پارلیمنٹ عمران کیخلاف فیصلہ کن آپریشن کی اجازت دے

Back to top button