کیا انتخابی کامیابی کے بعد عمران خان رہا ہو سکتے ہیں؟

عام انتخابات میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد اراکین کی بڑی تعداد میں فتح کے بعد پاکستان میں بہت سے لوگ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا انتخابی کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان رہائی پا سکیں گے؟
پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق ملکی انتخابات کے نتائج سے مقتدر حلقوں اور عدلیہ تک واضح پیغام پہنچ چکا ہے۔ عوام نے کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جبر اور نا انصافیوں کے خلاف ووٹ دیا ہے: ”اب عمران خان کے خلاف ناجائز طور پر بنائے گئے مقدمات ختم ہونے چاہییں اور انہیں فوری طور پر رہائی ملنی چاہیے تاکہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہوئے ملکی مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اگر عمران خان کو رہا نہ کیا گیا تو حالات مزید خراب ہونگے، پارلیمنٹ نہیں چل سکے گی اور ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ سکے گا۔‘‘ اس حوالے سے سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان ریاستی سربراہ ہیں وہ آئین کے تحت کسی کی بھی سزا معاف کر سکتے ہیں: ‘اگر اصلاح احوال چاہتے ہیں تو عمران خان کی رہائی کی کارروائی فوری طور پر شروع کی جانی چاہیے۔
دوسری جانب ممتاز تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی کے مطابق اس طرح کے عوامی یعنی انتخابی فیصلے سے ہر ادارہ متاثر ہوتا ہے اور عوام کی اتنی بڑی اکثریت کی رائے کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے: ”پاکستان جیسے ملک میں چہرے اور حالات بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ اب الیکشن سے پہلے کی طرح کی صورتحال کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی والے اب چپ کر کے نہیں بیٹھیں گے اور ان کے دباؤ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ آہستہ آہستہ صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوجائے گی لیکن عمران خان کی رہائی میں ابھی کافی وقت لگ سکتا ہے۔‘‘
ایسے حالات میں سیاسی مبصرین پی ٹی آئی کو بڑی تعداد میں ملنے والے ووٹوں کو بنیادی طور پر ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے لیے پیغام قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ رائے دہندگان نے جس طرح پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ووٹ دیا ہے وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے پیغام ہے کہ ان کی پالیسیاں عام لوگوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کو یہ انتخابی کامیابی ایسے وقت میں ملی ہے جب پارٹی کے بانی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان اپنی سیاہ کاریوں کی وجہ سے گزشتہ کئی ماہ سے جیل میں ہیں اور ان پر چلنے والے متعدد مقدمات میں سے تین میں انہیں اور ان کی اہلیہ کو سزائیں بھی ہوچکی ہیں۔جماعت کی دیگر قیادت اور کارکنان کو نو مئی 2023 کے بعد کریک ڈاؤں کا سامنا ہے۔ انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے کئی سینئر رہنما مبینہ ریاستی دباؤ میں پارٹی سے راہیں الگ کرچکے تھے اور پارٹی انتخابی نشان سے بھی محروم ہوچکی تھی۔انتخابی نشان نہ ملنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیا تھا۔ ان امیدواروں کے لیے کسی دوسری جماعت کی حمایت کرنے پر کوئی قانونی قدغن نہیں ہے۔نتائج کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت قومی اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی ہے۔ اس لیے حکومت بنانے کے لیے آزاد امیدواروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ایسے حالات میں پی ٹی آئی کے رہنما ولید اقبال نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی جماعت کے آزاد امیدواروں کی وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے لیے دھونس، دھمکی اور لالچ سمیت کئی طریقے آزمائے جا سکتے ہیں۔
اگرچہ پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن پی ٹی آئی اپنے آزاد امیدواروں کے ساتھ بھی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ وفاق میں عددی برتری ہونے کے باجوود پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے امکانات نظر نہیں آتے۔
حسن عسکری رضوی کے مطابق پی ٹی آئی کی حیران کُن انتخابی کامیابی ممکنہ طور اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کمزور نہیں کرسکے گی اور نہ ہی اسے اتحادی حکومت بنانے دی جائے گی۔ موجودہ حالات میں وہ اسٹیبلشمنٹ کے رویے میں پی ٹی آئی کے لیے کسی لچک یا مفاہمت کا امکان نہیں دیکھتے۔
ایسے حالات میں مبصرین کا خیال ہے کہ انتخابات کے بعد ایک بار پھر پاکستان کو بے یقینی کے ایک طویل دور کا سامنا ہوسکتا ہے۔مائیکل کوگلمین کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ کچھ برس جیل میں رکھ کر عمران خان کے جن کو بوتل میں بند کیا جاسکتا ہے لیکن اس طرح کرنے سے پی ٹی
آئی کے حامیوں کا غم و غصہ بڑھے گا اور چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگا۔
