پارلیمنٹ عمران کیخلاف فیصلہ کن آپریشن کی اجازت دے

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے الیکشن ایک ہی روز ہونے چاہئیں، تمام مرحلہ نگران سیٹ اپ کی نگرانی میں مکمل کیا جانا چاہئے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جناب چیف جسٹس صاحب آپ مداخلت کیوں کریں گے، آپ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے انتخابات کا اعلان کیا ہے، ہم ٹکٹوں کے لیے درخواستیں طلب کر چکے ہیں لیکن کیا فری اینڈ فئیر الیکشن کی زمہ داری صرف پارلیمنٹ کی ہے؟ جب ہم کہہ رہے ہیں کہ اس سے افراتفری کا خدشہ ہے تو کیا اس پر غور نہیں کیا جا سکتا؟
‘
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کیا آڈیو لیکن جو ہوئی ہیں تو علی افضل سپاہی کا کوئی وجود نہیں ہے؟ کیا اس کی تحقیق نہیں ہونی چاہئے؟ کیا دو بیٹوں کی کہانی نہیں ہے؟ ان بیٹوں کی کہانی زبان زد عام ہے، علی سپاہی کی کہانی زبان زد عام ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’تین بنیادی نقاط پر رہنمائی کی ضرورت ہے، سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جو اس وقت سیاسی، انتظامی اور عدالتی بحران ہے اور یہ بحران پیدا کیا جا رہا ہے، مسلسل کوشش ہو رہی ہے، ایک ہی شخصیت پر بات رکتی ہے یا اس کے ساتھ جتھے پر ذمہ داری پڑتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سیاسی، انتظامی اور عدالتی بحران جو پیش ہے یہ بحران نہ تھا اور نہ ہی ہے، لیکن ہر روز کوشش کی جاتی ہے۔ ایک جماعت اس کا لیڈر عمران خان 2014
سے بحران پیدا کرنے کی کوشش میں ہے۔
