خان کے "ایبسلوٹلی ناٹ” کے ڈرامے کا پول کھل گیا

اپنی اقتدار سے بے دخلی کا الزام امریکہ پر عائد کرنے والے سابق وزیر اعظم عمران خان نے اب امریکی حکام سے تعلقات کو بہت بنانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ عمران خان اب نہ صرف امریکی حکام پر الزام تراشیوں سے پیچھے ہٹ چکے ہیں بلکہ تازہ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی اور امریکی حکومت کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے ماہرانہ خدمات کی فراہمی کیلئے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے امریکی کنسلٹنٹ فرم سے معاہدے کا انکشاف ہوا ہے۔ معاہدے کے تحت امریکی فرم پی ٹی آئی کو امریکی حکومت اور اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے ماہرانہ خدمات فراہم کر گی جبکہ کنسلٹنٹ فرم پی ٹی آئی قیادت کی بااثر امریکی شخصیات کیساتھ ملاقاتوں کا اہتمام بھی کریگی۔ کنسلٹینسی ’فرم پرییا‘ ان ملاقاتوں کیلئے مواد بھی فراہم کریگی جبکہ فرم کے ساتھ معاہدہ 15 فروری سے 6 ماہ تک رہیگا اور بوقت ضرورت معاہدے میں 31 جنوری 2024 تک توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ معاہدے کی رو سے پی ٹی آئی بطور ’کلائنٹ‘ فرم کو 8 ہزار 300 ڈالر ماہانہ دینے کا پابند ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی امریکا اور فرم میں معاہدہ فروری میں کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر پاکستان تحریک انصاف اور فرم کے درمیان معاہدہ 6 ماہ کے لیے کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے امریکہ سے تعلقات کی بہتری کیلئے امریکی فرم کے ساتھ معاہدے کے انکشاف کے بعدسیاسی جماعتوں کے قائدین اور تجزیہ کاروں کی طرف سے تنقید کا سلسلہ جاری ہےسابق سفیر حسین حقانی نے لابنگ فرم سے معاہدے پر پی ٹی آئی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ایک بیان میں حسین حقانی نے کہا کہ اندرون ملک بیانیہ ہے کہ امریکا سے حقیقی آزادی چاہیے، اُدھر امریکا میں لابسٹوں کو ڈالروں میں ادائیگیاں جاری ہیں۔حسین حقانی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی پی ٹی آئی نے امریکا میں ایک اور لابسٹ ہائر کرلیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اپنی حکومت کے گرانے کا الزام امریکہ پر لگانے والا عمران خان آج امریکہ سے معافیاں مانگ رہا ہے معافی نہ ملنے پر اب عمران خان لابنگ فرمز کے ذریعے اپنے ہینڈلرز کو سامنے لے آیا ہے۔ مریم اورنگزیب کا زلمے خلیل زاد کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زلمے خلیل زاد کے بیان سے امریکی سازش اور امپورٹڈ رجیم کی اصلیت سامنے آگئی ہے، جیوش لابی اپنا اسٹوج بچانے کے لئے سامنے آ چکی ہے، فارن فنڈنگ کے مجرم کے ہینڈلرز سامنے آتے جا رہے ہیں، فارن فنڈنگ کا نیکسس بے نقاب ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پی ٹی آئی کی طرف سے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔پی ٹی آئی نے 6 ماہ کے لیے 25 ہزار ڈالر ماہانہ پرلابنگ فرم فینٹن آرلوک کی خدمات حاصل کی تھیں اور معاہدے کے مطابق کمپنی کو آرٹیکلز چھپوانے، پی ٹی آئی نمائندوں اور حمایت کرنے والوں کے ٹی وی انٹرویوزکا اہتمام کرنے اور پی ٹی آئی کو پبلک ریلیشنز سروسز فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اپریل 2022میں تحریکِ عدم اعتماد کے بعد اقتدار سے الگ ہونے کے بعد عمران خان اور تحریکِ انصاف کے دیگر رہنما اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے رہے ہیں، جس کے بعد کے نام سے ایک مہم بھی شروع کی گئی اور یہ نعرہ آج بھی گاڑیوں پر لکھا نظر آتا ہے۔ تاہم بعد میں عمران خان نے اپنے بیانیے سے یوٹرن لے لیا تھا اور حالیہ بیانات میں وہ امریکہ کی بجائے فوج کو اپنی معزولی کا محرک قرار دے رہے ہیں اور امریکہ سے تعلقات کی بہتی کیلئے کوشاں ہیں۔

دوسری جانب موجودہ سیاسی بحران کے دوران بھی پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلق کبھی محبت اور کبھی نفرت میں بدلنے کا سلسلہ جاری ہے، عوامی سطح پر اپوزیشن اور حکمران جماعتیں دونوں کوشش کر رہی ہیں کہ وہ امریکا سے تعلق قائم کرنے کے لیے زیادہ بےچین دکھائی نہ دیں لیکن نجی سطح پر دونوں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ’امریکا ہمارے ساتھ ہے‘۔تاہم  امریکا اور خاص طور پر بائیڈن انتظامیہ دونوں یعنی حکومت پاکستان اور اپوزیشن سے محتاط فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہے، محکمہ خارجہ کے عہدیداروں سے جب پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا رہنما کی نہیں جمہوریت اور جمہوری طرز عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

کیا واقعی عمران خان کی جان کو خطرہ ہے؟

Back to top button